لاہور(مسائل نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں اضافہ عمران خان حکومت کے آئی ایم ایف سے معاہدے کا حصہ ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق رہنما مسلم لیگ ن مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم کہتےتھےمیں آٹااورپیازسستاکرنےنہیں آیا۔انہوں نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف مہنگائی پر کام کررہے ہیں،مشکل فیصلے عوام سمجھ رہےہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اشیائے خورونوش پر17ارب روپے کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ آج بیرونی ملک سازش پیچھے رہ گئی ،مہنگائی پر زور دیا جارہا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ گھی پر 250 روپے کی سبسڈی بنتی ہے۔انہوں نے کہا ہے کہ گھی کی قیمت سبسڈائز کر کے 300 روپے فی کلو کر دی گئی ہے۔
- Advertisement -
چند روز قبل وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر کچھ اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔
حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی تھی۔گاڑیوں کی خریداری میں پابندی پر ایمبولینسز وغیرہ شامل نہیں، کابینہ نے ہفتے کی چھٹی کو بحال کر دیا ہے،سرکاری اجلاس ورچوئل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔مریم اورنگزیب نے کہا تھاکہ سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی گئی ہے۔دفاتر کی تزئین وآرائش کی اشیا پر بھی پابندی لگا دی گئی، دفاتر کے لیے فرنیچر خریدنے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بیرون ملک سرکاری دوروں پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔مریم اورنگزیب نے مزید کہا کہ جمعہ کو گھرپر کام کرنے کی تجویز آئی ہے۔جمعے کو ورک فراہم ہوم کی تجویز کا جائزہ لینے کے لیے وزیراعظم نے کمیٹی تشکیل دے دی۔ تاجروں اور کاروباری حلقوں کو مارکیٹ کی جلد بندش پر اعتماد میں لیا جائے گا۔مارکیٹ کھولنے یا بند کرنے کے اوقات کا فیصلہ بعد میں ہو گا۔
کابینہ میں چار سال کے دوران بجلی کی پیدوار کا جائزہ لیا گیا۔رواں سال بجلی گزشتہ سال سے زیادہ پیدا کی گئی۔ملک میں بجلی کی طلب اور رسد میں فرق 4 ہزار سے زائد میگاواٹ ہے۔لوڈ شیڈنگ کم کرنے تجاویز آئی ہیں ۔وزیر اطلاعات نے پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ 16 سے 24 ون تک ساہیوال کول پاور پلانٹ کی بجلی سسٹم میں شامل کی جائے گی،25 سے 29 جون تک لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے رہ جائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ انتخابی اصلاحات حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
الیکشن کمیشن کی رپورٹ کابینہ میں پیش کی گئی اور اس پر بحث کی گئی۔ڈسکہ میں الیکشن کمیشن کا عملہ اغوا ہوگیا تھا، اس کی رپورٹ پیش کی گئی ۔ڈسکہ الیکشن کا معاملہ پاکستان کے الیکشن کے لیے ٹیسٹ کیس ہے۔اس کیس کی انکوائری ہو تاکہ آئندہ کوئی الیکشن کو سبوتاژ نہ کر سکے۔جب کہ قمر زمان کائرہ نے کہا کہ مشکل صورتحال ہے ، مزید اہم اور مشکل فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔