عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب
تحریر : عصمت اللہ شاہ مشوانی
- Advertisement -
عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے. وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ عہدے کا حلف اٹھایا تھا. تحریک انصاف نے 25 جولائی 2018ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کی 149 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی. عمران خان نے اتحادی جماعتوں مسلم لیگ (ق) ، متحدہ قومی موومنٹ اور بلوچستان عوامی پارٹی سمیت دیگر آزاد ارکان کو شامل کرکے حکومت بنائی تھی. وزیراعظم عمران خان نے 18 اگست 2018ء کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا اور 10 اپریل کو اُن کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوگئی، جس کے بعد اُن کی وزارت عظمیٰ کا عہد اپنے اختتام کو پہنچا. ہفتہ 18 اگست 2018ء کو شروع ہونے والا اُن کا 1332 دنوں پر مشتمل عہد وزارت عظمیٰ اتوار 10 اپریل 2022ء کو تمام ہوا۔
عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے عہدے سے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم کیوں بنے؟ اس سوال کے بہت سے جوابات ہیں، مگر ایک عام آدمی کی حیثیت سے عمران خان کے دور حکومت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اتنی مہنگائی اور بے روزگاری دیکھنے کو نہیں ملی جتنی کہ عمران خان کے دور حکومت میں دیکھنے کو ملی ہے. ایک غریب آدمی صبح سے لے کر شام تک محنت مزدوری کر کے بھی دو وقت کی روٹی نہیں کما سکتا، غریب آدمی کو اور کچھ نہیں چاہیے صرف دو وقت کی روٹی ملنی چاہیے تاکہ وہ اپنے بچوں کو بھوکا سوتے ہوئے نہ دیکھ سکے. عمران خان نے غریب آدمی کے منہ سے نوالہ چھین لیا تھا. مزید دیکھا جائے تو انہوں نے پاکستان کی معیشت کا بیڑہ غرق کردیا، پاکستان کے 70 سالہ تاریخ میں ملک اتنا مقروض نہیں رہا جتنا کہ اس دور حکومت میں رہی. ڈالر کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ دیکھنے کو ملا. 2018 کے عام انتخابات سے قبل کچھ اور کہا کرتے تھے اور جب وزیراعظم بنے تو ان کے الفاظ ویسے نہ رہے جیسے پہلے تھے عمران خان نے اپنے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں کئے.
عمران خان قوم کو بتائیں کہ آپ نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے کی خاطر پاکستان کے آثاثے گروی کیوں رکھے، قوم کو یہ بھی بتائیں کہ آپ نے IMF کی شرائط کے مطابق ہی پاکستان میں مہنگائی کی، ٹیکسوں میں بے تحاشا اضافہ کیا، یہ دنیا جانتی ہے کہ IMF مکمل طور پہ امریکی کنٹرول میں ہے. عمران خان نے پاکستان کے اثاثے امریکہ کے زیرِ کنٹرول ادارے کو کیوں دیے، مانا کہ ماضی کی حکومتوں میں بھی پاکستان کے کچھ ادارے گروی رکھے گئے لیکن پھر اُن میں اور آپ میں کیا فرق ہے؟ عمران خان تو غیرت کا درس دیتے تھے اور اِس حوالے سے بلند وبالا دعوے کرتے تھے، اگر آپ غیرت مند بھی ہیں تو بتائیں کیا کوئی غیرت مند ملک اپنے قومی اثاثے امریکہ یا کسی بھی ادارے کے پاس گروی رکھتا ہے! سب سے مزے کی بات تو یہ ہے کہ عمران خان ماضی اور مارچ کے مہینے تک مکمل طور پہ امریکہ نواز رہے، انہوں نے امریکہ جیسے ملک میں جلسے کیے، ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے پاکستان کو امریکہ کا بڑا اتحادی کہا، صدر جوبائیڈن کی کال کا بے صبری سے انتظار کرتے رہے وہ الگ بات ہے کہ انہوں نے عمران خان کو کال نہیں کی لیکن یہ اچانک سے امریکہ مخالف جذبات اور قوم کو ایک اور ٹرک کی بتی کے پیچھے لگانے کا مقصد ہر باشعور شخص جانتا ہے، لیکن یہ بات بھی ہے کہ عمران خان نے اپنی سیاست اور اقتدار کی کرسی کو زندہ رکھنے کے لئے امریکہ مخالف جذبات کے ساتھ ٹھیک کھیلا ہے لیکن یاد رکھیے عمران خان نے اپنی مقامی سیاست کو زندہ رکھنے اور تحریکِ عدم اعتماد میں نکالے جانے کے ڈر سے پاکستان کی خارجہ پالیسیوں کو جس طرح نقصان پہنچایا ہے، اِسکی مثال پاکستان کی تاریخ میں نہیں ملتی، بےشک خارجہ محاز کو پاکستانی سیاسی میدانوں میں استعمال کر کے عمران خان کی سیاست کو وقتی طور پہ کسی حد تک فائدہ تو ہو سکتا ہے اِسکے نتائج پاکستان کے لئے موضوع نہیں ہونگے اور نہ ہی یہ عمران خان کی لونگ ٹرم سیاست کے لئے قابلِ قبول ہوگا،
گزشتہ شب بی بی سی نے رپورٹ جاری کی اور واضح الفاظ میں لکھا کہ وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں. سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس میں رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے. لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا. وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا. کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے. اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا. اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی. اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی. ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا. اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی. عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں. ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا. شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ’انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی. ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا. سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا. بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ’ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا. اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے. یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی. اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی۔
جبکہ اس رپورٹ کے بعد پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے برطانوی نشریاتی ادارے کی خبر کو بے بنیاد اور جھوٹ کا پلندا قرار دیا ہے. آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کی آج شائع ہونے والی خبر بےبنیاد اور جھوٹ کا پلندا ہے. شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کی پراپیگنڈا خبر میں کوئی معتبر، مستند اور متعلقہ ذریعہ نہیں بتایا گیا. آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کی یہ خبر بنیادی صحافتی اخلاقیات کی خلاف ورزی ہے، برطانوی نشریاتی ادارے کی جعلی خبر میں کوئی حقیقت نہیں ہے. پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ برطانوی نشریاتی ادارے کی جعلی خبر واضح طور پر ایک منظم ڈس انفارمیشن مہم کا حصہ لگتی ہے، یہ معاملہ برطانوی نشریاتی ادارے کے حکام کے ساتھ اٹھایا جا رہا ہے۔
گزشتہ شب تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم سب تمام قائدین اور اراکین اسمبلی اللہ کے حضور سربسجود ہیں، ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے، ایک نیا دن آنے والا ہے. قومی اسمبلی اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کی ہیں، متحدہ اپوزیشن کے اکابرین کو سلام پیش کرتا ہوں. انہوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
شہباز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، خالد مقبول صدیقی سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں. آج پاکستان دوبارہ آئین اور قانون کا پاکستان بننے جا رہا ہے. انہوں نے کہا کہ ان تمام ساتھیوں نے جیلیں کاٹی ہیں، ماضی کی تلخیوں میں نہیں جانا چاہتے، ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں. ہم کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے قانون اپنا راستہ خود بنائے گا. اجلاس میں شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان کو اپنے جانے کی نہیں بلکہ میرے آنے کی تکلیف ہے۔
مجھے لگتا ہے مستقبل میں پاکستان میں بھی سیاست یوکرائن، افغانستان، ایران کی طرز پر کی جائے گی. روس ایک جماعت کو سپورٹ کرے گا اور امریکہ روس کے مقابلے میں اپنی حمایت یافتہ جماعت میدان میں اُتارے گا، جس طرح دنیا کے کئی ممالک میں ماضی میں بھی ہوا اور اب بھی ہو رہا ہے، یوں پاکستان بھی دو سپر پاورز کی پراکسی وار کا میدان بن جائے گا، اللہ نہ کرے ایسا کبھی ہو لیکن عمران خان کے کچھ سیاسی بلنڈرز کی وجہ سے ایسے حالات پیدا کرنے میں شدت آ چکی ہے جو پاکستان کی سالمیت کے لئے انتہائی خطرناک بات ہے، روس کا عمران خان اور اِنکی جماعت کو سپورٹ کرنا بھی اتنا ہی خطرناک ہے جتنا عمران خان امریکی مداخلت کا الزام لگا رہے ہیں. ہماری خارجہ پالیسیوں کی اِن ناکامیوں کا ذمہ دار کون ہے؟