بلوچ عوام سیاسی قومی جمہوری جدوجہد کو تقویت دیں ‘ بی این پی
کوئٹہ (مسائل نیوز)بلوچستان نیشنل پارٹی ضلع کوئٹہ کے عہدیداروں ،یونٹ سیکرٹریز،ڈپٹی سیکرٹریز وضلعی کونسلران اور بی ایس او کے عہدیداروں کا مشترکہ اجلاس شہدائے 10اکتوبر عالمو چوک کے جلسے کی تیاریوں کے سلسلے میں پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ میں سینٹرل ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر بی این پی کوئٹہ غلام نبی مری کی زیر صدارت منعقد ہوا ،اجلاس کے مہمان خاص پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ اور اعزاز ی مہمان بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبر صمد بلوچ تھے ،اجلاس میں بی این پی اور بی ایس او کوئٹہ کے عہدیداروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور شہدائے 10اکتوبر عالمو چوک کے جلسے کے تیاریوں کا جائزہ لیا گیا اور اس سلسلے میں دوستوں نے مختلف تجاویز سے آگاہی دی اور کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ،تعزیتی جلسہ بروز سموار 10اکتوبر بوقت ڈھائی بجے بمقام کلی اسماعیل نزد مینگل جنرل سٹور بلمقابل صدر پولیس تھانہ کے سامنے منعقد ہوگا ،تمام یونٹوں کو کہا گیا کہ وہ اپنے اپنے ٹولیوں کی صورت میں وقت مقرر پر جلسے میں اپنی شرکت کو یقینی بناکر قوم وطن دوستی کا عملی ثبوت دیں،اجلاس سے پارٹی کے مرکزی لیبر سیکرٹری موسی بلوچ ،سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر وضلعی صدر بی این پی کوئٹہ غلام نبی مری ،بی ایس او کے مرکزی کمیٹی کے ممبر صمد بلوچ ،بی این پی کے ضلعی جنرل سیکرٹری میر جمال لانگو ،ضلعی سینئر نائب صدر ملک محی الدین لہڑی ،نائب صدر طاہر شاہوانی ایڈوکیٹ ،ڈپٹی جنرل سیکرٹری ڈاکٹر علی احمد قمبرانی ،فنانس سیکرٹری میر محمد اکرم بنگلزئی ،انسانی حقوق سیکرٹری پرنس رزاق بلوچ ،سابق ضلعی صدر میر غلام رسول مینگل ،اسد سفیر شاہوانی ،دوست محمد بلوچ ،رحمت اللہ پرکانی ،جاوید بلوچ ،نعمت ہزارہ ،میر جمعہ خان نیچاری ،علی اکبر مینگل اور کامریڈ عامر شاہوانی ،بی ایس او کے جامعہ بلوچستان کے ڈپٹی یونٹ سیکرٹری ملک شعیب بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ شہدائے 10اکتوبر عالمو چوک کے بلوچستان کی قومی تحریک میں اہمیت کے حامل جنہوں نے اپنے جانوں کا نظرانہ پیش کرتے ہوئے قومی تحریک کو ایندھن کا ذریعہ بن کر فروغ دیا یہ وہ شہداءہے کہ جنہیں1992کے دور میں پرامن احتجاج کے دوران گولیوں سے چھلنی کرتے ہوئے اس موقع پر عید محمد لانگو ،جان محمد مری اور نیاز محمد مینگل شہید ہوئے جبکہ درجنوں نہتے اور بے گناہ بلوچوں کو زخمی کرکے ظلم وجبر کی بازار گرم کیا گیا یہ نہتے بلوچوں کا قصور یہ تھا کہ وہ ایک تعلیمی ادارے کو کوئٹہ میں ایک ایسے مناسب جگہ میں تعمیر کے حق میں تھے جو یہاں کے تمام لوگوں کیلئے سہولت اور آسانی کا سبب بنے لیکن بہت سے قوتوں کو بلوچوں کے تعلیم سے دور رکھنے اور پسماندہ رکھنے کی گھناﺅنی ساز ش کا توسیع پسندانہ سوچ رکھتے اور وہ یہ نہیں چاہتے کہ بلوچستان کے عوام ترقی وخوشحالی کے دور دورہ سے وابستہ ہوکر قومی استحصال جبر کے خاتمے کیلئے سیاسی قومی جمہوری جدوجہد کو تقویت دیں ،بی این پی بلوچ قومی رہبر سردار اختر جان مینگل کی مدبرانہ قیادت میں بلوچوں اور بلوچستانی عوام کو متحد اور مضبوط کرنے کی خاطر جدوجہد میں مصروف عمل ہے یہی وجہ ہے کہ بہت سے قوتوں کو یہ ہضم نہیں ہورہاہے وہ یکے بعد دیگر ے بلوچ قومی تحریک کو متحرک ہر دل عزیز قومی جماعت بی این پی اور انکے قومی رہنماﺅں کیخلاف ہر زہ سرائی اور منفی پروپیگنڈوں کے ذریعے سے بااختیار قوتوں کے راستہ ہموار کرنے کیلئے بلوچستان کے ساحل وسائل قومی خود مختیاری حق حکمرانی میں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرکے اپنے لئے اقتدار اور مراعات کے دروازوں پر دستک دے کر بلوچستانی عوام کو محرومیت اور استحصال کی طرف عملی حصہ داری اور تابعداری کا سبب بن رہے ہیں لیکن یہاں کے عوام ایسے قوتوں کو بخوبی جانتے ہیں کہ جنہوں نے بلوچستان کے قومی وسائل کو کھوڑیوں کے داموں میں فروخت کرکے آنکھیں بند کرکے معائدے اور دستخطیں کی اور انہوں نے کبھی بھی بلوچ لاپتہ افراد کی بازیابی ،افغان مہاجرین کی انخلاءکیلئے لب کشائی کی حدتک کی اخلاقی جرات کا مظاہر ہ کیا اور نہ بلوچستان میں جاری آپریشن کی مخالفت کی لیکن بی این پی وہ واحد جماعت ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے پرویز مشرف کی آمریت کے ادوار سے لیکر انکے بعد سوکالڈ جمہوری دور اقتدار میں بلوچستان میں ہونیوالے ناانصافیوں کیخلاف آواز بلند کی ۔انہوں نے بلوچستان کے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ 10اکتوبر کے جلسہ عام میں شرکت کرکے شہداءکو خراج تحسین پیش کریں،اجلاس میں گزشتہ دنوں بی این پی خضدار کے سابق ضلعی سیکرٹری اطلاعات حاجی احمد بلوچ کے انتقال پر گہرے دکھ وافسوس کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی کیساتھ حاجی احمد بلوچ کی وابستگی جدوجہد ،جرات وایمانداری وثابت قدمی کو سراہتے ہوئے کہاکہ وہ ایک مخلص نظریاتی وفکری رہنماءتھے جنہوں نے ہمیشہ پارٹی کو فعال ومضبوط بنانے میں عملی کردار ادا کرتے ہوئے ہر قسم کی تکالیف ومشکلات کا سامنا کیا ،حاجی احمد بلوچ کے انتقال سے پارٹی ایک مخلص رہنماءسے محروم ہوئے جن کے انخلاءکو پورا کرنے میں وقت درکار ہونگے ۔
- Advertisement -