سری لنکا میں مشتعل مظاہرین صدر کی رہائش گاہ میں داخل ہو گئے
سری لنکا(مسائل نیوز) سیاسی و معاشی بحران کی وجہ سے سری لنکا دیوالیہ ہو گیا ہے۔دیوالیہ ہونے کے باعث سری لنکا خوراک، ایندھن کی قلت، طویل بلیک آؤٹ اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی سے دوچار ہے جس کے باعث ملک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے جاری ہیں۔ سری لنکا میں ہزاروں مظاہرین رکارٹیں توڑ کر صدارتی محل میں داخل ہو گئے۔
ہزاروں مظاہرین نے صدارتی محل پر دھاوا بول دیا۔ سری لنکا کے دفاعی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ سری لنکا کے صدر گوتابایا راجا پاکسے کو بحفاظت گھر سے نکال کر محفوظ مقام پر پہنچا دیا گیا ہے کیونکہ مظاہرین نے ان کی رہائش گاہ کا گھیراؤ کر لیا تھا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو سمیت مختف شہروں میں بڑی تعداد میں عوام کی جانب سے مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔
کولمبو میں مظاہرین رکاوٹیں توڑ کر صدارتی محل میں داخل ہو گئے، مظاہرین کو کچھ محل کے کمروں اور راہداریوں میں راجا پاکسے کے خلاف نعرے لگاتے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
- Advertisement -
Protesters storm presidential palace in Sri Lanka as economic crisis worsens pic.twitter.com/47zMqfDxNH
— Muqadas Farooq Awan (@muqadasawann) July 9, 2022
مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔پولیس کی جانب سے مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے ہوائی فائرنگ بھی کی گئی،مظاہرین کے لیے واٹر کینن کا استعمال کیا گیا اور آنسو گیس کی شیلنگ کی گئی۔
اس تمام صورتحال میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔اسپتال ذرائع کے مطابق تازہ ترین مظاہروں میں دو پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 21 افراد زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ مظاہرین نے صدر گوٹا بایاراجا پاکسے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔غیر ملکی رپورٹس کے مطابق سری لنکن صدر کو ان کی رہائشگاہ سے بحفاظت نکال لیا گیا۔یہ احتجاج مشکل میں گھرے ملک میں سب سے بڑے حکومت مخالف مارچ میں سے ایک ہے۔