راولپنڈی (مسائل نیوز)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ فوج کو سیاست میں مت گھسیٹیں، نہ یہ مہم پہلے کامیاب ہوئی نہ اب ہوگی۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں دھمکیوں کے خلاف دن رات کام کر رہی ہیں۔
’’نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اعلامیئے میں سازش کا لفظ نہیں‘‘
انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اعلامیئے میں سازش کا لفظ نہیں ہے، آج کی پریس بریفنگ کا مقصد قومی سلامتی کی صورتِ حال سے آگاہ کرنا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ افواہوں کی بنیاد پر بے بنیاد کردار کشی کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، یہ ملک کے مفاد کے سراسر خلاف ہے۔
’’ پاکستان کو کسی نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اس آنکھ کو نکال دینگے‘‘
ان کا کہنا ہے کہ 3 ماہ کے دوران 128 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک جاری رہے گی۔
پاک فوج کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان کی طرف کسی نے بھی میلی آنکھ سے دیکھا تو اس آنکھ کو نکال دیں گے۔
’’سابق وزیرِ اعظم نے 3 آپشن رکھے تھے، اسٹیبلشمنٹ نے کوئی آپشن نہیں دیا‘‘
انہوں نے کہا کہ سابق وزیر اعظم عمران خان نے فوجی قیادت سے رابطہ کیا تھا، آرمی چیف، ڈی جی آئی ایس آئی وزیرِ اعظم ہاؤس گئے تھے تو ان کے رفقا بھی موجود تھے، ان کے ساتھ بیٹھ کر 3 آپشنز پر بات چیت ہوئی۔
- Advertisement -
میجر جنرل بابر افتخار نے بتایا کہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے نہ کوئی آپشن دیا گیا نہ سامنے رکھا گیا، وزیرِ اعظم نے کہا تھا کہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے گا۔
’’آرمی چیف توسیع نہیں لینگے، اسی سال ریٹائر ہو جائینگے‘‘
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نہ تو مدت میں توسیع طلب کر رہے ہیں اور نہ ہی قبول کریں گے، آرمی چیف اپنی مدت پوری کر کے اس سال 29 نومبر کو ریٹائر ہو جائیں گے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ نیوٹرل وغیرہ کوئی چیز نہیں، ہمارا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں، فوج مستقبل میں بھی اپنا آئینی کردار ادا کرتی رہے گی۔
’’کسی کے پاس ثبوت ہے کہ ہم نے مداخلت کی ہے تو سامنے لائے‘‘
انہوں نے کہا کہ گر کسی کے پاس کوئی ثبوت ہے کہ ہم نے مداخلت کی ہے تو سامنے لائے۔
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ایٹمی ہتھیاروں سے متعلق بات کرتے ہوئے محتاط رہنا چاہیے، فوجی اڈوں کا کسی سطح پر مطالبہ نہیں کیا گیا، اگر مطالبہ ہوتا تو جواب یہی ہوتا۔
’’پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا‘‘
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بقا صرف اور صرف جمہوریت میں ہے، پاکستان میں کبھی مارشل لاء نہیں آئے گا۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ ہم بار بار کہہ رہے ہیں کہ فوج کا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں ہے، ڈی مارش صرف سازش پر نہیں دیا جاتا، اس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں۔