اسلام آباد(مسائل نیوز) گزشتہ روز پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اعتزاز احسن نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی عیادت کی۔ملاقات کے دوران ان دونوں رہنماؤں کے درمیان لانگ مارچ، سیاسی صورتحال اور وزیر آباد ایف آئی آر پر بھی مشاورت کی گئی۔عمران خان کا کہنا تھا اعتزاز احسن کو سترہ سال پہلے پی ٹی آئی میں شامل ہونے کی دعوت دی تھی۔
ہمارا اور اعتزاز احسن کا نظریہ ایک ہی ہے اور اعتزاز کا مستقبل ہمارے ساتھ ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ اعتزاز احسن میرے وکٹ کیپر ہوا کرتے تھے اور وہ کرکٹ کو بخوبی جانتے ہیں۔جبکہ اعتزاز احسن نے کہا جب عمران خان پر فائرنگ ہوئی تو اس وقت ٹی وی دیکھ رہا تھا۔فائرنگ کی اطلاع ملی تو انہماک سے ٹی وی دیکھنا شروع کر دیا۔
عمران خان جب سامنے آئے تو کچھ تسلی ہوئی۔
- Advertisement -
اعتزاز احسن نے واقعے میں ملوث ملزم کو طوطا قرار دے دیا۔انہوں نے کہا ملزم نوید کے ویڈیو بیان کے بعد مجھے فون آیا تو میں نے کہا طوطا بول رہا ہے۔ ملاقات میں عمران خان نے یہ بھی کہا کہ خواہش ہے اعتزاز احسن پی ٹی آئی میں شامل ہو کر ساتھ چلیں۔جبکہ کچھ عرصہ قبل اعتزاز احسن نے پی ٹی آئی میں شمولیت کے حوالے سے اپنا موقف دیا تھا۔ اعتزاز احسن نے پیپلز پارٹی چھوڑنے اور پی ٹی آئی میں شمولیت کی خبروں کی تردید کر دی۔
انہوں نے واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی میں ہوں اور عمران خان میرے دوست ہیں،پچاس سال عمران خان اور میرے گھر کی دیوار سانجھی ہے،پیپلز پارٹی میری فیملی ہے۔ ق اعتزاز احسن نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اختلاف پر کسی کو برا بھلا کہنے یا رانا ثناء اللہ کی زبان استعمال کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ایک گروہ کو خبر مل گئی کہ میں پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں جا رہا ہوں،یہ واویلا مچایا جا رہا ہے کہ مجھے پارٹی سے نکالنا چاہیے۔کہا جا رہا ہے کہ پی ٹی آئی سے مجھے نگران وزیر اعظم بنانے کی بات ہو رہی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ کہا جاتا رہا کہ پارٹی دشمن رویے کے خلاف مال روڈ پر مظاہرہ ہورہا ہے،عمران خان میرے دوست ہیں مگر پیپلز پارٹی میراخاندان ہے۔