گورنر پنجاب نے بطور چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں سیاسی پروگرام کے انعقاد کا نوٹس لے لیا
لاہور (مسائل نیوز) گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے بطور چانسلر گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں سیاسی پروگرام کے انعقاد کا نوٹس لے لیا۔گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کے نامور تعلیمی ادارے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کا سیاسی اکھاڑہ بنانا افسوس ناک ہے، جامعات میں اس طرح کے سیاسی جلسوں کی گنجائش نہیں۔نائب صدر ن لیگ نے بھی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کو فتنہ گردی سے پاک رکھنا قومی فریضہ ہے۔
یہ ہماری آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ گورنمنٹ کالج جیسے تاریخی ادارے میں فارن فنڈنگ اور منی لانڈرنگ میں ملوث شخص کا گھس کر سیاسی سرگرمیاں کرنا ہرگز قابلِ قبول نہیں۔مریم نواز کی ٹویٹ پر ردِعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے بھی مریم نواز کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا میں سیاسی لیڈر اپنے خیالات کے اظہار کیلئے یونیورسٹی ہی جاتے ہیں،آپ جدید سیاسی رجحانات سے نابلد ہیں اور سوائے سازش کے آپ کی کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں تو آپ ایسے احمقانہ مطالبے کر رہی ہیں۔
- Advertisement -
فواد چوہدری نے مزید کہا کہ آپ کو خود یونیورسٹی جانا چاہئے،اب نوجوان آپ کی بات سنتے ہیں یا نہیں یہ علیحدہ بات ہے۔ادھر چئیرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے جی سی یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرکے کہا کہ ہم نے اپنے دور میں معاشی ترقی کی۔ ہم نے اپنی آئی ٹی یوتھ کو آئی ٹی کے ٹیکنیکل اسکلز سکھانے تھے۔ بدقسمتی سے ہم نے 20 سال ضائع کیے۔
آج بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ 140 ارب روپے ہے۔20 سال پہلے بھارت کی آئی ٹی ایکسپورٹ ایک ارب تھی۔ پاکستان کا مستقبل ٹیکنالوجی میں ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ بزدل کبھی آگے نہیں بڑھ سکتا وہ ڈر میں ہی رہتا ہے۔خود غرض کبھی ذات سے نہیں نکل پاتا۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستان میں اشرافیہ کو اپنی ذات کی پڑی ہوتی ہےمعاشرے میں ظلم، ناانصافی ہے تو لوگ اس کے خلاف کھڑے ہوں گے۔
دو طبقے ظلم و ناانصافی کا مقابلہ نہیں کر سکتے، ایک بزدل اور دوسرا خود غرض۔اشرافیہ ملک اور عوام کی نہیں اپنے فکر میں رہتی ہے۔عمران خان نے مزید کہا کہ ہماری حکومت سازش کے تحت ہٹائی گئی۔امریکی نمائندہ ہمارے سفیر سے ناراضی کا اظہار کرتا ہے۔امریکی نمائندہ کہتا ہے کہ آپ نے عمران خان کو ہٹانا ہو گا۔ڈونلڈ لو نے کہا کہ اگر چیری بلاسم کو لے آئے تو پھر ہم پاکستان کو معاف کر دیں گے۔