MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

مولانا شمس الدین کی درویشانہ حیات تا دلیرانہ شہادت

0 305

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:سید نجیب اللہ حریفال

دینِ اسلام کے عالمبردار وسعتِ فکر و نظر کے حامل شخصیتِ زماں و آفتابِ تاباں نے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی،دینی تعلیم و روحانی تربیت نے ترقی و کامیابی کے اعلیٰ مراتب و درجات پر فائز بنایا، صوبہ بلوچستان کے ضلع ژوب کا چشم و چراغ ایک عظیم قبیلہ سادات کا روحِ رواں تھا،ان کی علمی وعملی کارکردگی،انمول و نفیس کارنامے دنیائے عالم پر سورج سے زیادہ روشن و نمایاں ہے، کردار و گفتار کے تذکرے آج بھی تاریخ کے مقدس اوراق پر مرقوم ہے۔

سیرت و صورت پاکیزہ، قد میانہ،سر پر سفید نبوی عمامہ،نورانی و آفتابی چہرہ،داڑھی لمبی وسیاہ، آنکھیں رسیلا زرد مائل بہ سیاہ،گفتار شیریں و مؤثرانہ،عقل سالم و تسلیم شدہ،رفتار عاجزانہ،درست رویہ،راست نظریہ، خوب سیرت و خوب صورت بلوچستان کا ملک زادہ، شباب نوجوان عظیم صفات و کمالات کا مجموعہ، گلشنِ اسلام کے گلِ ستانِ شاداب و شگفتہ تھے۔

شہید ختمِ نبوت،آفتابِ ملت،بطلِ حریت حضرت مولانا سید شمس الدین صاحب رحمہ اللہ کی پیدائش 1945ء میں ضلع ژوب کی سرزمین پر ہوئی،آپ مولانا سید محمد زاہد صاحب رحمہ اللہ کے فرزندِ ارجمند تھے،آبائی وطن شن غر کلی ابراہیم خیل تھا،آپ کا شجرہ حریف نانا سے مل کر بعد میں حضرت حسین بن علی رضی اللہ عنھما سے مل جاتا ہے،آپ کے اولاد میں صرف ایک بیٹی پیدا ہوگئی تھی،آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والدِ گرامی کی زیرِ تربیت حاصل کی،جب کہ عصری تعلیم میں میٹرک 1960ء میں گورنمنٹ ہائی سکول ژوب سے اعلیٰ نمبرات سے کامیابی نصیب ہوئی۔

دینی علوم و فنون کے حصول کےلیے بین الاقوامی معروف و مشہور،ممتاز و برتر مدارسِ دینیہ اور بڑے اساتذہ کے سامنے زانوئے تلمذ کا شرف بھی نصیب ہوا،دو سال جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک میں مولانا عبدالحق صاحب رحمہ اللہ کی زیرِ پرورش علومِ دینیہ کی ابتدا کی،پھر مدرسہ عربیہ نیو ٹاؤن کراچی میں مولانا سید محمد یوسف بنوری رحمہ اللہ کے زیرِ نگرانی دوسال کا عرصہ گزارا، پھر مدرسہ مخزن العلوم خانپور تشریف لے گئے،اور ایک سال پر محیط جمعیت کے امیر حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب درخواستی کے صحبتِ عِلمی سے فیض یاب ہوئے،اس کے بعد 1969ء مدرسہ نصرت العلوم گوجرانولہ میں علمی تکمیل سے سرفراز و سر بستہ ہوئے۔

علمی تعلیم سے آراستہ و پیراستہ ہونے کے بعد سیاست کے میدانِ عمل میں ظاہر نُما ہوئے،دوران طالبعلمی بھی سیاست کے عملی میدانوں سے وابستگی رہی،1970ء کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے بلند ترین مقام و خوب ترین مرتبہ پر عظیم جدوجہد کے بعد نو منتخب ممبر فائز ہوئے،اور مخالفین کےلیے خارِ راہ بن گئے۔اور اپنی صلاحیتوں و قربانیوں سے دنیا کو درست رائے اور راست فکر کی جانب مبذول کرایا۔جس کے نتیجے میں صوبائی مجلسِ عمومی نے اٹھائیس سال کی عمر میں اس مردِ مجاہد کو صوبائی امیر جمعیت علمائے اسلام کے اعزاز سے نوازا گیا۔

شہید ملت اپنی حیات میں ان منازلِ حسنہ پر رکا نہیں، بلکہ 2 مئی 1972ء کو آپ جمعیت و نیپ کے مخلوط صوبائی حکومت میں متفقہ طور پر بلا مقابلہ بلوچستان اسمبلی کا ڈپٹی اسپیکر کے بڑے عہدے پر فائز ہوئے،ذوالفقار علی بھٹو نے 12فروری 1973ء کو بلوچستان کی نیپ جمعیت مخلوط حکومت ختم کردی،آپ کو وزارتِ اعلیٰ کے اعلیٰ منصب پیش کی،آپ نے کھلم کھلا ببانگِ دہل مسترد کی۔

- Advertisement -

ان کی للہیت و تقویٰ کے کس کارنامے و خدمات کو زینت قرطاس بناؤں! ایک مرتبہ شہید کے دورہ ژوب میں فتنہ قادیانیت کے حامی افراد نے تین ہزار تحریف شدہ قرآن کریم کے نسخے ضلع ژوب کے پاک و حسین سرزمین پر پھیلانے کی کوشش کی،اور اپنے زندیقانہ و ملحدانہ عقائد سے غیور ملت کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی،پتہ چلتی ہی آپ نے فرمایا:”جمعیت علمائے اسلام ہر وقت ان قادیانیت کا محاسبہ کرے گی،اور کسی وقت بھی اس سلسلے میں کسی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی”۔

پھر یہ مردِ شجاع اپنے احباب کے ساتھ تاریک رات میں چل کر اکیلے ہی جوان مردی و خونی میدان میں داخل ہوئے،اور تحریف شدہ نسخے نکال کر نیست و نابود کئے۔ جس کے نتیجے میں جیل جانا پڑا،جیل میں جاکر اسلافِ ملت و اکابرینِ دیوبند کی تاریخ تازہ کردی، بندوق کی نالی کے سامنے کھڑا کر مردِ مجاہد سے بڑا عہدہ قبول کرنے کی دعوت دی،سب کو چھوڑ کر اپنے تن من دہن دین پر فدا و شہید ہونے کےلیے تیار ہوگئے،تقریبا ایک مہینے تک لاپتہ ہوگئے۔

اسی دوران گورنر بگتی نے اپنے قاصد مولوی صالح محمد صاحب کے ذریعے مولانا شہید کے والدِ محترم حضرت مولانا سید محمد زاہد صاحب مرحوم کو پیغام بھیجا،کہ آپ مجھ سے ملے،تاکہ آپ کے بیٹے کی رہائی کے بارے میں شرائط طے کریں،آپ نے انکارِ نشست فرمایا،گورنر بگتی کا غرض آمیز تمنا و آرزو یہ تھی،کہ مولانا سید شمس الدین صاحب کو اس بات کا پابند بنایا جائے،کہ وہ رہائی کے بعد تحریکِ ختمِ نبوت کی زمامِ قیادت نہ سنبھالے،لیکن مولانا سید محمد زاہد صاحب مرحوم نے اس وقت ایک جملہ ارشاد فرمایا جو آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے،کہ یہ عقیدے کا مسئلہ ہے،اور ایسے دس شمس الدین عقیدہ ختم نبوت پر قربان و فدا کےلیے سدا تیار ہوں۔ایسے والدِ ماجد،محسن و مربی کی غیرتِ ایمانی پر مدام لائقِ تحسین ہو۔اور پھر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے فضل و کرم سے لوگوں کی بڑی سعی و طویل جدوجہد کے بعد رہائی نصیب ہوئی۔

جب کہ ایک اور مقام پر آپ نے گورنر کے دربار میں اذان دی،گورنر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل ریاض حسین مرحوم کے دربار میں نماز کے وقت ہونے پر سدا اذان بلند کر کے گورنر اور سرداروں کو متحیر اور حواس باختہ کر دیئے،گورنر نے جب اذان سنی،تو پوچھا:کہ یہ کون دیوانہ و مجنون ہے؟لوگوں نے جواب دیا:کہ یہ صوبائی اسمبلی کے نو منتخب ممبر مولانا سید شمس الدین صاحب ہے،اذان سے فارغ ہوکر،گورنر کو فرمایا:آپ صوبہ کے حاکم اعلیٰ ہے،اس لیے اسلامی طریقے کے مطابق نماز کی امامت کی فرائض آپ کو سونپ رہا ہوں،گورنر نے کہا”مولانا ہمیں تو اپنی نمازیں صحیح نہیں آتیں،یہ کام آپ ہی کرسکتے ہیں”اس سے بخوبی یہ واضح ہوا،کہ وہ بڑے سے بڑے ایوان میں کلمہ حق کہنے اور منوانے کی جرات و شجاعت،صلاحیت و قابلیت رکھتے تھے۔

مولانا سید شمس الدین شہید رحمہ اللہ کی عظیم ملی و دینی خدمات تاریخی طور پر ہمیشہ یاد رکھی جائی گی، اور ان کی مجاہدانہ سرگرمیاں علمائے کرام کےلیے مشعلِ علم و راہ نمائی ثابت ہوگی،اور ان کے جانشین و فرزندانِ فکر و نظر اب بھی زندہ و تابندہ ہے،اور ان شاء اللہ اس مشنِ عظیم کی صدا سدا قائم و دائم رہیں گے۔

اور یہ علمی چراغ راہِ حق کی نمائندگی کرتے ہوئے،ظالم و جابر،شقی القلب آدمی کے عمل سے کسی اور کے اشارہ پر بروز جمعرات 13مارچ 1974ء کو محبِ وطن رہنما،حق گو عالم دین کو اٹھائیس سال کی شباب عمر میں شہید کردیا۔شہید کو ضلع ژوب کے بڑے قبرستان میں دفن کیا گیا،دفن کرتے وقت قدرتِ خداوندی کا مظاہرہ یوں ہوا، کہ آسمان کی جانب سے گُل پاشی ہوئی،اور یہ چراغ اپنے سوگواروں کو چھوڑ کر ہمیشہ کےلیے الگ ہوگئے۔ملتِ اسلامیہ اس جان لیوا حادثے پر انتہائی مغموم و افسردہ ہے، بقول سید آمین گیلانی…..
میری آنکھوں سے خونِ دل رواں ہے!
میرے ہونٹوں پہ فریاد و فغاں ہے
رہے مظلوم اگر محروم انصاف!
پھر اک دن قہر ٹوٹے گا خدا کا

ہر نئے سال آتے ہی وہ حسین و جمیل چہرہ پُر نور،چشمِ مخمور،باتمیز باشعور،سلیقے سے معمور شخصیت کی فکر کرنے سے دل و دماغ عقل و شعور رنجیدہ و غم زدہ بن جاتا ہے،جس کی جدائی سے ماحول بے رونق اور فضا غمگین معلوم ہوتا ہے،ربِ کریم شہیدِ ملت کی کامل و اکمل مغفرت فرمائے، اور علمی و عملی خدمات کو شرفِ قبولیت سے نوازے،اور آخرت کے تمام منازل آسان فرمائے،اور درجات بلند فرمائے،اور ان کے برکات و فیوضات کو ان کے احبابِ اہلِ علم و رفقائے کاروں پر تا ابد جاری و ساری رکھے۔آمین ثم آمین!

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.