MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پولیس میں خواتین اور اقلیتوں کی بھرتی خوش آئند اقدام ہے، آئی جی بلوچستان

0 210

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کوئٹہ(مسائل نیوز) انسپکٹر جنرل آف پولیس بلوچستان عبدالخالق شیخ نے کہا ہے کہ پولیس میں خواتین اور اقلیتوں کی بھرتی خوش آئند اقدام ہے رکاوٹیں ختم کر کے آسانیاں پیدا کرکے تمام افراد کو برابری کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے خواتین کو پولیس میں بھرتی ہونے کیلئے خصوصی آگاہی مہم چلائی گئی کوئٹہ اور تربت میں وویمن پولیس اسٹیشن کا قیام بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے ،آج خواتین پولیس کے ہر شعبے میں اپنے فرائض احسن طریقے سے سرانجام دیتے ہوئے صوبے کی خدمت کر رہی ہیں، ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو محکمہ پولیس بلوچستان میں خواتین اور اقلیتوں کی بھرتی ہونے والی اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں میں تقرر نامے دینے کے موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا، اس موقع پر ایڈیشنل آئی جیز،دیگر پولیس آفیسران بھی موجود تھے ان کا کہنا تھا کہ اگرا رادہ پختہ اور یقین کامل ہو تو کوئی بھی کام مشکل نہیں ہوتا، میری کوشش ہے کہ بلوچستان میں قانون کی عملداری کے مسئلے کو حل کر کے یقینی بناﺅں، خواتین اور قلیتوں کیلئے کہا جاتا تھا کہ وہ پولیس میں آنا نہیں چاہتیں، ہمارا کام ہے رکاوٹیں ہٹا کر آسانیاں پیدا کی جائیں تاکہ لوگوں کو روزگار کی فراہمی ممکن بنائی جائے تمام افراد کو برابری کی بنیاد پر موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے ، خواتین کیلئے تقرری کا طریقہ کار رکاوٹ بن رہا تھا ہم نے اس تقرری کے طریقہ کار میں آسانیاں پیدا کیں جس کا نتیجہ آج ہم سب کے سامنے ہے خواتین کو پولیس میں بھرتی کرنے کیلئے خصوصی آگاہی مہم شروع کی گئی ، پولیس میں بھرتی ہونے والی خواتین کی دوران ڈیوٹی ضروریات ہوتی ہیں انہیں پورا کیا جائیگا، صوبے میں دو وومین پولیس اسٹیشن ایک کوئٹہ اور تربت میں قائم کر کے فعال بنا دیئے گئے ہیں بلوچستان میں تیسرا وومین پولیس اسٹیشن بہت جلد قائم کیا جائیگا، اقلیت کہنے کی بجائے سب کو پاکستانی کہنا چاہئے مذہبی لحاظ سے کسی کو کسی پر کوئی فوقیت نہیں خواتین پر ذمہ داریاں زیادہ ہوتی ہیں پولیس میں خواتین کے کردار کو مزید بڑھانے کی ضرورت ہے ،اس موقع پر انہوں نے خواتین ٹریفک پولیس اہلکاروں کیلئے 25000روپے کے انعام کااعلان کرتے ہوئے کہا کہ خاتون اہلکار بہادری سے ٹریفک پولیس میں ڈیوٹی سرانجام دے رہی ہیں اور کوئٹہ میں خاتون ایڈیشنل ایس ایچ او تعینات کرنے کی بھی ہدایت کیں ، پبلک سروس کمیشن کے ذریعے خواتین کو بطور اے ایس آئی بھرتی کیا جائیگا مشکل حالات سے نکلنے کی خواہش خواتین کی اپنی ہے ان کا کہنا تھا کہ اقلیت سے تعلق رکھنے والے اہلکاروں کی پولیس میں بھرتی سے اقلیتوں میں موجود تحفظات کو کم کر رہے ہیں، اقلیتوں کو ساتھ لیکر چلنا پاکستان کے تصور کر آگے بڑھا نا ہے،ہم نے اپنے عمل سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے وژن کو آگے بڑھانا ہے ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان پولیس میں اس وقت 327خواتین فرائض سرانجام دے رہی ہیں 290نئی خواتین کو بھرتی کیا گیا ہے نئی بھرتیوں کے بعد پولیس میں 617خواتین ہو چکی ہیں، جن میں بلوچستان پولیس میں اس وقت 361اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے اہلکار ڈیوٹیاں سرانجام دے رہے ہیں اور پولیس میں 71نئے اقلیتی اہلکاروں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی تعداد432ہو گئی ہے اس موقع پر انہوں نے اقلیتوں سے تعلق رکھنے والی خواتین اور پولیس اہلکاروں میں تعیناتی کے آڈر تقسیم کئے۔

- Advertisement -

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.