ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں نے بلوچستان کے مسائل اور حالات کو سنگین تر بنا دیا، ڈاکٹر مالک
تربت (مسائل نیوز) نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیراعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بالگتر تربت میں علاقائی عمائدین اور سیاسی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان مشرف رجیم کی لگائی آگ میں تاحال جل رہا ہے، سینکڑوں نوجوان اس آگ میں جل کر راکھ ہوگئے ہیں لیکن پاکستان کے حکمرانوں کو تاحال اس کا ادراک نہیں۔ ملک اس وقت شدید معاشی و سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے شرائط نے بے روزگاری و مہنگائی میں بے تحاشا اضافہ کردیا ہے، ملک کی صنعتیں بند ہونے کو ہیں، ایکسپورٹ رک چکا ہے، تیل خریدنے کے لیے ہمارے پاس زرمبادلہ کے ذخائر تاریخ کے کم ترین مقام پر ہیں لیکن تاحال ریاست کو مسائل کی سنگینی کا ادراک نہیں ہے۔ سیاسی انجینئرنگ سے ٹیسٹ ٹیوب سیاست دان پیدا کرنے سے باز آنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی انجینئرنگ اور ٹیسٹ ٹیوب تجربات نے بلوچستان کے مسائل اور حالات کو سنگین تر بنا دیا ہے۔ اگر اب بھی حکمران طبقے کو ہوش نہیں آیا اور جمہوری و پارلیمانی سیاست کرنے والوں کا اعتماد جمہوریت اور انتخابی عمل سے اٹھ گیا تو اس کے مستقبل کی سیاست پر انتہائی بھیانک اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بالگتر، کولواہ اور کیل کور کے عوام کو یقین دلایا کہ نیشنل پارٹی نے پہلے بھی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اپنا قومی کردار ادا کیا ہے اور 2023ءکے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد علاقے کے مسائل کو حل کرنے میں اپنا کردار بھرپور انداز میں ادا کریں گے۔ بالگتر سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی بڑی تعداد نے نیشنل پارٹی میں اپنی شمولیت کا اعلان کردیا۔ جلسے سے نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان محمد بلیدی، ملا برکت بلوچ، پنجگور کے صدر حاجی صالح محمد، صغیر احمد، عبدالواحد بلوچ، اور ملا محمد انور بلوچ نے بھی خطاب کیا اور نیشنل پارٹی کی بالگتر پہنچنے پر نوجوانوں کی بڑی تعداد نے سہاکی پر مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ اور قیادت کا استقبال کیا۔ شمولیتی جلسہ میں نیشنل پارٹی کے مرکزی کمیٹی رکن واجہ ابوالحسن، مرکزی کمیٹی رکن محمد جان دشتی، ضلعی پنجگور صدر حاجی صالح بلوچ، مرکزی رہنما پھلین بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی ممبر ملا برکت، سینئر رہنما عبدالمالک صالح بلوچ، صوبائی ورکنگ کمیٹی ممبر فدا بلیدی، معتبر شیرجان، محمد طاہر، سردار الطاف گچکی، حفیظ علی بخش، حبیب بلوچ، اکرام گچکی وحید بلوچ سمیت دیگر رہنما موجود تھے۔
- Advertisement -