مودی کا ہندوستان اسلام فوبیا کا شکار
تحریر: کنول زہرا
گجرات کا قصاب نریندر مودی نے جب سے بھارت کا اقتدار سنھبالا ہے, بھارت آر ایس ایس کے نظریات کا گڑھ یعنی ہندوتوا کا دیس بن گیا ہے, جسے ہندوستان کہتے ہیں, جہاں اسلام فوبیا کا راج ہوتا جا رہا ہے, مودی کے ہندوستان میں مسلمانوں پر تشدد کرکے رام رام کہلانے کے واقعات بھی
ریکارڈ کا حصہ ہیں
چشم فلک واقف ہے کہ
2002 میں انتہا پسند نریندار مودی نے گجرات، احمد آباد اور دیگر علاقوں میں تقریباً 2000 سے زائد مسلمانوں کو شدت تشدد کر کے موت کے گھاٹ اترا تھا، ان مظالم کی وجہ سے امریکہ اور دیگر مغربی ریاستوں میں اس کا داخلہ بند تھا.
2014
میں گجرات کے قصائی نے بھارتی منصب سنھبالتے ہی مسلمانوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ ریاستی طور پر شروع کردیا.
گائے کے نام پر پر تشدد واقعات:
ان پُرتشدد واقعات کی نہ تو مذمت کی گئی نہ ہی روک تھام اور نہ ہی کوئی گرفتاری عمل میں آئی.
بھارتی تاریخ میں سال 2017 ملک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھا، اس سال گائے کے نام پر تشدد اور قتل وغارت عروج پر رہی، بھارتی اخبار کے مطابق 5 فیصد حملوں میں کوئی گرفتاری نہیں ہوئی جب کہ 13 فیصد میں الٹا متاثرہ افراد کے خلاف ہی پرچے کاٹ دیے گئے
گائے کا گوشت گھر میں رکھنے پر انتہاپسندوں نے 55 سالہ محمد اخلاق کو مار مار کر لہولہان کردیا اور اس کے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتارڈالا. اطلاعات کے مطابق2017 میں اس قسم کے 52 واقعات ریکاڈر کیے گئے ہیں.
بابری مسجد کیس
آپ کے علم میں ہوگا کہ نومبر 2019 میں بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رانجن گنگوئی کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ مسجد کی جگہ پررام کی جنم بھومی تھی اور بابری مسجد کے نیچے اسلامی تعمیرات نہیں تھیں، بابری مسجد کو خالی پلاٹ پر نہیں ہندو اسٹرکچر پر تعمیر کیا گیا ہے، ریونیو ریکارڈ کے مطابق یہ زمین سرکاری تھی.
مسلمانوں پر گھر خریدنے یا کرائے پر لینے پر پابندی:
2014
میں مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہندو انتہا پسند جماعتوں کی تنگ نظری نے مسلمانوں کی زندگی کو مزید مشکل در مشکل بنادیا ہے، اب بھارتی مسلمان ممبئی،احمد آباد سمیت دیگر شہروں میں نہ گھر خرید سکتے ہیں اور نہ ہی کرائے پر حاصل کرسکتے ہیں یہی وجہ ہے کہ بھارت کی مقبول اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی بھی ایک ٹی وی پروگرام میں مسلمانوں پر ہونے والے ظلم پر خاموش نہ رہ سکیں اور ہندو انتہا پسند سوچ کے خلاف کھل کر بولیں۔
شبانہ اعظمی نے پروگرام کے دوران انتہائی غمزدہ لہجے میں کہا کہ انہیں اور ان کے شوہر جاوید اختر کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ممبئی میں مکان نہیں مل رہا تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اتنی مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود اگر وہ ممبئی میں مکان حاصل نہیں کرسکتے تو ایک عام مسلمان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا،ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت مسلمانوں کے لئے مسائل کا مجموعہ بن گیا ہے، یہاں سیکیولر ریاست کی محض بات کی جاتی ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا ہے
مسلمانوں پر ملازمت کا حصول مشکل ہوگیا:
بھارت میں ہندو راج کے نفاذ کے بعد ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کی حکومت نے ریاست مہاراشٹرا میں ملازمتوں اور تعلیمی اداروں میں مسلمانوں کے لئے مختص کیا گیا 5 فیصد کوٹہ بھی ختم کردیا ہے.
مقبوضہ کشمیر میں مظالم
- Advertisement -
ہم یہاں مقبوضہ کشمیر کو کیسے فراموش کرسکتے ہیں،
انڈیا نے 72 سال گزرنے کے بعد بالآخر زبردستی کشمیر کشمیر پر قبضہ کر لیا ہے، مقبوضہ وادی کی خود مختار ریاست کی آئینی حیثیت کو ختم کر کے زبردستی بھارت میں ضم کرلیا ہے، یہ ظلم بھی گجرات کے قصائی مودی کے دور میں رونما ہوا ہے.
گجرات کے قصائی مودی نے مقبوضہ کشمیر کے 80 لاکھ مسلمانوں پر 9لاکھ فوج مسلط کی ہوئی ہے،جو اُنہیں ظلم و جبر کا نشانہ بنا رہی ہے، بھارتی ستم کی وجہ سے 80 لاکھ سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ہیں۔ جینوسائڈ (Genocide) کی عالمی تنظیم کا کہنا ہے کہ کسی بھی قوم کی نسل کشی کی تشریح کے 10 مراحل ہوتے ہیں جبکہ ہندوستان، مقبوضہ کشمیر میں جینوسائڈ کے 9 مراحل مکمل کر چکا ہے۔
1947سے 50 سال تک تو انڈیا میں بی جے پی یا وجود ہی نہیں تھا تاہم 1998میں پہلی انہیں اقتدار ملا جس کے تحت واجپائی کو وزارات عظمی ملی، ان دنوں بی جے پی کی حکومت بہت کمزور تھی 2014 میں مودی نے وزیراعظم کا منصب سنھبالا تب بھی بھارتی جنتا پارٹی 3/2
کی اکثریت حاصل نہیں تھی مگر 2019ءکے عام انتخابات میں مودی نے بھرپور طریقے
کشمیراور ہندو کاڈر کھیل کر 3/3 کی اکثریت حاصل کی بعد ازاں لاکھوں کی تعداد میں اپنی فوج اور پولیس کومقبوضہ کشمیر میں اتر کر ان کی اعلی قیادت کو جیل میں ڈال کر آئین کی دفعہ 370 اور 35 اے کو حزف کرکے وادی میں کرفیو کا نفاذ کر دیا.
سو سے زائد دنوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم و ستم جاری ہے، دنیا بھر سے ٹیلی فونک و بذریعہ انٹرنیٹ رابطہ منقطع ہے، خبروں کا مکمل بلیک آﺅٹ جاری ہے کرفیو چل رہا ہے پورا علاقہ ایک بہت بڑی جیل میں تبدیل ہو چکا ہے۔ خوراک کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے۔ بھا رتی پولیس و فوج کی جانب سے سڑکیں بند ہیں ایمبولینس کو بھی گزرنے کی اجازت نہیں۔ گھروں میں گھس کر نوجوانوں کو اٹھا لیا جاتا ہے لاپتہ افراد کی تعداد ہزاروں میں ہے، بین الاقوامی اخبارات بھارتی ظلم کو دیکھ کر مقبوضہ جنت نظیر وادی کو جہنم قرار دے رہے ہیں، پاکستان اپنے مقبوضہ کشمیری بھائیوں و بہنوں کے ساتھ ہے اور عالمی دنیا میں ان کے حقوق کا دفاع کرتے ہوئے ان کے حق میں آواز بلند کر رہا ہے، جس پر ہندوستان کو بہت غصہ ہے.
تین طلاق کا معاملہ
دسمبر 2017 میں
بھارتی وفاقی کابینہ نے ایک ہی نشست میں تین طلاق کی روایت کو قانوناً جرم بنانے کے لیے ایک مجوزہ قانون کی منظوری دیدی ہے جسے اب پارلیمان میں پیش کیا گیا۔
اس قانون کے تحت ایک ساتھ تین طلاق کہہ کر شادی ختم کرنے والے شوہر کو زیادہ سے زیادہ تین سال قید کی سزا سنائی جاسکے گی۔ بل منظور ہوجانے کے صورت میں فوری طلاق ایک ناقابل ضمانت جرم بن جائے گا، چاہے طلاق زبانی دی گئی ہو، تحریری شکل میں یا ایس ایم ایس وغیرہ پر…
31 جولائی 2019 کو انڈیا میں تین طلاق سے متعلق بِل لوک سبھا کے بعد اب راجیہ سبھا میں بھی منظور کر لیا گیا۔اس بل کے حق میں 99 جبکہ مخالفت میں 84 ووٹ پڑے۔
لو جہاد کا پروپیگنڈا:
اگست 2018 میں بھارت میں مودی سرکار کی جانب سے
لو جہاد، محبت جہاد یا جہاد عشق کی اصطلاح سامنے آئی جسے ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کیا۔ انتہا پسندوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کر رہے ہیں جس کا مقصد بھارت میں ہندوؤں کی آبادی کو ختم کرنا ہے.
بھارتی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ نے ریاست کیرالا سے تعلق رکھنے والی نومسلم خاتون کی مسلمان نوجوان سے شادی کی منسوخی کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کی۔ عدالت نے ہندو لڑکیوں کے اسلام قبول کرنے اور مسلمان نوجوانوں سے شادیوں کے زور پکڑتے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی تحقیقات نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی (این آئی اے) سے کرانے کا حکم دیا۔
مسلمان جوڑے کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ نومسلم لڑکی نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے اور اس کا بیان بھی سنا جائے لیکن عدالت نے استدعا مسترد کرتے ہوئے نومسلم لڑکی کا بیان بھی سننا گوارا نہ کیا اور جوڑے کے تمام مضبوط دلائل کو مسترد کردیا۔
سپریم کورٹ نے این آئی اے کو انکوائری کا حکم دیا کہ کیا مسلمان نوجوان بشمول کالعدم اسلامی تنظیمیں ہندو لڑکیوں کو مسلمان کرکے انہیں دہشت گرد بنا رہی ہیں۔ ججز نے کہا کہ کسی بھی شخص کو اس کی مرضی سے کوئی خطرناک کام کرنے پر آمادہ کرنا آسان ہوتا ہے۔
این آئی اے کے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ بھارت میں اپنے والدین سے بدظن نوجوان ہندو خواتین کو پیار کے جال میں پھنسا کر مسلمان کرکے ان سے شادیاں کی جارہی ہیں۔
کیرالا سے تعلق رکھنے والی 24 سالہ نوجوان ہندو خاتون آخیلا اشوکاں نے اسلام قبول کرکے اپنا نام ہادیہ رکھا اور مسلمان نوجوان شفیع جہاں سے محبت کی شادی کی۔ ہادیہ کے ہندو باپ اشوک نے اس شادی کے خلاف کیرالا ہائی کورٹ میں مقدمہ دائر کردیا، عدالت نے اس شادی کو یہ کہہ کر منسوخ کردیا کہ یہ ’’لو جہاد‘‘ کا کیس ہے۔ بھارت میں لو جہاد کی اصطلاح ہندو انتہا پسندوں نے ایجاد کی ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو اپنے پیار کے جال میں پھنسا کر انہیں مسلمان کرکے شادیاں کررہے ہیں جس کا مقصد بھارت میں ہندوؤں کی آبادی کو ختم کرنا ہے۔ ہادیہ کے باپ نے عدالت سے یہ بھی کہا کہ شفیع جہاں کا تعلق داعش سے ہے۔
کیرالا کی ہائی کورٹ نے لوجہاد کے دعوے کو بنیاد بناکر ہادیہ اور شفیع جہاں کی شادی کو کالعدم کردیا، حالانکہ ہادیہ نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ وہ برضا و رغبت مسلمان ہوئی ہے اور دونوں کی ملاقات ایک اسلامی شادی ویب سائٹ کے ذریعے ہوئی جہاں ہادیہ نے شادی کا اشتہار دیا تھا۔ شفیع جہاں نے کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔
دوسری جانب بھارت کی قومی تفتیشی ایجنسی نے اس دلیل کے ساتھ کہ اسے مبینہ ’لو جہاد‘ کے نام پر جبراً مذہب تبدیل کرانے کے کسی الزام کا کوئی ثبوت نہیں ملا، اس معاملے کو بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انسداد دہشت گردی کے لیے قائم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کا کہنا ہے کہ مبینہ ’لوجہاد‘ کے معاملات کی تفتیش کے دوران یہ بات تو سامنے آئی کہ مسلم ہندو لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان ’لو میرج‘ ہوئی اور بعض معاملات میں مذہب بھی تبدیل کیا گیا، لیکن اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ ایسا زور زبردستی یا کسی مجرمانہ سازش کے تحت کیا گیا۔ اسی کے ساتھ این آئی اے نے ’لوجہاد‘ کے حوالے سے تمام معاملات کی انکوائری بند کردی اور اب اس بات کا امکان تقریباً نہیں ہے کہ این آئی اے اس معاملے میں آئندہ تفتیش کرے گی۔
ہندو شدت پسند تنظیمیں یہ الزام لگاتی رہی ہیں کہ مسلم نوجوان محبت کی آڑ میں ہندو لڑکیوں کو دھوکہ دے کر، ورغلا کر، بلیک میل کر کے اور بعض اوقات زبردستی مذہب تبدیل کراتے ہیں۔ یہ تنظیمیں اسے ’لوجہاد‘ کا نام دیتی ہے اور ان کے اراکان بین المذاہب شادی کرنے والوں کو اکثر تشدد کا نشانہ بناتے رہتے ہیں۔ تشدد کے ایسے واقعات سب سے زیادہ بی جے پی کی حکومت والی ریاست اترپردیش میں رونما ہوئے ہیں جہاں وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کی قائم کردہ انتہاپسند تنظیم ‘ہندو یووا واہنی‘ تشدد کے ایسے معاملات میں پیش پیش رہی ہے۔ بھارت کی مسلم جماعتیں مبینہ ’لوجہاد‘ کے وجود سے انکار کرتی ہیں۔
جنوبی ریاست کیرالا میں ہندو مذہب تبدیل کر کے مسلمان ہوجانے والی ہادیہ نامی لڑکی کے شافعین جہاں نامی ایک مسلم نوجوان سے شادی کا واقعہ سامنے آنے کے بعد ’لوجہاد‘ کے معاملے نے کافی شدت اختیار کرلی تھی۔ ہادیہ کے والد کی طرف سے دائر کردہ درخواست کی بنیاد پر کیرالا ہائی کورٹ نے اس شادی کو کالعدم قرار دے دیا تھا لیکن جب یہ معاملہ بھارتی سپریم کورٹ میں پہنچا تو اس نے کیرالا ہائی کورٹ کے حکم کو منسوخ کردیا۔ سپریم کورٹ نے اسی کے ساتھ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کو ’لوجہاد‘ کے مبینہ معاملات کی انکوائری کا حکم بھی دیا تھا۔
جس کے بعد این آئی اے نے کیرالا میں بین المذاہب شادیوں کے گیارہ معاملات کی تفتیش کی۔ یہ گیارہ معاملات ان 89 معاملات میں شامل تھے جو بین المذاہب شادی کے سلسلے میں فریقین بالخصوص والدین کی طرف سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے پاس درج کرائے گئے تھے اور کیرالا کی پولیس نے جن کی انکوائری این آئی اے کو سونپی تھی۔
این آئی اے نے ایسے جن گیارہ معاملات کی جانچ کی ہے، ان میں سے کم از کم چار معاملات میں ہندو مردوں نے شادی کرنے کے لیے اسلام قبول کیا جب کہ بقیہ معاملات میں ہندو خواتین نے مسلم مردو ں سے شادی کی تھی۔ این آئی اے نے اپنی تفتیش میں یہ بھی پایا کہ کم از کم تین معاملات میں مذہب تبدیل کرانے کی کوشش ناکام رہی۔
ہندو شدت پسند تنظیموں کا الزام تھا کہ ’لو جہاد‘ ہندو لڑکیوں کو مسلمان بنانے کی منظم سازش ہے
یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ بھارتی آئین میں ملک کے تمام شہریوں کوکسی بھی مذہب کو ماننے اور اس کی پرامن تبلیغ و اشاعت نیز اپنی پسند کی شادی کرنے کو ان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ این آئی اے نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کیرالا میں تبدیلی مذہب کوئی جرم نہیں ہے۔ اسی طرح قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کسی مرد یا عورت کو مذہب تبدیل کرنے میں مدد کرنا بھی کوئی جرم نہیں ہے۔
ہادیہ معاملے میں کیرالا کی ایک سیاسی جماعت پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) پر یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ یہ جماعت پیسے کا لالچ دے کر ریاست میں تبدیلی مذہب کرا رہی ہے اور مذہب تبدیل کرنے والوں کو بعد میں بین الاقوامی انتہا پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘میں شامل کرا رہی ہے۔ پی ایف آئی نے تاہم ان الزامات کی تردید کی تھی۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں کہا، ”جن معاملات کی تفتیش کی ان میں سے بیشتر میں یہ بات تو سامنے آئی کہ پی ایف آئی یا اس سے وابستہ افراد نے مرد یا خاتون کو شادی کے لیے اسلام قبول کرنے میں مدد کی لیکن ایسی کسی حرکت کا ثبوت نہیں ملا جس کی بنیاد پر ان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے یا غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام سے متعلق قانون کے تحت کارروائی کی جائے۔‘‘
پی آئی ایف کے لیگل ایڈوائزر کے بی محمد شریف نے ایک بیان جاری کر کے کہا، ’’لو جہاد دراصل ہندو شدت پسند طاقتوں کی طرف سے پھیلایا گیا سراسر جھوٹ اور ایک ناپاک منصوبہ ہے، تاکہ مسلمانوں کو بدنام کیا جا سکے اور نشانہ بنایا جاسکے۔ لیکن مختلف ایجنسیوں کی طرف سے متعدد تفتیش اور انکوائری میں یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ یہ الزامات یکسر جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔‘‘
یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ’لوجہاد‘ بھارت میں اب ایک انتخابی موضوع بن چکا ہے۔ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی اور اس کی معاون تنظیمیں ہر الیکشن سے قبل ’لوجہاد‘ کا معاملہ ضرور اچھالتی ہیں۔ اب جب کہ عام انتخابات میں صرف چند مہینے باقی رہ گئے ہیں، ہندو شدت پسند تنظیم وشو ہند و پریشد (وی ایچ پی) نے ‘اینٹی لوجہاد مہم‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ وی ایچ پی پر ’ لو جہاد‘ کے نام پر ہنگامہ اور تشدد کرنے کے الزامات عائد ہوتے رہے ہیں اور یہ معاملہ کئی مرتبہ پارلیمان میں بھی اٹھایا جاچکا ہے۔
بھارتی، متنازعہ شہریت ترمیمی بل:
اب آتے ہیں ذرا بھارتی قانون ساز اسمبلی کے منظور شدہ شہریت ترمیمی بل کی جانب جس میں مسلمانوں کے علاوہ ہر اقلیت کو ریلیف حاصل ہوگا، یعنی باپ، دادا کے حوالے سے مکمل معلومات مسلمانوں سے درکار ہے جبکہ دیگر اقلیتوں کو اس قسم کے سوالات کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا ہے.
اس قانون کا اطلاق افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے ترک وطن کرنے والے ہندو، مسیحی، سکھ، جین، زرتشت یا بدھ شہریوں پر ہو گا۔ تاہم یہ قانون مسلمانوں کے لیے نہیں۔
استحصال کا شکار خطے کی دوسری اقلیتیں جن میں سری لنکا کے تامل ہندو، میانمار کے روہنگیا مسلمان یا چین کے اویغور مسلمان شامل ہیں، اس قانون سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔
بی جے پی کے صدر اور بھارتی وزیر دا خلہ امِت شاہ کئی بار مسلمان تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن کی بات کر چکے ہیں۔ انہوں نے اپریل میں بنگلہ دیش سے ترک وطن کرنے والے مسلمانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ’بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت دراندازوں کو ایک ایک کرکے اٹھائے گی اور انہیں خلیج بنگال میں پھینک دے گی۔‘
انہوں نے ریاست جھاڑکھنڈ میں خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا ’میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ 2020 میں عام انتخابات سے پہلے میں انہیں نکال باہر کروں گا۔‘
شہریت کے نئے قانون کے تحت ہندوؤں کے لیے موقع ہے کہ وہ افغانستان، بنگلہ دیش یا پاکستان سے ترک وطن ثابت کر کے بھارتی شہریت حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب مسلمان دستاویزی طور پر بھارتی شہریت ثابت کرنے میں ناکامی پر غیرملکی قرار دیے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
اس ناانصافی کے تحت بھارتی مسلمان جمہوری طریقے سے سراپا احتجاج ہیں جس پر ہندوراج کی داعی سرکار نالاں و چراغ پا ہے اور اشتعال انگیز بیانات و کاروائیاں کر رہی ہے.
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف علی گڑھ میں مظاہروں کے دوران پولیس نے مسلم یونیورسٹی میں داخل ہوکر انتہائی بربریت کا مظاہرہ کیا تھا، آنسو گیس کے شیل داغے، ہاسٹلوں میں داخل ہو کر طلبہ کو بری طرح مارا پیٹا یہ ہی نہیں بلکہ بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے ریاستی دہشتگردی کرتے خواتین کو بھی ہراساں کررہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں، بھارت سے جاؤ، ہندوستان ہمارا ہے، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق بھارتی پولیس نے گھروں میں گھس کر گھریلو اشیا کی توڑ پھوڑ کی اور قمیتی سامان تک اپنے ہمراہ لے گئے ہیں، بھارت کے دگرگوں حالات میں مسلم طالب علموں تک کو بھی نہیں بخشا جارہا ہے، بھارتی پولیس نے جامعہ ملیہ دہلی میں گھس کر طالبہ و طالبات کو جبر کا نشانہ بنایا،اطلاعات ہیں کہ بھارتی پولیس تا حال چھ طالبات کا ریپ بھی کرچکی ہے، بھارتی مسلمان طالبہ نے جامعہ ملیہ میں بھارتی پولیس کے بے رحمانہ تشدد کے بعد چیخ چیخ کر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے کہا کہ پہلے کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے۔ ہم چپ رہے ۔ پھر بابری مسجد کا غیر منصفانہ فیصلہ سامنے آیا، ہم صبر کر گئے اور اب یہ متنازعہ شہریت بل اور اُس کے اوپر احتجاج کرنے پر پولیس کا شدید لاٹھی چارج اور آنسو گیس شیلنگ کے بعد ہم مسلمان واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ اب ہم صبر نہیں کریں گے۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے۔ ہم مودی کی فرعونیت کا مقابلہ کریں گے۔
اترپردیش کے ایک وزیر رگھوراج سنگھ نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی اور یوپی کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ کے خلاف نعرے لگانے والوں کو ‘زندہ دفن‘ کر دینے کی دھمکی دی۔ 27 دسمبر 2019 کو اتر پردیش کے مختلف حصوں میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس کی جانب سے تشدد کے بعد 19افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں، بعد ازاں ریاست کے 75 اضلاع میں سے 21 میں انٹرنیٹ بند کر دیا گیا تھا، جس کی فراہمی تاحال معطل ہے.
اس دوران جن مقامات پر 19 دسمبر کو مظاہروں میں تشدد ہوا تھا وہاں پولیس نے سی سی ٹی وی کیمروں، وڈیو فوٹیج اور اخباروں میں شائع ہونے والی تصاویر کی بنیاد پر بڑی تعداد میں گرفتاریاں کی گئیں جبکہ درجنوں مسلمانوں کو شہید بھی کیا گیا, مقبوضہ کشمیر میں معصوم لوگوں پر ستم توڑتی بھارتی سرکار اسلام فوبیا کے مرض کی لا علاج مریض بنتی جا رہی ہے, جس کی روک تھام کی اشد ضرورت ہے, جس کے لئے اقوام عالم کو ٹھوس اقدامات کرنے ہونگے
[…] (مسائل نیوز)بھارت میں ہندو انتہا پسندوں کی مسلم اور دیگر اقلیتوں سے متعصبانہ برتاؤ کسی سے […]
[…] کے جنگلات میں ایک خاتون کو مبینہ طور پر 3 افراد نے ریپ کا نشانہ بنا ڈالا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کرلیا […]