تیرا نام رہیگا تو ہمیشہ بدنام رہیگا
کالمکار: جاوید صدیقی
پاکستان پیپلز پارٹی عرصہ دراز سے سندھ پر اقتدار کرتی چلی آرھی ھے آس اقتدار میں کئی بار ایم کیو ایم بھی شریک اقتدار رھی۔ ان دونوں سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ اقتدار میں رہتے ھوئے کرپشن لوٹ مار بدعنوانی لاقانونیت اقربہ پروری اور رشوت کو فروغ دیا یہ الگ بات ھے کہ ٹارگٹ کلنگ اور قتل و غارت کا بازار بھی انھوں نے دوسری جانب جاری رکھا اور ساتھ ساتھ لینڈ گریبنگ تا حال جاری ھے۔ ایم کیو ایم نے کبھی بھی کوٹہ سسٹم کو ختم کرنے کیلئے سنجیدہ عمل نہیں کیا بلکہ اس اشو کو ذاتی مفادات کیلئے سیاسی طور پر بھرپور استعمال کیا۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مہاجروں کیساتھ کوٹہ لگاکر استحصالی کی حق تلفی اور ناانصافی کا عمل کیا تو اللہ نے اس کے خاندان کا نام و نشان مٹادیا دوسری جانب ایم کیو ایم نے اپنی ہی قوم کو مروایا برباد کیا آج ایم کیو ایم تباہ و برباد ھوکر بکھر چکی ھے اور عوام ان کے چہروں سے واقف بھی ہوگئی اس سے بدتر حال پاکستان پیپلز پارٹی کا ھے جو بھٹو سے نکل کر زرداری بن چکی ھے گویا سیاسی دانشور کہتے ھیں کہ صوبہ سندھ کو تباہ و برباد اور پستی میں دھکیلنے میں انہی دونوں سیاسی جماعتوں کا اہم کردار ھے یوں تو سندھ میں ایک سے بڑھ کر ایک خاندان ھے جو دین اخلاق کردار تہذیب انسانیت اور عزت و وقار کی بلندی پر ھیں وہ پاکستان پیپلز پارٹی کو قطعی پسند نہیں کرتے اور انہیں سندھ کے قاتل قرار دیتے ھیں انہی کی وجہ سے اہلیت قابلیت کا جنازہ نکل گیا ھے۔ ایک سندھ کی بہت بڑی دینی روحانی تعلیمی شخصیت نے بتایا کہ جب کسی کیساتھ حق تلفی کرکے حاصل کرتے ھیں تو اللہ ان میں جاہلیت نااہلیت ذلیل و رسوا کردیتا ھے وہ شخص یا قبیلہ یا قوم کبھی بھی اٹھ نہیں پاتی اسے ہمیشہ اندر سے شرمندگی و خوف کا بادل گھیرے میں لیتا ھے ایسے حق تلفیوں کی زبان اور عمل میں سچ نہیں آتا۔ میرے قارئین مجھ سے زیادہ سمجھ سکتے ھیں کہ تیرا نام رہیگا تو ہمیشہ بدنام رہیگا یہ کس کیلئے کہا گیا ھے ظاھر نے جس نے حق تلفی ناانصافی اور اقربہ پروری کی بنیاد ڈالی اور اس گناہ کبیرہ کے عمل کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس غیر اسلامی عمل کو نسلوں تک پہنچایا۔ اس کا منفی نتیجہ یہ نکلا کہ صوبہ سندھ دنیا بھر میں بدترین بدنام ھوکر رہ گیا ھے۔۔۔۔ معزز قارئین!! کرپشن پر نظر رکھنے والی عالمگیر تنظیم کی پاکستان میں قاٸم شاخ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل پاکستان نے نیشنل کرپشن پرسیپشن سروے ٢٠٢٢ء شاٸع کی ہے جس میں پاکستان بھر میں کرپشن کے حوالے سے سروے کے نتاٸج کا ذکر کیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں شعبۂ تعلیم کو پاکستان کا چوتھا کرپٹ ترین شعبہ قرار دیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق صوباٸی سطح پر کرپشن کے حوالے سے صوبۂ سندھ کا پہلے نمبر پر کرپٹ ترین ادارہ محکمۂ تعلیم کو قرار دیا گیا ہے جو کرپشن میں پولیس اور ٹینڈرنگ اینڈ کنٹریکٹ جیسے بدنام شعبہ جات کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان کے دیگر تین صوبوں میں سے کسی بھی صوبے میں، کرپشن کے حوالے سے شعبہ تعلیم پہلا، دوسرا یا تیسرا مقام بھی حاصل نہ کرسکا۔ تعلیم اور صحت وہ دو بُنیادی سماجی شعبے ہیں جن کا تعلق براہِ راست عوام سے ہوتا ہے، خصوصاً غریب اور متوسّط طبقے کے حوالے سے ان طبقات کی زندگیاں بہتر بنانے کے ضمن میں تو ان دونوں شعبوں کی اہمیت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہیں، اس لٸے ان دونوں شعبوں میں کرپشن، معاشرتی ناسور کی صورت اختیار کرجاتے ہیں۔ صوبۂ سندھ میں تعلیم کے شعبہ کا جو حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ سالانہ بجٹ میں کھربوں روپے کی خطیر رقم مختص کٸے جانے کے باوجود سندھ کے سرکاری اسکولوں کا جو حال ہے وہ کسی سے ڈھکا چھُپا نہیں گھوسٹ اسکول اور گھوسٹ ٹیچرز کا تصوّر صوبہ سندھ کے علاوہ اور کسی صوبے میں نہیں۔ اسکولوں کو ناکارہ بنانے کے بعد اب سندھ کے تعلیم دشمنوں کا نشانہ محکمۂ تعلیم کالجز ہے۔ سندھ میں محکمۂ تعلیم میں کرپشن کا خاتمہ اس وقت ممکن ہے جب معاشرے کے دیگر طبقات بھی اس ضمن میں اپنا مٶثر کردار ادا کریں۔ سندھ کے موجودہ وزیر تعلیم سیّد سردار شاہ کو چند برس قبل سنہ دو ہزار اٹھارہ عیسوی میں جب پہلی مرتبہ محکمۂ تعلیم کا قلمدان تفویض کیا گیا تھا تو وہ سندھ کے محکمۂ تعلیم میں کرپشن کے خاتمے اور تعلیمی نظام کی بہتری کے ضمن میں خاصے مخلص نظر آتے تھے چنانچہ جب انہوں نے اس سلسلے میں انقلابی اقدامات اٹھانے کا سلسلہ شروع کیا تو اُن سے محکمۂ تعلیم کا قلمدان واپس لے کر سعید غنی کے حوالے کردیا گیا جو بعد ازاں دوبارہ اب سیّد سردار شاہ کو تفویض کردیا گیا ہے مگر اس مرتبہ سیّد سردار شاہ اپنے عزاٸم کی تکمیل کے ضمن میں بے بس نظر آرہے ہیں یہی وجہ ہے کہ سندھ کا محکمۂ تعلیم ایک بین الاقوامی ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرپشن میں ملک کے دیگر صوبوں کو پیچھے بلکہ بہت چھوڑ گیا ہے ۔۔۔۔معزز قارئین!! سندھ کی ترقی مشروط ھے اہلیت قابلیت اور اہمانداری و دیانتداری سے لیکن کیا یہ ممکن ھوسکتا ھے یقیناً ہاں لیکن اس کیلئے انہیں حق و سچ پر کھڑے رہنا ھوگا اور سب سے پہلے کوٹہ سسٹم کو ختم کرکے قابلیت اہلیت کو فروغ دیتے ھوئے بناء رنگ و نسل ہر قابل و فطین کو آگے بڑھ کر کام کرنے کا بھرپور موقع دینا ھوگا بصورت سندھ پستی در پستی کی جانب بڑھتا رہیگا۔۔۔۔!!