MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کھاد کے متوازن استعمال کا فصلوں کی پیداوار میں کردار

2 304

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

خرم شہزاد خٹک

- Advertisement -

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ انحصار زراعت پر ہے۔ اس خطہ کو اللہ پاک نے چار موسموں اور سمندر سے لیکربرفانی جغرافیہ سے نوازا ہے۔ بڑھتی آبادی کے پیش نظر خوراکی پیداوار میں خود انحصاری اور یقینی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے۔(Food Security & Self Sufficiency) یعنی موجودہ دور اور مستقبل کا سب سے اہم مسئلہ اور اس کے اہداف پورے کرنا تمام متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔ کووڈ 19 وبا کے دوران ایک بات مزید واضح ہو گئی ہے کہ زرعی معیشت اور زرعی خود کفالت والے ممالک ان حالت
سے کم متاثر ہوئے ہیں۔ہیں۔خوراک کی بڑھتی مانگ کے پیش نظر نہ صرف زرعی اجناس بلکہ زرعی مداخل کی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ریکارڈ کی گئیں۔قدرتی وسائل سے مالا مال زرعی ملک ہونے کے باوجود ہمارے ہاں فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار عالمی پیداوار اور اہم زرعی ممالک کے مقابلے نہایت کم ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں نہ صرف بہت سارا رمبادلہ گندم، کپاس ، چنا، خوردنی تیل اور دیگر زرعی اجناس کی درآمد پر خرچ کرنا پڑتا ہے بلکہ ہمارا تجارتی توازن بھی درآمدات کی وجہ سے بگڑ جاتا ہے۔ حالیہ سیزن میں گندم کی کم پیداوار سے پاکستان کو تقریباً 3 ملین ٹن گندم درآمدکرنا پڑ رہی ہے جس پر عالمی منڈی میں گندم کی موجودہ قیمت کے لحاظ سے تقریباً 285 ارب روپے خرچ ہوں گے۔اس کے برعکس فی ایکڑ اچھی پیداوار کی بدولت برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ کی گنجائش موجود ہے۔اپٹما کے مطابق کپاس کی اچھی پیداوار سے تقریباً 14 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان چاول کی برآمدات سےسالانہ تقریباً 400 ارب روپے سے زائد زرمبادلہ کماتا ہے جس میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
پیداوار میں کمی کی اہم وجوہات میں موسمیاتی تبدیلیا ں ، صحت مند بیج کی غیردستیابی ، پانی کی کمی کے ساتھ ساتھ غیر متوازن کھادوں کا استعمال سب سے بڑی وجہ ہے۔کیونکہ فصلوں کی پیداوار میں کھادوں کا کردار 50 فیصد سے زائد
ہے۔ زرعی برآمدات کو بڑھانے اور دارآمدات کو کم کرنے کے لیے فصلوں کی پیداوار میں اضافہ اور کوالٹی میں بہتری ناگزیر ہے جو کہ 4 آر حکمت عملی (4R Nutrient Stewardship) کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن کھادوں کے استعمال سے ممکن ہے۔پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سےسب زیادہ متاثرہ 10 ممالک کی فہرست میں شامل ہے۔ متوازن کھادوں کے استعمال سے یعنی موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی کافی حد تک نمٹا جا سکتاClimate Change ہے۔فوجی فرٹیلائزر کمپنی بھی قومی ذمہ داری کے تحت کھادوں کے متوازن استعمال کو فروغ دینے کے لیے ہمیشہ سے کوشاں ہے ۔ کیونکہ 4 آر نیوٹرینٹ سٹیورڈ شپ کے عملی اختیار کے بغیر فصلوں سے بھرپور اور کوالٹی پیداوار نا ممکن ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت کاشتکاروں کو کھادوں کے متوازن استعمال کے 4 بنیادی اصول یعنی صحیح کھاد کا انتخاب، کھاد کی صحیح مقدار، صحیح وقت پر استعمال اور صحیح طریقہ استعمال سے متعلق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔ ۴آر حکمت عملی کےتحت کاشتکاروں کی راہنمائی کی جاتی ہے کہ ہر فصل کو 17 خوراکی اجزاء کی لازمی ضرورت ہوتی ہے۔ان میں سے ہماری زمینوں میں 3 اجزائے کبیرہ نائٹروجن، فاسفورس ،پوٹاش اور 2 اجزائے صغیرہ زنک اور بوران کی کمی واقع ہوچکی ہے۔ مارکیٹ میں دستیاب سونا یوریا، سونا ڈ ی اے پی ، ایف ایف سی ایس او پی /ایم او پی کھاد یں اجزائے اجزائے کبیرہ فراہم کرنے کا نہایت مو ثر اور سستا ذریعہ ہیں۔ اسی طرح سونا زنک (زنک سلفیٹ ) اورسونا بوران (بوریکس )کھا د اجزائے صغیرہ کی فراہمی کےبہترین ذرائع ہیں۔ فوجی فرٹیلائزر کمپنی پورے ملک میں نہ صرف یہ
خوراکی اجزا کھادوں کی شکل میں فراہم کررہی ہے بلکہ کاشتکاروں کو اپنی 5 جدید لیبارٹریوں سے مفت مٹی اور پانی کے تجزیہ کی سہولت بھی فراہم کر رہی ہے۔تاکہ کاشتکار سفارشات کی روشنی میں کھادوں کا متوازن استعمال فصل کی نشوونما کے ضروری مراحل پر صحیح طریقہ اپناتے ہوئے خوراکی اجزا کا صحیح تنا سب میں وقت پر استعمال یقینی بنائیں۔
این ایف ڈی سی ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں این پی کے خوراکی اجزا ءکا 3.02:1:0.056 تناسب سے کھادوں کا استعمال ہو رہا ہے جو کہ سفارش کردہ تناسب 2:1:0.5 کے برعکس غیر متوازن ہے۔جبکہ دنیا میں این پی کے کھادوں کے استعمال کا تناسب 2.48:1:0.86 ہے۔ہمارے کاشتکار متوازن کھاد کی بجائے زیادہ تر نائیٹروجنی یعنی یوریا کھاد پر انحصار کرتے ہیں ۔ فاسفورس ، پوٹاش،زنک اور بوران کی کمی سے فصل کی پیداوار اور اجناس کی کوالٹی شدید متاثر ہوتی ہے۔ کیونکہ ہر ایک خوراکی جزو دوسرے اجزا سے مل کر فصل کو نا مساعد حالت کے خلاف قوت مدافعت مہیا کرتا ہے اورکولٹی پیداوار میں اضافہ کا سبب ہے۔ امسال گندم کی کم پیدوار کی بہت بڑی وجہ گزشتہ سیزن ڈی اے پی کھاد کا کم استعمال ہے کیونکہ فاسفورسی کھادوں کے بغیر ہم فصلوں سے بھرپور جھاڑ حاصل نہیں کر سکتے۔ اور اس کا خمیازہ ہمیں 3 ملین ٹن گندم کی درآمد یعنی 285 ارب روپے کے کثیر زرمبادلہ خرچ کرنے کی صورت میں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ پاکستان میں اس وقت 84 کلو گرام این پی کے فی ایکڑغیر متوازن کھادوں کی شکل میں استعمال ہو رہا ہے۔ جبکہ اسی مقدار کو 4 آر حکمت عملی کے تحت متوازن کرنے سےفصلوں کی پیداوار اور کوالٹی میں خاطر خواہ بہتری لائی جا سکتی ہے۔جس طرح ربیع سیزن میں گندم کی پیداوار ڈی اے پی کے کم استعمال سے متاثر ہوئی ہے خدشہ ہے کہ ڈی اے پی کھاد کے کم استعمال سے خریف کی اہم نقد آور فصلات کی پیداوار بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں موسمی حالات اور پانی کی شدید کمی کے پیش نظر ڈی اے پی کا سفارش کردہ مقدار سے کم استعمال پیداوار کو مزید متاثر کر سکتا ہے اور اس کے پاکستان کی مسائل میں گھری معیشت پر برے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں کیونکہ خریف سیزن کی اہم نقد آور فصلوں کپاس ، کماد ، دھان کے علاوہ پھلوں میں آم، سیب اور انگور کی پیداور کا تعلق ملکی زراعت کی ترقی اور معیشت سے منسلک ہے ۔ عمومی طور پر کاشتکار ڈی اے پی کھاد کی بڑھتی قیمت کی وجہ سے نفسیاتی طور پرکم استعمال کر رہے ہیں جبکہ اجناس کی بڑھتی عالمی قیمتوں کے اثرات سے پاکستانی کاشتکار بھی مستفید ہو رہے ہیں۔ کاشتکاروں کو یہ باور کرایا جا تا ہےکہ فصل کاشت کے وقت ڈی اے پی کھاد کی قیمت کی نسبت برداشت کے وقت اجناس کی قیمت مسلسل زیادہ بڑھ رہی ہیں ۔ کاشتکار آدھی سے ایک بوری ڈی اےپی کے کم استعمال سے صرف چند روپے کی بچت کرتے ہیں اور فصل کی 25 سے 40 فیصد کم پیداوار سے منافع میں کئی گنا کمی کا سامنا کرتے ہیں۔ جس سے نہ صرف انکی آمدن میں کمی ہوتی ہے بلکہ ملکی پیداواری اہداف بھی متاثر ہوتے ہیں اور ملک کو زرعی برآمدات کی بجائے درآمدات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا کاشتکار حضرات سے گذارش ہے کہ وہ خریف کی فٖصلات میں محکمہ زراعت کی تجویز کردہ سفارشات کے مطابق ڈی اے پی کھاد کا استعمال کرکے پیداوار میں اضافے کو یقینی بنا کر ملکی معیشت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ فوجی فرٹیلائزر کمپنی اس ضمن میں کاشتکاروں کو منافع بخش زراعت کے اصولوں اور متوازن کھادوں کے استعمال سے بہتر پیداوار کے حصول پر دیگر متعلقہ اداروں سے مل کر آگاہی فراہم کرتی رہے گی تا کہ کاشتکار متوازن کھادوں کی سفارشات پر عمل پیرا ہو کر اپنے فارم کی آمدن کے ساتھ ساتھ ملکی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافہ میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

2 Comments
  1. […] و افادیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ روزانہ ایک سیب کا استعمال انسانی صحت کے لیے کتنا مفید ہے . ماہرین غذائیت کے مطابق […]

  2. […] نیوز)اپنی غذا میں انگور کو شامل کرکے آپ دماغی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرسکتے ہیں کیونکہ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.