MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

غربت اور مہنگائی خودکشی کا سبب ،محمّد شہزاد بھٹی

2 327

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کالم نگار : محمد شہزاد بھٹی

 یہ بات حقیقت ہے کہ ملک میں مہنگائی کے بے قابو جن نے عوام کو کچلنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی، ایک طرف غربت اور دوسری طرف شدید مہنگائی ہے۔ غربت اور مہنگائی میں عوام تقریباً پس کے رہ گئے ہیں۔ گھروں کا کرایہ بجلی، گیس کے بلز کی ادائیگی اور بیوی بچوں کی کفالت سے وہ قاصر نظر آ رہے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے، شدید مہنگائی، آمدن میں کمی، حکمرانوں کی بدترین نااہلی ہے۔ بیوی، بچوں کا بھوک سے بلکنا اپنی جگہ پر مگر اس کے باوجود خودکشی کرنے والوں کی کسی قیمت پر حوصلہ افزائی نہیں کی جا سکتی۔ خودکشی نہ مہنگائی کا علاج ہے اور نہ ہی غربت کا علاج بلکہ خودکشی کم ہمتی اور بذدلی کی علامت قرار دی جاتی ہے۔ خودکشی کرنے والا حالات کے جبر سے تنگ آ کر خودکشی کی موت میں اپنی راہ نجات تو سمجھتا ہے

لیکن کیا اس نے کبھی یہ سوچا تھا کہ اس کے مرنے کے بعد اس کے بیوی بچوں، بہن بھائیوں اور بوڑھے ماں باپ کا کیا بنے گا اپنے بوڑھے والدین، نوجوان بیوی اور معصوم بچوں کو حالات کے بھنور کے حوالے کر کے خودکشی کرنے والوں کو کسی قیمت پر جوانمرد کہنا مناسب نہیں ہو گا بلکہ انہیں حالات اور ذمہ داریوں سے فرار حاصل کرنے کی کوشش کرنے والا بذدل ہی کہا جائے گا۔ دانشوروں، تجزیہ کاروں، سیاست دانوں، کالم نگاروں، اداریہ نویسوں، علماء کرام، اینکروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کی بھرپور مذمت ضرور کریں مگر انہیں خودکشی کرنے والوں کی بھی حوصلہ شکنی کرنی چاہیے۔ یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ اسلام میں کسی بھی حالت میں خودکشی کی اجازت نہیں ہے،

انسان کو وجود بخش کر زندگی کی سانسیں عطا کرنے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے حاصل ہونے والی زندگی کا مالک کوئی انسان نہیں بلکہ خالق کائنات ہے جو زندگی اللّه تعالیٰ کی امانت ہو، خودکشی کر کے اگر اس میں کوئی خیانت کی کوشش کرے گا تو عذاب خداوندی اس کا مقدر بن جائے گا۔ اسلام ہمیں یہ بتاتا ہے کہ خودکشی کے نتیجے میں انسان کی روح پرواز کرتے ہوئے جس قسم کی خوفناک تکلیف کا سامنا کرتی ہے وہ لفظوں میں بیان کرنا ناممکن ہے، خودکشی کے نتیجے میں روح پرواز کرتے وقت جن اذیت ناک مرحلوں کا سامنا کرتی ہے

- Advertisement -

اگر انسان کو خودکشی کرنے سے پہلے اس کی حقیقت کا احساس ہو جائے تو وہ ممکن ہے کہ خودکشی کی سوچ کو اپنے قریب بھی بھٹکنے نہ دے۔ مہنگائی، غربت یا دیگر مسائل و مشکلات کا حل خودکشی میں ڈھونڈنا، اسلام سے دوری کا نتیجہ ہے۔ دین اسلام نے اپنے پیروکاروں کو کبھی بھی مایوس ہونے کا درس نہیں دیتا، بلکہ ہر حال میں اللّه تعالیٰ کی رحمت سے پر امید رہنے کا سبق سکھایا ہے۔ خودکشی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس حرام موت کو گلے لگانے والا اللّه تعالیٰ کی رحمتوں سے بھی مایوسی کا اظہار کر رہا ہے (نعوذ باللہ) خود کشی کرنے سے انسان کو راحت یا کسی قسم کا ریلیف حاصل نہیں ہوتا بلکہ خودکشی کی موت گلے لگانے کے بعد بھی وہ اسی عذاب ناک صورت حال سے دوچار رہتا ہے، مثلاً اگر کسی نےآگ لگا کر، زہر پی کر خودکشی کی یا پھندا لگا کر خودکشی کی، وہ قیامت تک اپنے آپ کو بار بار اسی صورت حال سے دوچار رکھے گا کتنا بدنصیب ہو گا وہ شخص کہ جو مرنے کے بعد بھی چین کی بجائے بدترین عذاب سے دوچار رہے۔

کاش کہ ہمارا معاشرہ قرآن و حدیث کے احکامات کے تابع ہوتا تو ہمیں صبر اور اللّه تعالیٰ پر توکل کے معانی اور مفہوم کی بھی سمجھ ہوتی، پریشانیوں، مشکلات و مصائب میں صبر کرنا اور ہر قیمت پر اللّه تعالیٰ پر توکل کرنا اسی میں مومن کی کامیابی و کامرانی کا راز مضمر ہے۔ آج کے انسانوں کو اپنی ضروریات اور خواہشات میں بھی فرق روا رکھنے کی ضرورت ہے، ضرورت وہ ہے کہ جس کے بغیر زندگی کی سانسوں کو بحال رکھنا ناممکن ہو اور خواہش یہ ہے کہ جس کے بغیر انسانی زندگی کو کسی قسم کے خطرات لاحق نہ ہوں، دیکھنے والی بات یہ ہے کہ آج کا انسان خواہشات کو کہیں ضروریات تو نہیں سمجھ بیٹھا؟ بھوک سے تڑپتے بچوں کے منہ میں دودھ کی بوندیں یا نوالے ڈالنا تو جوانمردی اور انسانیت کے تقاضوں کے عین مطابق ہے لیکن اپنے بیوی بچوں کو بھوک، افلاس اور بے رحم معاشرے کے حوالے کر کے خود کو آگ لگا لینا، پھندے سے لٹک جانا، دریا میں کود جانا، پٹڑی پر لیٹ کر ٹرین تلے کچلے جانا، نہ صرف بذدلی، کم ہمتی بلکہ ناشکرے پن کی بھی انتہا ہے۔

ہر انسان کو چاہیے کہ وہ چادر کے مطابق اپنے پاؤں پھیلانے کی کوشش کرے، حکمرانوں کی نااہلی کے سبب غربت اور مہنگائی میں بے پناہ اضافہ یقینا عوام کی کمر توڑ رہا ہے لیکن عوام خواہشات کو نکیل ڈال کر صبر اور توکل کا دامن تھامے رہیں تو خودکشی کی سوچ قریب بھی نہیں بھٹکے گی۔ اگر انسان صبر اور توکل کے دامن کو چھوڑ دے تو پھر اسے خودکشی کی حرام موت میں ہی راہ نجات نظر آئے گی حالانکہ خودکشی راہ نجات کبھی نہیں ہو سکتی۔ ہم جس معاشرے میں زندہ ہیں وہ روز بروز اخلاقی انحطاط کا شکار ہوتا چلا جا رہا ہے، جن کو اللّه تعالیٰ نے جائیدادیں دی ہیں وہ مکانات اور بلڈنگیں بنا کر کرائے پر چڑھا رہے ہیں بعض اوقات کرائے دار بروقت کرایہ ادا نہیں کر پاتا، عمران خان حکومت کی بدولت غربت، بے روزگاری بھی بڑھی ہے۔ اخبارات کے ایک، دو نہیں ہزاروں ورکرز بے روزگار ہوئے ہیں، صرف اخباری ورکرز ہی نہیں بلکہ دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لاکھوں لوگ بھی روزگار سے محروم ہو چکے ہیں۔ اب مالک مکان نے تو ہر قیمت پر کرایہ بھی لینا ہے اور حکومت نے بجلی اور گیس کے بلز بھی لینے ہیں۔

حکومت کسی بے روزگار انسان یا گھرانے پر رحم کرنے کے لئے تیار نہیں ہے اور نہ کوئی مالک مکان کسی غریب بے روزگار کو کرایہ معاف کرنے کے لئے آمادہ و تیار ہے۔ نفسانفسی، افراتفری کے اس دور میں حکومتی اقدامات اور سخت رویوں نے انسان کو اس قدر بے چین کر دیا ہے کہ اب وہ زندگی کی رعنائیوں کو بھی نفرت کی نگاہوں سے دیکھنا شروع ہو چکے ہیں۔ سن لیجئے، یہ زندگی خدا کی امانت ہے، یہاں میرا جسم، میری مرضی کا شیطانی نعرہ قابل قبول نہیں ہو گا، جسم بھی اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے، اس پر مرضی بھی اللّه تعالیٰ کی ہی چلے گی، اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوسی گناہ ہے، رزق دینے والی ذات باری تعالیٰ کی ہے جو انسان شیطانی بہکاوے اور وسوسوں کا شکار ہو کر اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو جاتا ہے اور خودکشی میں ہی اپنی کامیابی سمجھتا ہے ایسا شخص آخرت میں بھی عذاب خداوندی کا مستحق ٹھہرے گا اللّه تعالیٰ ہم سب کو حرام موت سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

2 Comments
  1. Muhamma Shehzad Bhatti says

    ذوالفقار علی بھٹو کی جانشین بےنظیر بھٹو

    کالم نگار:
    محمّد شہزاد بھٹی 
    Shehzadbhatti323@gmail.com

    ہر سال 27 دسمبر کو بےنظیر بھٹو کی برسی منائی جاتی ہے اس سلسلہ میں ملک کے طول و عرض میں پاکستان پیپلز پارٹی کے زیراہتمام جلسے اور تقریبات منعقد کی جاتیں ہیں۔ بےنظیر بھٹو 21 جون، 1953ء میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔ بےنظیر برطانیہ سے تعلیم حاصل کرنے کے بعد جون 1977ء میں اس ارادے سے وطن واپس آئیں کہ وہ ملک کے خارجہ امور میں خدمات سر انجام دیں گی لیکن ان کے پاکستان پہنچنے کے دو ہفتے بعد حالات کی خرابی کی بنا پر حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ جنرل ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کو جیل بھیجنے کے ساتھ ساتھ ملک میں مارشل لاء نافذ کر دیا اور ساتھ ہی بےنظیر بھٹو کو بھی گھر کے اندر نظر بند کر دیا گیا۔ اپریل 1979ء میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے ذوالفقار علی بھٹو کو قتل کے ایک متنازع کیس میں پھانسی کی سزا سنا دی۔ 1981ء میں مارشل لاء کے خاتمے اور جمہوریت کی بحالی کے لیے ایم آر ڈی کے نام سے اتحاد بنایا گیا۔ جس میں آمریت کے خلاف 14 اگست، 1983ء سے بھر پور جدوجہد شروع کی، تحریک کی قیادت کرنے والے غلام مصطفٰی نے دسمبر 1983ء میں تحریک کو ختم کرنے کا اعلان کیا لیکن عوام نے جدوجہد جاری رکھی۔ 1984ء میں بےنظیر کو جیل سے رہائی ملی، جس کے بعد انہوں نے دو سال تک برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ اسی دوران پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں پارٹی کا سربراہ بنا دیا۔ ملک سے مارشل لا اٹھوائے جانے کے بعد جب اپریل 1986ء میں بےنظیر وطن واپس لوٹیں تو لاہور ائیرپورٹ پر ان کا فقید المثال استقبال کیا گیا۔ بےنظیر بھٹو 1987ء میں نواب شاہ کی اہم شخصیت حاکم علی زرداری کے بیٹے آصف علی زرداری سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنی سیاسی جِدوجُہد کا دامن نہیں چھوڑا۔ 17 اگست، 1988ء میں ضیاءالحق طیارے کے حادثے میں جاں بحق ہو گئے تو ملک کے اندر سیاسی تبدیلی کا دروازہ کھلا۔ سینیٹ کے چئیرمین غلام اسحاق کو قائم مقام صدر بنا دیا گیا۔ جس نے نوے دن کے اندر انتخابات کروانے کا اعلان کیا۔ 16 نومبر، 1988ء میں ملک میں عام انتخابات ہوئے، جس میں قومی اسمبلی میں سب سے زیادہ نشستیں پیپلز پارٹی نے حاصل کیں اور بےنظیر بھٹو نے دو دسمبر 1988ء میں 35 سال کی عمر میں ملک اور اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیرِاعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔ اگست، 1990ء میں بیس ماہ کے بعد صدر اسحاق خان نے بےنظیر کی حکومت کو بے پناہ بدعنوانی اور کرپشن کی وجہ سے برطرف کر دیا۔ 2 اکتوبر، 1990ء کو ملک میں نئے انتخابات ہوئے جس میں مسلم لیگ نواز اور بےنظیر حکومت کی مخالف جماعتوں نے اسلامی جمہوری اتحاد کے نام سے الائنس بنایا۔ جس کے انتخابات میں اکثریت حاصل کی۔ ان انتخابات کے نتیجے میں مسلم لیگ نواز کے سربراہ نواز شریف وزیر اعظم بن گئے۔ جبکہ بےنظیر قائدِ حزبِ اختلاف بن گئیں۔ 1993ء میں اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے نواز شریف کی حکومت کو بھی بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا۔ جس کے بعد اکتوبر، 1993ء میں عام انتخابات ہوئے۔ جس میں پیپلز پارٹی اور اس کے حلیف جماعتیں معمولی اکثریت سے کامیاب ہوئیں اور بےنظیر ایک مرتبہ پھر وزیرِاعظم بن گئیں۔ پیپلز پارٹی کے اپنے ہی صدر فاروق احمد خان لغاری نے 1996ء میں بد امنی اور بد عنوانی، کرپشن اور ماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے باعث بےنظیر کی حکومت کو برطرف کر دیا۔ بےنظیر بھٹو کو پاکستان اور عالم اسلام کی دو دفعہ خاتون وزیر اعظم بننے کا اعزاز حاصل ہے۔ بےنظیر بھٹو کو 27 دسمبر 2007 کو راولپنڈی کے تاریخی مقام لیاقت باغ میں ایک انتخابی جلسہ سے خطاب کے بعد اس وقت شہید کر دیا گیا جب وہ جلسہ ختم ہونے کے بعد واپس جا رہی تھیں۔ اس سے قبل خود ساختہ جلا وطنی کے بعد جب محترمہ بےنظیر بھٹو 18 اکتوبر2007 میں وطن واپس آئیں تو ان پر کراچی میں حملے کی کوشش کی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی صرف بیٹی نہیں بلکہ سیاسی جانشین بھی تھیں۔ انہوں نے اپنے والد سے جو کچھ سیکھا تھا، عملی سیاست میں اس پر مکمل عمل بھی کیا۔ کرپشن کے الزامات نے پاکستان میں ان کی سیاسی ساکھ کو کافی نقصان پہنچایا۔ پیپلز پارٹی رہنما ہی نہیں مخالف سیاسی جماعتوں کے لیڈر بھی بےنظیر بھٹو کی سیاسی بصیرت کے معترف تھے۔

  2. […] نیوز)ضلعی انتظامیہ ایم پی اے اور ایم این اے خاموش عوام اذیت کا شکار پچھلے 15 روز سے سڑک ناقابلِ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.