MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

قبائلی معاشرہ اور تعلیم نسواں

0 268

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر صدیق بلوچ
تعلیم نسواں کی حقیقت و افادیت اور اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا
تعیلم نسواں کے بغیر معاشرے نامکمل اور زوال پزیر ہوتے ہیں ایک پڑھی لکھی ماں کے بغیر مہزب معاشرے کا قیام ایک خواب ہے کیونکہ بچے کی پہلی درسگاہ ماں ہی ہوتی ہے
ہمارے دین اسلام نے عورت کے حصول تعلیم پر زور دیا ہے اور عورت کو علم حاصل کرنے سے منع نہیں کیا
آئین پاکستان بھی کسی صنفی امتیاز کے بغیر تعلیم کے یکساں مواقع کی ضمانت دیتا ہے
اس لیے علم حاصل کرنا جتنا مردوں کے لیے ضروری ہے اتنا ہی خواتین کے لیے ضروری ہے کیونکہ ایک تعلیم یافتہ خاتون نہ صرف اپنے گھر و خاندان بلکہ بہترین مہزب معاشرے کی تشکیل کے لیے اپنا کردار بخوبی ادا کر سکتی ہے
لیکن بدقسمتی سے
بلوچستان کے بعض قبائلی و دیہی علاقوں میں خواتین میں شرح تعلیم نہ ہونے کے برابر ہے
وہاں بسنے والی بچیاں تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں تعلیم جو کسی علاقے کی تعمیر و ترقی کے لیے اہم کردار اور قوموں کی ترقی کا راز و روشن مسقبل کی ضمانت ہے
تعلیم کے بغیر نہ تو کوئی قوم آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی کوئی کارنامہ انجام دے سکی ہے
لیکن بلوچستان میں تعلیم کا شعبہ مجموعی طور پر مسائل کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار ہے جبکہ صوبے کے بعض دیہی و قبائلی علاقوں میں خواتین کی تعلیم کی صورتحال انتہائی مایوس کن ہے تعلیم نسواں کے مطعلق حکومتی بلند بانگ دعوں کے برعکس صوبے کی دیہی علاقوں میں تعلیم نسواں نہ ہونے کے برابر ہے
ہر سال حکومتی سطح پر سکول میں بچیوں کی داخلے کے لیے مہم تو چلائی جاتی ہے لیکن اس میں انھیں خاطر خواہ کامیابی نہیں ملتی جس کی وجہ قبائلی معاشروں کےفرسودہ رواج اور ان کے بڑوں کی تعلیم سے دوری ہے ان فرسودہ سوچ و روایات کے حامل علاقے جہاں پر بیٹیوں کو بیٹوں کے برابر نہ سمجھنا بچیوں کو پرائی گھر کی اور عورت کو بچے پیدا کرنے والی مشین سمجھ کر بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنے کے بعد کم عمری کی شادی تحفے میں دی جاتی ہے جس کے باعث خواتین کو زندگی بھر متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے
اور جو بچیاں تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہیں انھیں یا ان کے والدین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ قبائلی و دیہی علاقوں میں لڑکیوں کے لیے سکول کا دور ہونا یا الگ سکول نہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسکولز کی حالت زار ہے ان سکولز میں بجلی پینے کے پانی کا دستیاب نہ ہونا واش رومز اور چار دیواری نہ ہونے کے باعث پردے کی سہولیات میسر نہ ہونے کی وجہ سے طالبات کو متعدد مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ دور دراز کے دیہی و قبائلی علاقوں میں تعلیم نسواں کو فروغ دینے اور ان مسائل کے حل کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات اٹھانے کے اعلانات اور دعوے فی الوقت موثر ثابت نہیں ہورہے
آج پوری دنیا سائنس اور ٹیکنالوجی کی مدد سے اپنے طلباء کو جدید علوم کی نئی جہتوں سے متعارف کروا رہے ہیں مگر اسی دور میں بلوچستان جیسی معدنیات سے مالا مال خطے میں بسنے والے طالبات جو فرسودہ روایات سے نکل کر زیور تعلیم سے آراستہ ہونا چاہتی ہیں ان کو روایتی تعلیم کے حصول کے لیے بھی متعدد مسائل و مشکلات کا سامنا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی و وفاقی حکومتیں
آئین کے رو کے مطابق تعلیم کے حصول کے لیے قبائلی و دیہی علاقوں کے بچیوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیم نسواں کی راہ میں درپیش رکاوٹوں کے سدباب میں اپنا کردار ادا کرے اور دور دراز کے علاقوں میں بسنے والے بچیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی اقدامات اٹھائے جن میں بچیوں کے علیحدہ اسکولز میں اضافہ اور ان میں مقامی کوالفائیڈ اسٹاف کی تعیناتی اور ایسے ماحول کی فراہمی جہاں بچیوں اساتزہ اور عملے کو بنیادی سہولتوں کی دستیابی اور داخل ہونے والے بچیوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ علماء کرام اور میڈیا کے ساتھ ملکر ایک موثر مہم چلائے تاکہ قبائلی و دیہی علاقوں میں رہنے والے بچیاں زیادہ سے زیادہ زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر نہ صرف بااختیار بلکہ اپنے آنے والی نسل تک علم کی روشنی پہنچانے کے ساتھ ساتھ اپنے علاقے و قوم کا نام روشن کر سکیں

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.