MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

نیوٹرل نے فیصلہ کر دیا

0 240

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

۔۔۔۔محمد امانت اللہ

جب کوئی شخص ضمیر کا سودا کرتا ھے، درحقیقت اپنی عزت گروی رکھ دیتا ھے۔ جب بات عزت تک پہنچ جائے تو لوگ اسکی باتوں پر بھروسہ نہیں کرتے ہیں۔
اسکی بات پر لوگ اسی وقت بھروسہ کرتے ہیں جب اسکی کوئی ضمانت دے۔ ضمانت اسی وقت ملتی ھے جب اسکی قیمت ادا کرنی پڑتی ھے۔

ایک بار پھر نئے سرے سے بحث چل پڑی ھے ، سازش یا مداخلت۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنے انٹرویو میں کہا تحریک عدم اعتماد کے سلسلے میں ہونے والی تبدیلی میں سازش کہیں نہیں ہوئی ھے۔

مشہور کہاوت ھے شیر اور بکری کے درمیان معاہدہ طے پا گیا۔ جنگل کے دیگر جانوروں نے سمجھا شیر بکری کو نہیں کھائے گا۔
درحقیقت معاہدہ یہ طے پایا تھا شیر بکری کو کب کھائے گا۔
کچھ ایسی ہی صورتحال ہر طرف نظر آرہی ھے۔
امریکہ نے میر جعفر اور میر صادق کی رہی صحیح عزت کو بھی خاک میں ملانے کا حتمی فیصلہ کر لیا ھے۔

کل اسکا عملی ثبوت پوری قوم نے دیکھا۔ اسد عمر نے پریس کانفرنس میں کہا آپکو کس نے اختیار دیا ھے کہ فیصلہ کریں سازش اور مداخلت پر۔
یہ کام تو سپریم کورٹ کا ھے۔
جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور صدر پاکستان نے چیف جسٹس کو مراسلہ ارسال کر دیا ھے۔
اگر کمیشن کے سامنے دلائل دیے گئے تو نہ صرف وہ باتیں سامنے آئیں گیں جو ابھی تک عمران خان نے ادارے کی عزت اور لحاظ کا خیال رکھتے ہوئے نہیں کہی ھے۔
نا صرف یہ بلکہ میر جعفر اور میر صادق کے کردار بھی پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو جائیں گے۔
ادارے کی ساخت کو ناتلافی نقصان پہنچے گا عوام میں رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔
ادارے وطن کی عزت ، خودمختاری اور سالمیت کا خیال رکھتے ہیں۔ منتخب عوامی نمائندہ جو وزیراعظم ہو کیسے ممکن ھے اپنے حلف سے منحرف ہو جائے۔
اسد عمر کا کہنا ھے ڈی جی آئی ایس پی آر سیاسی معاملات کی تشریح نہ کریں تو بہتر ہو گا، جو کام عدلیہ کا ھے انہیں کرنے دیں۔

- Advertisement -

5۔6 عشائیہ فیصد سے ترقی کرتے ہوئے ملک پر امپورٹڈ حکومت کو مسلط کرنا معاشی خودکشی کے مترادف ھے۔
امپورٹڈ حکومت نے خود ہی این آر او لے لیا ھے اور نیوٹرل کی خاموشی، عمران خان کہ اس بیانیہ کو تقویت دیتی ھے۔ نیوٹرل کی نظر میں کرپشن کوئی اہمیت نہیں رکھتی ھے۔

نیب میں نئے قوانین کا نفاذ 1985 سے ہوگا۔
یعنی سبھوں کو این آر او مل گیا ھے
اور آئندہ کے لیے کرپشن کرنے کی راہ ہموار کر دی گئی ھے۔

عدلیہ اور نیوٹرل کی خاموشی اس بات کی غمازی کر رہی ھے پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے والو یہ کیسی وفاداری ھے۔
حکومت نے”سیلف گرینڈ این آر او” خود ہی لے لیا ھے۔ کہتے ہیں جب چور اور چوکیدار آپس میں مل جائیں۔
قانون کے محافظ ثبوت ڈھونڈتے رہیں
معاشرہ میں جنگل کا قانون عمل پیرا ہو جاتا ھے۔
درحقیقت ملک میں خانہ جنگی کی ابتداء ہو چکی ہوتی ھے۔
جسے دو وقت کی روٹی نہ ملے اسکا ہاتھ امیروں کے گریبان تک پہنچ کر ہی رہتا ھے۔

وزیر موصوف فرماتے ہیں چائے کی ایک پیالی کم کر دیں، درحقیقت ملکی معیشت کو چائے نے نہیں بلکہ پیزے نے نقصان پہنچایا ہے۔
مگر کس میں ہمت ھے وہ یہ کہے۔

عدل کی بات کرو تو توہین عدالت کا پرچہ کٹ جاتا ھے۔ ملک کی سالمیت کی بات کرو تو غداری کا مقدمہ درج ہونے کا ڈر لگا رہتا ھے۔

میڈیا کہتا ھے وہ نیوٹرل ہیں، جب بات یہاں تک پہنچ جائے تو ڈر ہی لگا رہتا ھے کہیں شاہین، غوری غزنوی ابدالی اور نصر بھی وقت پڑنے نیوٹرل نہ ہوجائیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.