MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کراچی سمیت سندھ بھر میں 18 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان

0 328

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) محکمہ موسمیات نے کراچی اور سندھ کے دیگر علاقوں میں آج سے 18 جولائی بروز پیر تک گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کی پیش گوئی کی ہے۔محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن میں کیا گیا ہے کہ شمال مشرقی بحیرہ عرب اور اس سے ملحقہ رن کچھ کے اوپر ہوا کا کم دباؤ برقرار ہے جو جنوب مشرقی سندھ تک پھیلا ہوا ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ موسم کی موجودہ صورتحال کے زیر اثر کراچی، حیدرآباد، ٹھٹہ، بدین، میرپورخاص، عمرکوٹ، تھرپارکر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار، سانگھڑ، نواب شاہ، نوشہرو فیروز، خیرپور، سکھر، لاڑکانہ، جیکب آباد، قمبر شہداد کوٹ، دادو، جامشورو، شکارپور، گھوٹکی اور کشمور کے اضلاع میں 18 جولائی تک گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارشوں کا امکان ہے۔

- Advertisement -

میٹ ڈیمپارٹمنٹ کی جانب سے کراچی ڈویڑن میں ہفتے کے آخر میں موسلادھار اور وقفے وقفے سے گرج چمک کے ساتھ بارش کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے، اس کے علاوہ،ہوا میں نمی کا تناسب 50 سے 60 فیصد کے درمیان رہنیکی توقع ہے جبکہ شمال مشرقی اور مشرقی ہوائیں چلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے شدید بارشوں سے کراچی، حیدر آباد، ٹھٹہ، بدین، میرپورخاص، عمرکوٹ، دادو، جامشورو، نواب شاہ، جیکب آباد، لاڑکانہ اور سکھر میں اًربن فلڈنگ اور نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے کے خطرے سے بھی خبردار کیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ موسلادھار بارشوں کے مسلسل اسپیل کے باعث پہاڑی علاقوں میں پانی کا تیز بہاؤ پیدا ہوسکتا ہے اور کیرتھر رینج کے ساتھ اور نیچے کی جانب سیلاب آسکتے ہیں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس دوران سمندر کے اندر غیر معمولی ارتعاش اور اونچی لہروں کی توقع ہے اور ماہی گیروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ تمام متعلقہ محکموں کے حکام سے الرٹ، چوکس و تیار رہنے اور ضروری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
حکومت سندھ نے اس سے قبل ہی صوبے بھر میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کردی ہے اور حکام کو تمام ڈسٹرکٹ ہیلتھ دفاتر اور ہسپتالوں میں کنٹرول روم قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔مون سون بارشوں کے موجودہ اسپیل کے نتیجے میں گزشتہ روز مزید 4 اموات ہوئیں، جن میں سے 3 افراد خیبر پختونخوا اور ایک گلگت بلتستان میں جاں بحق ہوا، رواں ماہ کے اوائل میں شروع ہونے کے بعد سے موجودہ مون سون بارشوں کے باعث ہونے والے مختلف حادثات و واقعات میں 160 سے زائد شہری جاں بحق ہوچکے ہیں۔
طوفانی مون سون بارشوں کے بعد بلوچستان سے آنے والی خبریں صوبے کی خوفناک صورتحال پیش کر رہی ہیں، صوبے کے شمالی اور وسطی حصوں میں شدید بارشوں کی وجہ سے سڑکوں اور دیگر انفرااسٹرکچر کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔سیلاب کے باعث صوبے کا انفرااسٹرکچر تباہ ہوگیا ہے، کئی قصبوں اور شہروں کا کوئٹہ اور دیگر ضلعی ہیڈکوارٹرز سے رابطہ منقطع ہے، بارش نے بلوچستان کا پنجاب اور سندھ سے رابطہ بھی منقطع کردیا جبکہ سکھر کو کوئٹہ اور ڈیرہ غازی خان (پنجاب) کو لورالائی سے ملانے والی شاہراہ بھی بارش کے باعث بند رہی۔
مقامی حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر کوئٹہ کو سکھر سے ملانے والی شاہراہ کو بند کر دیا، سبی کے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی نے بتایا کہ ہم نے سڑک کو رات بھر کے سفر کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ سیلابی پانی نے ہائی وے کو مختلف مقامات سے نقصان پہنچایا ہے۔مزید بارشوں کے پیش نظر نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم ای) نے متعلقہ وزارتوں، محکموں اور صوبائی حکومتوں کو چوکس و تیار رہنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کیں۔
جاری بیان میں محکموں کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ہنگامی آلات کی موجودگی کو یقینی بنائیں، ان ہنگامی آلات میں ڈی واٹرنگ پمپ اور کسی بھی ہنگامی صورتحال خاص طور پر سڑکیں بلاک ہونے، شاہراہوں کی بندش اور نقصان کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کی دستیابی شامل ہے۔این ڈی ایم اے کی جانب سے انخلا کے منصوبوں کے مطابق نشیبی اور سیلاب زدہ علاقوں سے آبادی کے بروقت انخلا کو یقینی بنانے اور امدادی کیمپوں میں پناہ گاہ، خوراک اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔
این ڈی ایم اے نے متعلقہ حکام اور محکموں پر زور دیا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر عوام میں مون سون کی بارشوں سے متعلقہ ممکنہ خطرات سے متعلق آگاہی و بیداری پیدا کریں اور بارش کی پیش گوئی کی مدت کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔این ڈی ایم اے کی جانب سے صوبائی حکام کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت دیں کہ وہ مسافروں اور سیاحوں کی ممکنہ صورتحال اور پانی سے بھرے علاقوں اور انڈر پاسز کے خطرات سے ا?گاہ کریں اور غیر ضروری سفر اور نقل و حرکت سے گریز کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.