سالگرہ مبارک پاکستان
تحریر: کنول زہرا
ملک سے لاکھوں شکوے کرنے والوں نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بطور شہری ہم اس ملک کو کیا دے رہے ہیں؟
ملک میں صفائی، گندگی، اور بلدیاتی اداروں کی نااہلیوں پر بڑی بڑی باتیں کرنے والوں میں شامل ایسے لوگ ہیں جو گاڑی میں سفر کرتے ہوئے کھڑکی کھول کر ریپر اور تھیلیاں باہر سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ ٹریفک جام میں پھنسنے پر ٹریفک پولیس کو برا بھلا کہتے کہتے خود بھی کئی گاڑیوں کا راستہ روکتے خود پہلے نکل جانے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔ رشوت کو برا کہتے اور رشوت لینے والے افسروں اور اداروں پر لعنت ملامت کرتے خود بھی ڈرائیونگ لائسنس، پاسپورٹ یا دیگر کاغذات بنوانے، یہاں تک کہ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر چالان کروانے کے بجائے رشوت دینے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔تفریحی مقامات کی صفائی سے بے نیاز کچرا پھیلانے کو اپنا نصب العین سمجھتے ہیں,بجلی کے بحران پر حکمرانوں کو خرافات بکنے والے کنڈا سسٹم کو بھی فروغ دیکر مفت بجلی اور اے سی کے بے جا استعمال میں پیش پیش ہوتے ہیں
مان لیا پاکستان کے حکمران نااہل واقع ہوئے ہیں, سب نے وعدے کیے مگر انہیں وفا کرنے کی کوئی جرات نہ کرسکا مگر ان شخصیات کا انتخاب عوام ہی کرتے ہیں, جلسوں کی زینت عوام ہی بنتے ہیں, لیڈر کے مفاد پر اپنی عقل قربان کرنے والے بھی عوام ہی ہوتے ہیں اور جب لیڈر نالائق ثابت ہوتا ہے تو قصوروار ملک کو ٹہرانے کو عوام اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں
بحیثیتِ پاکستانی، ہمیشہ ہم نے اپنے قومی اور شہری فرائض سے غفلت برتی ہے, اب یہ غفلت مزید سنگینی اختیار کرچکی ہے۔ ہر مسئلے کا حل موجود ہے, ہر شہری کو انفرادی طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا, محض یہ کہہ دینے سے کہ یہ نظام ابتر ہے اس کا کچھ نہیں ہونے والا ہے, اس نظام کی ابتری میں سب کا ہی رول ہے, ہم سب کو ہی اس میں بہتری لانے کے لئے کام کرنا ہوگا, ہم ملک سے باہر جاکر بھی تو قانون کے پاسدار بن جاتے ہیں تو پاکستان میں کیوں نہیں? پاکستان میں نظام کی بہتری کے لئے سب سے پہلے ہمیں قدم اٹھانا ہوگا, یقینا یہ ابتدا میں دشوار ترین مرحلہ لگے گا, یہ ایک ہمت، صبر، اور تحّمل کا کام ہے, یہ کام وہی لوگ کرسکتے ہیں, جو جذبہ حب الوطنی رکھتے ہیں, جو کو اپنی رگِ جاں سے بھی قریب جانتے ہیں۔ملک خداداد کے اوپر بڑی سے بڑی مشکلات آئی ہیں, الله کے فضل سے سب خوش اسلوبی سے اپنے منطقی انجام کو پہنچی ہیں, پاکستان موجودہ حالات کے تناظر میں سیاسی انتشار کے سبب بہت سے خلفشار کا شکار ہے, بحیثت قوم ہمیں اس قسم کے لوگوں سے دور ہونا چاہئے جو اقتدار کے حصول کے لئے ملک کے اداروں کو کمزور کرنے کی خواہش رکھتے ہو, اس چودہ اگست پر الله کے فضل سے پاکستان 75
سال کا ہوجائے گا, ہم سب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ ہم نے اس 75 برس کے بزرگ کے ساتھ کیا کیا ہے?, ہم نے اسے راحت دی ہے یا تکلیف ? اس کے لئے فخر کا باعث بنے ہیں یا شرمندگی کا ? ہم نے اس کے اندھیرے کم کیے ہیں یا زیادہ? کہیں ہم کسی سیاسی قائد یا لیڈر کی اندھی تقلید میں ملک دشمن ایجنڈے کو تو کامیاب نہیں کر رہے ہیں?
22کڑوڑ قوم کو اپنے کردار, عمل اور اہمیت کو جانتے ہوئے اپنا احتساب کرنا ہوگا اور مادر وطن سے وعده کرنا ہوگا کہ ہم حقیقی پاسبان بنکر ہر ان قوتوں کو تہس نہس کر دیں گے جو اقتدار کی ہوس میں ملک کے اداروں کو کمزور کرنے کی چاہ میں حقیقی آزادی کا کھوکھلا نعرہ بلند کر عوام کو استعمال کر رہے ہیں, انشا الله ہم یہ سب کرنے میں کامیاب ہوگے, انشا الله آباد رہے گا پاکستان, سدا زندہ باد پاکستان