MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

منافقت کی سیاست اور پاکستانی عوام

0 432

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:دانش مینگل

قومی سیاست میں آج کل صرف اور صرف منافقت کی سیاست بنپ رہا ہے جو کہ پاکستان کے عوام کے ساتھ کھلا تضاد اور لمحہ فکریہ ہے عوام مہنگائی بیروزگاری لاقانونیت کا مارا ہے اور ہمارے سیاستدانوں نے اپنی منافقتوں اور کمزوریوں کو چھپانے اور اپنی چالبازیوں پر پردہ ڈالنے کے لیے چند اصلاحات گھڑ رکھی ہیں مثلاً سیاست میں کوئی دوست اور دشمن نہیں ہوتا اور سیاست میں دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں ایک منافق سیاستدان کے لیے کوئی دوست اور کوئی دشمن نہیں کی اصلاح بہت مفید اور کار آمد ہے کوئی بااصول سیاستدان جو کسی نظریئے کا قائل ہو دوستی اور دشمنی کا یہ معیار اور پیمانہ نہیں رکھ سکتا وہ ہم خیالوں اور نظریاتی ساتھیوں کا دوست اور دوسروں کا مخالف ہوتا ہے اسلام جیسے نظریاتی مذہب نے ہمیں یہی سکھایا ہے کہ کوئی مسلمان ہے تو کوئی غیر مسلم ہے جو بیچ میں ہے وہ منافق ہے اور دوستی اور دشمنی کے درمیان سفر کرنے والا منافق ہی ہو سکتا ہے اندر سے دوستی اور باہر سے دشمنی کیا ہوتی ہے دیکھیں گے کہ یہ سفر کب تک جاری رہتا ہے اور اس سفر کا اختتام کہاں ہوتا ہے

اس قوم نے سیاست میں اس قدر اتار چڑھاو دیکھے ہیں ایک وقت تھا سیاست عبادت کا درجہ رکھتی تھی سیاسی لوگ عوامی مسائل کا سنجیدگی سے حل نکالا کرتے تھے اور اپنی عوام کو آسدوگی و خوشحالی کی طرف لیجانے میں کردار ادا کرتے تھے کہیں بھی کوئی مسلہ مسائل ہوتا یہ لوگ فورا سے پہلے پہنچ کر عوام کاحصہ ہوتے تھے اور انھیں اپنے مسیحا کی صورت میں دیکھتے تھے اور اس لیے ان رہنمائوں کے لیے یہ ضروری ہو جاتا تھا کہ ان کی ذہنی پختگی اور کردار کی سلامتی باقی رہے تا کہ وہ قوم کی اپنے قول و فعل کے مطابق ترجمانی کر سکیں یہ نہ ہو کہ عوام ان کے قول و فعل کو دیکھتے ہوئے ان کو اپنے دلوں سے نکال پھینکیں
پاکستانی عوام کیساتھ اب تک جو کچھ ہوتا آیا ہے اور جو کچھ ہو رہا ہے عوام اس کے پس منظر اور پیش منظر سب جانتی ہے

جس طرح تعلیم پیغمبری پیشہ ہے سیاست بھی اسی طرح مقدس ہے قرآن پاک کی متعدد آیات میں منافقین کیلئے دوزخ کی سزا کا حکم ہے فرمایا گیا ہے کہ منافقین دوزخ کے سب سے بُرے درجے میں ہوں گے سورة توبہ میں تو منافقین کی صفات کے بارے میں بھی ذکر فرمادیا گیا ہے کہ اس گفتار و کردار والے منافق ہیں جس طرح پروردگار نے منافقین کے بارے واضح صفات بیان فرما کر عوام الناس کو آگاہ کر دیا ہے کہ ان لوگوں سے بچ کر رہنا اسی طرح قرآن پاک میں جا بجا مومنین کے بارے میں بھی ذکر فرمایاگیا ہے مومن لوگوں کی صفات بیان فرمائی گئی ہیں اور مومنین کو جنت کے وارثین فرمایا گیاہے آج کی دنیا میں اور خاص طور پر ہمارے پاک وطن میں جھوٹ ، فریب اور منافقت کا نام سیاست ہے راست گو شخص آج ملکی سیاست میں حصہ لینے کا اہل نہیں رہا اپنے ووٹروں سے جھوٹ، اپنے احباب اور کاروبار حیات میں منافقت، قول و فعل میں تضاد، کردار نام کی کوئی چیز ان میں پائی نہیں جاتی کہنا کچھ کرنا کچھ اور…. لیکن اس گئے گزرے دور میں مثال پیش کرنے کیلئے کچھ لوگ ابھی باقی ہیں چند روز ہوئے ایک ایسے واقفکار سیاست دان سے ایک مقامی ہوٹل میں اتفاقاً ملاقات ہو گئی آجکل کے سیاسی ماحول کے بارے میں اُن سے تبصرہ سننا چاہا اُن سے جب موجودہ دنوں کی سیاست کے بارے میں سوال کیا تو کہنے لگے آپ کو معلوم ہے میں نے دو مرتبہ الیکشن جیتا ہے اور عوام کی خدمت کر کے جیتا ہے لیکن آج ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ سیاست سے دل بھر گیا ہے آئندہ الیکشن میں حصہ نہ لینے کا پختہ ارادہ کر لیا ہے میں نے پوچھا وہ کیوں؟ تو کہنے لگے آپ نے ایک کہاوت تو سُنی ہو گی ایک آدمی کے بیٹے نے کہا جس دن سے والد کی موت دیکھا ہے اس دن سے میرا دل موت سے بھر گیا ہے” میں نے پھر سوال کیا اس سے آپکی مراد کیا ہے فرمانے لگے آجکل جو سیاست دان منافق اور جھوٹا نہ ہو وہ یکسر ناکام ہے ملک و قوم کا بیڑا غرق کر دیاگیا ہے موجودہ سیاست دانوں کو سیاست کا پتہ ہے نہ سیاست کی اخلاقیات کا ایسے حالات میں سیاست بھی منافقت کی موت مر رہی ہے چنانچہ ایسا دیکھ کر میرا بھی سیاست سے دل بھر گیا ہے

- Advertisement -

وطن عزیز میں سیاست کاروبار ہے، کوئی کھیل ہے یا عوام کو اپنا غلام بنائے رکھنے کا ایک بہانہ ہے سمجھ میں نہیں آتا آخر یہ جمہوریت ہے کس بلا کا نام؟ پاکستان میں جمہوریت جھوٹ اور منافقت پر مبنی ایک ایسا گھناؤنا کھیل بن چکا ہے جس کی آڑ میں مخصوص عناصر اپنے مذموم مقاصد حاصل کررہے ہیں جمہوریت کی شکل بگاڑنے میں جہاں طالع آزماؤں کا ہاتھ ہے وہاں موروثی سیاستدان، جاگیر دار، وڈیرے اور قبائلی سردار بھی اس میں شامل ہیں موجودہ صورتحال میں جمہوریت اپنی بدترین شکل میں رواں دواں ہے من حیث القوم ہمارا اپنا رویہ غیر جمہوری ہے کیونکہ ہماری سیاست دھڑے بندی پر قائم ہے ہر گلی ،محلے گاؤں اور شہر شہر دھڑے بندیاں ہیں طالع آزماؤں اور چالاک سیاستدانوں نے عوام کو منتشر و منقسم کردیا ہے جو موروثی سیاست کے تابع ہوکر ذہنی غلامی کا شکار ہوچکے ہیں عام ووٹر کسی بھی سطح پر ہونے والی رائے شماری پر ہر حال میں اپنی مقامی دھڑے بندی کو مد نظر رکھتا ہے قومی انتخابات بھی اسی دھڑے بندی کا شکار ہوجاتے ہیں شاید ہی چند افراد قومی ایشوز پر اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوں ورنہ قومی مفادات سے ہٹ کر ذاتی اور گروہ بندی و دھڑے بندیوں کی بنیاد پر اپنی رائے کا اظہار کیا جاتا ہے جس پارٹی کو وہ ووٹ ڈالنے جارہے ہیں اس کا منشور کیا ہے اس کی گزشتہ کارکردگی کیسی رہی ہے اس کو کبھی ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ملک کچھ عرصہ بعد انتشار کا شکار ہو کر پہلے سے بھی معاشی، سیاسی اور جمہوری طور پر کمزور ہوجاتا ہے جس سے مہنگائی، بیروزگاری، لاقانونیت اور افراتفری بھی بڑھتی چلی آرہی ہے سیاسی جماعتوں میں اپنے اندر جمہوریت نام کی کوئی چیز نہیں ہے

بلکہ یہ لمیٹڈ کمپنیاں بن چکی ہیں برس ہا برس سے پارٹی کے لئے خدمات سرانجام دینے والوں کو پارٹی کی قیادت سے کوسوں دور رکھا جاتا ہے لیکن موروثی نابالغ سیاستدان ان پارٹیوں پر چھائے ہوئے ہیں بغیر کسی سیاسی جدوجہد کے تجربے کے موروثی سیاستدانوں کے کھلنڈرے بچوں کے سامنے سر جھکا کر کھڑے ہوتے ہیں شو مئی قسمت کہ یہ طویل سیاسی تربیت کے حامل انتہائی تجربہ کار لوگ انہی نوزائیدہ سیاسی بچوں کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور ان کی اندھا دھند تقلید پر مجبور ہوتے ہیں
اسی وجہ سے ہمارے ہاں جمہوریت کا یہ حال ہے اگر جمہوری ملکوں کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو وہاں کی سیاسی جماعتوں کی باگ ڈور ہمیشہ تجربہ کار سیاستدانوں کے ہاتھ میں ہی رہی ہے جس کی وجہ سے وہاں جمہوری نظام اپنی حقیقی شکل میں موجود ہے بد قسمتی سے پاکستان میں جمہوریت اپنے اصل روپ میں پنپنے ہی نہیں دی گئی پاکستانی سیاست میں جھوٹ اور منافقت کا عنصر نمایاں اس لئے بھی دکھائی دیتا ہے کہ یہاں آمروں کی پوجا کی حد تک پذیرائی کی جاتی رہی ہے اور لوٹ مار کرنے والے سیاستدانوں کو اپنا راہبر و رہنما مانا جاتا ہے جہاں رہزن رہبر کے روپ میں ہوں وہاں ملک کا قومی خزانہ خالی اور عوام بھوک و افلاس کی دلدل میں نہیں تو اور کہاں ہونگے؟

سیاست میں جھوٹ کو فروغ دینے میں میڈیا کا بھی اہم کردار ہے کانوں کو ہاتھ لگانا پڑتے ہیں جب ٹی وی پر بیٹھ کر اس قدر ڈھٹائی سے جھوٹ بولا جاتا ہے آگ کو پانی ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جاتی مزے کی بات یہ ہے کہ اس جھوٹ پر بھی قوم دھڑوں میں بٹی ہوتی ہے ایک دھڑا باوجود اس کے کہ وہ اس جھوٹ کی حقیقت کو جان رہا ہوتا ہے لیکن اپنے مخالف دھڑے کو نیچا دکھانے کے لئے وہ بھی اس جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہوتا ہے اس سلسلے میں سوشل میڈیا اس گند سے بھرا ہوا ہے جہاں سیاسی جماعتوں کے سوشل میڈیا سیلز اپنے سیاسی لیڈر کے گوبر کو ساگ ثابت کررہے ہوتے ہیں اور ان کے مقلد اندھا دھندندھا دھند اس گند کو بلا سوچے سمجھے شئیر کررہے ہوتے ہیں کیونکہ اس سے انہیں اپنے مخالفین کو نیچا دکھانے کی کوشش میں تسکین مل رہی ہوتی ہے ادھر سیاستدان بھی گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہیں ایک بات کی وہ جس وقت حمایت کررہے ہوتے ہیں تو جیسے ہی ان کی مخالف سیاسی جماعت کچھ عرصہ بعد اسی بات کی حمایت کرے تو وہ فوراً پینترا بدلتے ہوئے اس کی خوامخواہ مخالفت میں پیش پیش ہوجاتے ہیں ہمارے ہاں مذہبی کارڈ بہت آسانی سے کھیلا جاتا ہے شراب و زنا کے مرتکب ،کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ کرنے والے اور ذخیرہ اندوزی و گراں فروشی کے رسیا لوگ کسی بھی مذہبی شوشے پر اس طرح شور مچا رہے ہوتے ہیں جیسے وہ متقی و پرہیزگار ہیں یہی منفاقت ہے جو ہمیں دین سے دور لے جارہا ہے قومی سیاست میں مذہب کارڈ استعمال کرنے والے نام نہاد علماء کا کردار بھی انتہائی گھناؤنا ہے نام نہاد جمہوریت نے عام آدمی کو اقتدار کے ایوانوں سے کوسوں دور کردیا گیا ہے اب وہی لوگ اعلیٰ ایوانوں تک پہنچ سکتے ہیں جو دولت مند اور اس کھیل کا باقاعدہ حصہ ہیں ورنہ اہلیت اور قابلیت کی بنیاد پر تو کسی عام سیاسی ورکر کو جماعت میں عہدہ تک نصیب نہیں ہوتا

جب تک سیاست سے کاروبار الگ نہیں ہوتا تب تک مافیاز عوام کو لوٹتے رہیں گے اگرچہ عوام انہی مافیاز کے حق میں نعرے مار مار کر ہلکان ہورہے ہوتے ہیں جب تک جھوٹ اور منافقت ہمارے مزاج کا حصہ ہے تب تک سیاست کو بھی اس سے پاک نہیں کیا جاسکتا

ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والوں کو جب تک عوام کی جانب سے سبق نہیں سکھایا جاتا تب تک لٹیرے استحصال کرتے رہیں گے عوام کی جیبیں خالی جبکہ لٹیروں کی فیکٹریوں اور ان کے بیرون ملک اثاثوں میں ناجائز اضافے کا سلسلہ جاری رہے گا عام آدمی بھوک و افلاس میں مبتلا اور منافق سیاست دان امیر سے امیر تر اور مضبوط ترین ہوتا چلا جائے گا 🙏

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.