MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اعظم نذیر تارڑ نے آرٹیکل 62 ون ایف کے خاتمے کا مطالبہ کردیا

1 202

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بھی 62 ون ایف کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاحیات نااہلی کے قانون کو ختم کرنے کیلئے یہ بہترین وقت ہے۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 62 ون ایف کے قانون کو مکمل ختم ہونا چاہیے جبکہ صدر اسلام آباد ہائیکورٹ بار شعیب شاہین نے پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ 62 ون ایف کے خاتمے کی بجائے اس میں ضروری ترامیم ہونی چاہئیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال 62 ون ایف کو کالا قانون قرار دے چکے ہیں۔سپریم کورٹ میں فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل پر سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ تاحیات نااہلی کا آرٹیکل 62 ون ایف کالا قانون ہے۔
موجودہ کیس کو محتاط ہو کر سنیں گے۔الیکشن کمیشن کو غلط بیان حلفی پر تحقیقات کا اختیار حاصل ہے۔

- Advertisement -

الیکشن کمیشن کے تاحیات نااہلی کے حکم کو کالعدم قرار دیں تو بھی حقائق وہی رہیں گے۔الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کیس میں حقائق کا درست جائزہ لیا ہے۔وکیل نے عدالت میں بتایا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے فیصلے میں واضح کہا کہ فیصل واوڈا نے دہری شہریت تسلیم کی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ کیس میں سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن تاحیات نااہلی کا حکم دے سکتا ہے یا نہیں؟۔
کیس کو تفصیل سے سنیں گے،سپریم کورٹ نے وقت کی کمی کے باعث کیس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے رہنما فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر کی گئی جس پر چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ سماعت کی،جسٹس منصور علی شاہ بھی بینچ کا حصہ ہیں۔ فیصل واوڈا نے الیکشن کمیشن کا تاحیات نااہلی کا فیصلہ سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت کیس میں سابق وزیر فیصل واوڈا کو نااہل قرار دیا تھا ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] آباد(مسائل نیوز) وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے احتجاجاَ عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔انہوں نے ایکسپریس […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.