پاکستان کے ادارے تباہ حال کیوں…؟
تحریر: جاوید صدیقی
معروضِ پاکستان کے وقت اور بعد پاکستان کے انتظامی امور اور تروقی میں سب سے زیادہ کلیدی کردار بیوروکریٹس کا تھا اس کی بڑی وجہ وہ ماہرین اور تعلیم یافتہ لوگ تھے جو بھارت کے مختلف شہروں صوبوں سے ہجرت کرکے پاکستان آکر آباد ھوئے ان میں بہت بڑی تعداد علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کی تھی جو بہترین تعلیم یافتہ ھونے کے سبب پاکستان میں بیوروکریٹس کے منصب پر ایماندارانہ مخلصانہ سچائی لگن محنت اور درست سمت میں اپنے فرائضِ منصبی کو ادا کرتے تھے۔ وقت کے بیتنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کے اندر غداروں سہولتکاروں اور ایجنڈوں کی کارفرمائیاں بڑھتی چلی گئیں۔ پاکستان مخالف قوتوں کے ان غلاموں نے پہلے قوم میں نفرت تعصب لسانیات اور اقربہ پروری کو پروان چڑھایا تاکہ ریاست کمزور سے کمزور ہوجائے
پھر دنیا کے مورخوں نے دیکھا کہ نفرت و تعصب کی جھلستی آگ میں پاکستان دولخت کردیا پھر جب نیا پاکستان ابھرا تو اس کے سربراہ مملکت نے اپنے تخت کی خاطر عدل و انصاف کو مٹا دیا، حقداروں کے حقوق سلب کرلیئے، تعصب و عصبیت و لسانیت کو فروغ دیا، مسلکی جنگوں کا آغاز ھوا اور پاکستان میں مورثی سیاست و اقتدار کا ایسا سلسلہ جاری ھوا کہ جو تاحال جاری ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! ان مورثی سیاستدانوں حاکموں رہبروں اور سربراہوں نے مثلِ مثالی بہترین بیوروکریٹس کو ذاتی غلام اور نااہلوں کی تقرریوں نے ملک تباہ حالی کی جانب دکھیل دیا ھے ۔۔۔۔ معزز قارئین!! موجودہ زمانے میں آپ ریلوے کا حال دیکھ لیں ۔۔۔۔؟؟ آپ پولیس کا حال دیکھ لیں۔۔۔؟؟
آپ سینکڑوں کی تعداد میں موجود سرکاری اداروں کا حال دیکھ لیں۔۔۔؟؟ دوسری طرف آپ پاکستان کے تمام بڑے کاروباری اور منافع بخش ادارے دیکھ لیں وہاں کوئی سی ایس ایس افسر نہیں ہے، تمام کامیاب اور منافع بخش اداروں میں آپ کو پروفیشنل لوگ ملیں گے۔اینگرو گروپ، عارف حبیب گروپ، نشاط گروپ سمیت تمام کامیاب ادارے پروفیشنل لوگ چلارہے ہیں۔ ٹی سی ایس میں ایک بھی سی ایس ایس آفیسر کام نہیں کرتا لیکن ٹی سی ایس پاکستان پوسٹ سے زیادہ منافع میں کیوں ہے..؟؟ دنیا بھر میں پروفیشنل لوگوں انجینئرز، ڈاکٹرز، سائنسدانوں اور اساتذہ کی عزت ہے۔ ایسے پروفیشنلز جو اپنے ممالک کو ترقی کے آسمان تک لے گئے. بدقسمتی سے ہمارے ملک میں الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔
- Advertisement -
ایک پروفیشنل، ڈاکٹر، انجنیئر، استاد اور کاروباری شخص جو ٹیکس دینے کیساتھ ساتھ روزگار فراہم کرتا ہے، کے اوپر نا اہل شفارشی ڈپٹی کمشنر اور نا اہل شفارشی اسسٹنٹ کمشنر رعب جماتا ہے۔ جس کی قابلیت صرف انگریزی کا امتحان پاس کرنا ہے۔ اگر انگریزی کو سی ایس ایس سے نکالا جائے تو پاس کرنے والے ہزاروں امیدوار ہونگے۔ ایک واقعہ مشہور ہے کہ ایک امریکی صدر سے پوچھا گیا کہ اگر آپ سے ملاقات کیلئے ایک سیاستدان ایک بزنس مین اور ایک سرکاری افسر آئے تو آپ پہلے کس سے ملیں گے تو اس نے جواب دیا بزنس مین سے۔ جاپان اور تائیوان کے پاس کوئی قدرتی وسائل نہیں ہیں لیکن وہ ٹیکنالوجی میں دنیا سے آگے ہیں،
ان ممالک میں سی ایس ایس جیسا امتحان نہیں ہوتا پر وہاں کے مضبوط اداروں کی کارکردگی آپکے سامنے ہے۔.!! پاکستان کو بھی ترقی کیلئے سرکاری افسر شاہی نہیں بلکہ پروفیشنلز کی ضرورت ہے۔۔۔۔ معززقارئین!! ستر سالوں سے ملکِ پاکستان سے جس طرح کھلواڑ ہورہا ھے اور ریاست کو کمزور بنانے کیلئے جس قدر سازشیں عمل پزیر ہیں ان سب کا خاتمہ ناگزیر بن چکا ھے۔ موجودہ وقت میں مالی و کاروباری دہشتگردی انتہا کو پہنچ چکی ھے۔ سیاسی مافیاؤں نے اپنے ناجائز مقاصد کے حصول کیلئے نوکر شاہی طبقے کو بھی مافیا بنا ڈالا ھے۔ سابقہ و موجودہ چیف جسٹس صاحبان اس بابت بہت کچھ کہہ چکے ہیں، نظام اور آئین کی درستگی کیلئے متنبہ کرچکے ہیں مگر ان بااختیار اقتدار میں رہنے والے حاکموں سربراہوں سیاستدانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی کیونکہ انہیں ملک و قوم سے زیادہ اپنی ذات کی فکر رہتی ھے۔۔۔۔
معزز قارئین!! جب پاکستان معروض میں آیا تھا تب پندرہ اگست سنہ انیس سو سینتالیس کو قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کے سب سے پہلے گورنر جنرل بنے۔ آپ کی رہائس گورنر ہاؤس سندھ میں تھی جبکہ نظامِ حکومت بادشاہت پر مبنی تھی اور یہ نظام سنہ انیس سو چھپن میں ختم کرکے جمہوری نظام رائج کیا گیا جو تاحال جاری ھے جس کے اثرات ہمیشہ پاکستان میں بدترین نظر آئے یہاں کبھی بھی جمہوریت کے مطابق جمہوری امور نہیں چلے البتہ جمہوریت کو بدنام کیا گیا، یہ کہنا شائد درست ھوگا کہ جمہوریت کے لبادے میں ستر سالوں سے آمریت نے ہی حکومت کی ھے جو تاحال جاری ھے اسی لیئے اب عوام جمہوریت سے بیزار ھوکر خلافت کے نظام کی خواں ہے۔
وقت تیزی سے گزر رہا ھے اور عوام بد سے بدحالی کے دلدل میں دھنستی جارہی ھے مزید یہی حال رہا تو عوام خود فیصلہ کرنے پر مجبور ھوجائیگی اگر عوام یکجا ھوگئی جو یہ سیاسی و دیگر مافیا ایک ہونے نہیں دیتیں تو یاد رکھیں لمحہ نہیں لگے گا نظام کو تبدیل ھونے میں لیکن ابھی دلی دور ھے۔ ستر سالوں سے جاری نااہل شفارشی اور رشوت کے سبب تقرریوں سے نظامِ ملک شدید ترین متاثر ہوتا چلا آرہا ھے اب نظامِ حکومت مکمل کھوکھلی ہوچکی ہے بہت جلد تبدیلی کیئے بغیر حفاظت ممکن نہیں۔۔ اللہ پاکستان اور عوام پر خاص کرم فرمائے آمین یارب العالمین۔۔۔۔۔۔!!
[…] آباد (مسائل نیوز) پاکستان نے تائیوان صورتحال سے متعلق اہم ترین بیان جاری کر دیا۔اے آر وائی […]