پولیس نے عامر لیاقت کی اچانک موت کی تحقیقات شروع کر دیں
کراچی (مسائل نیوز) پی ٹی آئی رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت کی اچانک موت کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہے۔پولیس نے مرحوم کا ٹیب اور موبائل فون قبضے میں لے لیا ہے۔پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ دیکھا جائے گا کہ آخری مرتبہ عامر لیاقت کی کس سے بات ہوئی تھی۔پولیس کے مطابق کرائم سین یونٹ نے تمام شواہد اکٹھے کر لیے ہیں۔عامر لیاقت کے کمرے میں ایک ڈبل بیڈ اور الماری تھی جب کہ کمرے میں برتنوں کے علاوہ کچھ سامان موجود تھا۔
ایس ایس پی انویسٹی گیشن نے کہا کہ پولیس نے عامر لیاقت کی اچانک موت کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، گھر سے شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔موت کی وجہ تو میڈیکل رپورٹ کے بعد معلوم ہو سکے گی۔دوسری جانب پولیس نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کی میت ورثا کے حوالے کرنے سے انکار کردیا ، رکن قومی اسمبلی کی موت کی وجہ جاننے کے لیے پوسٹ مارٹم تک ان کی تدفین رکوانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
- Advertisement -
پولیس کی جانب سے چھیپا ویلفیئر کے انچارج سرد خانہ کے نام ایک خط لکھا گیا ہے ، جس میں ہدایت کی گئی ہے کہ عامر لیاقت کی میت ورثا کے حوالے نہ کی جائے ، لاش امانت کے طور پر آپ کے سرد خانے کے سپرد کی گئی ہے ، عامر لیاقت کی میت بریگیڈ تھانے کا عملہ وصول کرے گا ، اگر لاش کسی اور کو دی گئی تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ خیال رہے کہ رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال کے حوالے سے پولیس کی تحقیقات جاری ہیں تاہم اہل خانہ نے لاش کے پوسٹ مارٹم سے منع کر دیا تھا اور مرحوم کی نماز جنازہ آج بعد نماز جمعہ ادا کرنے کا اعلان کیا گیا تھا ، جس کے بعد ان کی تدفین حضرت عبداللّٰہ شاہ غازی مزار کے احاطے میں کی جانی تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر عامر لیاقت حسین انتقال کر گئے تھے ، پی ٹی آئی کے منحرف رکن قومی اسمبلی گھر میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔