انسان سے یوتھیا بننے تک کا سفر
محمّد شہزاد بھٹی
آج بات ہو گی کچھ معمول سے ہٹ کے طنز و مزاح سے بھر پور مگر حقیقت پر مبنی، جیسے پاکستان مسلم لیگ ن کے سپورٹرز متوالے، پاکستان پیپلز پارٹی کے سپورٹرز جیالے کہلاتے ہیں، اسی طرح پاکستان تحریک انصاف کے سپورٹرز کو یوتھیا کہا جاتا ہے۔ آئیے آج آپ کا تعارف کرواتے ہیں یوتھئیوں سے، الیکشن 2018 سے قبل عمران خان پاکستان میں جس تبدیلی کا نعرہ لگا کے، عوام کو سنہرے خواب و سبز باغ دکھا کے، ایک کروڑ نوکریوں کے، پچاس لاکھ مکانوں کے اور دیگر جھوٹے وعدے کر کے اقتدار میں آئے تھے، اب وہ تبدیلی تو ان کے دور اقتدار میں آئی نہیں بلکہ اس کے برعکس ملک میں ایک ایسی تبدیلی آئی ہے جو انسانوں کی سوچ سے بالاتر ہے۔ عمران خان نے ملک میں ایک ایسی قوم کا اضافہ کر دیا ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کے لحاظ سے انسانوں سے مماثلت نہیں رکھتی۔ ان کی ظاہری شکل و صورت دیکھیں تو انسانوں جیسی مگر ان کی حرکتیں دیکھیں تو یہ انسان نہیں لگتے بلکہ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگتے ہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ انسان بظاہر انسانی مجسمے کا نام ہی نہیں بلکہ انسان تو وہ ہے جس میں عقل و شعور ہو انسانیت ہو۔ عقل و شعور اور انسانیت سے عاری لوگ سیاسی زبان میں یوتھیا کہلاتے ہیں۔ یوتھیا ایک ایسی قوم ہے جن کی ذہنیت انتہائی گھٹیا قسم کی ہے جو مثبت اور اچھی باتیں نہ کرتے ہیں نہ لکھتے ہیں اور نہ ہی سنتے ہیں۔ اگر کوئی ان کے لیڈر کے خلاف سچی بات بھی بیان کرے تو ان سے یہ سچ بھی برداشت نہیں ہوتا الزام لگانا تو بہت دور کی بات ہے، یہ لوگ اپنے لیڈر کے بارے کوئی بھی بات سنتے ہی غصّے سے اس قدر لال پیلے اور ایموشنل ہو جاتے ہیں کہ چھوٹے بڑے کی تمیز تک بھول جاتے ہیں اور اخلاقیات کی وہ تمام حدیں عبور کر جاتے ہیں جو انہیں نہیں کرنی چاہئیے۔ کاسمیٹک کی زبان میں اگر کہا جائے تو یوتھیا ایک ایسی مخلوق کا نام ہے جو بیغیرتی کو فئیر اینڈ لولی سمجھتے ہیں۔ ہر یوتھیا عمران خان کی تھوک کو شہد اور پوٹی کو حلوہ ثابت کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔ جس ڈھٹائی کے ساتھ یہ اپنے لیڈر کو سپورٹ کرتے ہیں، ڈیفنڈ کرتے ہیں اس میں ان کا کوئی دوسرا ثانی نہیں۔ ان کی مثال بالکل اسی طرح ہے کہ جس طرح گندگی کے ڈھیر پر بیٹھنے والی مکھی کا کام بس ہر جگہ غلاظت پھیلانا ہے اسی طرح یوتھئیوں کا کام بھی ہر جگہ اپنی ذہنی اور اخلاقی پستی کا کھل کے اظہار کرنا ہے۔ چاہے وہ کوئی عام پبلک پلیٹ فارم ہو یا کوئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہو، انہیں شتر بے مہار کی طرح کوئی روکنے ٹوکنے والا نہیں۔ عمران خان نے پاکستان کے پڑھے لکھے مہذب لوگوں کی اخلاقیات کو تباہ کر کے ان کو یوتھیا بنا دیا ہے۔ یوتھئیے تباہی کو تبدیلی، قرضے کو پیکج اور میدان چھوڑ کر بھاگنے کو سرپرائز کہتے ہیں۔ عمران خان صاحب ملک کی معاشی حالت اتنی خراب کر کے گیا ہے کہ اگر موجودہ پاکستان مسلم لیگ ن کی موجودہ حکومت ملکی مفاد میں سخت فیصلے نہ کرتی تو ملک کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا اور افسوس جاہل یوتھئیے آج بھی عمران خان کو ٹیپوسلطان سمجھ رہے ہیں۔ یوتھئیے بھی عجیب مخلوق ہیں غلام دوسروں کو کہتے ہیں اور لانگ مارچ کر کے آزادی خود مانگ رہے ہیں، جو غلطی سے ایک بار یوتھیا بن جائے بخدا عقل، شعور، لاجک، ثبوت، دلائل ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، کیونکہ ان لوگوں میں سوچنے سمجھنے کی، صحیح اور غلط کی پہچان ختم ہو چکّی ہے کیونکہ بیچارے یوتھیا بننے کے بعد سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں کیونکہ اخلاقی گراوٹ کی وجہ سے ان کے دماغ مفلوج ہو گئے ہیں جو لوگ انسان سے یوتھیا بننے تک کا سفر طے کر چکے ہیں اب ان کی یوتھیا بننے سے انسان بننے تک کی واپسی بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن سی ہے۔
یوتھیوں کو آپ بلا جھجک بہنوئی بھی کہہ کر پکار سکتے ہیں
آپ کو یہ بھی پتہ ہونا چاہیے کہ یوتھیا یونانی زبان میں بہن کے شوہر کو کہا جاتا ہے. لہٰذا پی ٹی آئی کے تمام سپورٹرز تمہارے یوتھیا ہیں. اب گن کے دکھاؤ اپنے یوتھیے