خبردار حکومت کا بڑا ایکشن پلان تیار، افغانیوں کے سہولت کاروں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی
اسلام آباد(مسائل نیوز)حکومت نے خبردار کیا ہے کہ وہ ان تمام لوگوں کے خلاف کارروائی کرے گی جو افغان شہریوں کو اپنے ہاں ٹھہرنے میں مدد فراہم کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت مزید بگڑ گئے جب افغان فورسز نے پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر حملہ کیا۔
گزشتہ چار دہائیوں سے لاکھوں افغان شہری پاکستان میں مقیم ہیں، جبکہ اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد ہزاروں افغان پاکستان میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔
- Advertisement -
پاکستان طویل عرصے سے مغربی ممالک اور امریکا سے افغان شہریوں کی بیرونِ ملک منتقلی کے عمل کو تیز کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے، تاہم یہ عمل تاخیر کا شکار رہا۔
تازہ ترین سرحدی جھڑپوں کے بعد حکومتِ پاکستان نے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے، جن میں غیر قانونی افغان شہریوں کی ملک بدری کے ساتھ اُن پاکستانیوں کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے جو انہیں ملازمتیں دیتے ہیں یا رہائش فراہم کرتے ہیں، چاہے وہ گھروں میں ہوں یا ہوٹلوں میں۔
رپورٹس کے مطابق حالیہ سرحدی حملے میں 20 سے زائد پاکستانی فوجی شہید ہوئے، جبکہ پاکستان کے جوابی فضائی حملوں میں 200 سے زیادہ افغان طالبان اور فتنۂ خوارج کے جنگجو ہلاک ہوئے۔