ایسے حالات میں ملک چھوڑنا پڑا جب پاکستان میں اصل سازش کا آغاز ہوا
اسلام آباد(مسائل نیوز) وزیراعظم شہباز شریف کے بیٹے سلمان شہباز کا کہنا ہے کہ 2018 میں حالات ایسے تھے کہ ملک چھوڑنا پڑا جب اصل سازش کا پاکستان میں آغاز ہوا۔انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ میں چار سال کے بعد پاکستان آ رہا ہوں۔ایک پولیٹیکل پارٹی کو سلیکٹ کر کے ملک کے اوپر مسلط کیا گیا۔ہماری فیملی کے بزرگوں بچوں اور خواتین کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔
جھوٹا کیس بنایا گیا ،میڈیا ٹرائل کروایا گیا لیکن وقت گزر جاتا ہے۔سلیمان شہباز نے کہا کہ اس عرصے میں پاکستان کے سوشل اور پولیٹیکل فیبرک کو بہت نقصان پہنچا۔ملک آگے لے جانا ہے تو سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر مقدمات اور سیاسی انتقام کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے، ایک دوسرے کا احترام اور عزت سیکھنی چاہیے۔
سلمان شہباز نے کہا کہ سیاست سیاسی میدان میں کی جائے، خواتین تک جانا اپنی روایات اور کلچر کو کچلنا کوئی سیاست نہیں۔
- Advertisement -
میں نے اور فیملی نے انتہائی تکلیف دہ وقت گزارا۔انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کو بلیک میل کیا گیا کہ شریف فیملی اور ن لیگ کو انتقام کا نشانہ بنایا جائے۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو سلیمان شہباز کی گرفتاری سے روک دیا،عدالت نے سلیمان شہباز کو 13 دسمبر تک عدالت میں سرنڈر کرنے کا حکم دے دیا۔ سلیمان شہباز نے حفاظتی ضمانت کے لیے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا، اس مقصد کے لیے انہوں نے وکیل امجد پرویز کے ذریعے عدالت میں درخواست دائر کی، جس میں استدعا کی گئی ہے کہ دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت دی جائے، بزنس مین ہوں منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہا، منی لانڈرنگ کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں، بزنس مین ہونے کے ناطے تمام شیئرز ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں۔
حفاظتی ضمانت کی درخواست میں سلمان شہباز نے کہا کہ 27 اکتوبر 2018ء سے برطانیہ میں ہوں، کبھی ایف آئی اے کا نوٹس نہیں ملا، ایف آئی اے نے میرے خلاف مقدمہ میری غیر حاضری میں درج کیا، 2018ء میں بیرون ملک گیا اور 2020ء میں مقدمہ بنا، اس کے بعد اشتہاری قرار دیا گیا لہٰذا عدالت 2 ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور کرے۔