MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

تاج محمد نیازی شاد مُحمد نیازی قوال ۔۔

0 328

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

۔!! کالمکار: جاوید صدیقی
تاج محمد نیازی، شاد محمد نیازی قوال پاکستان کے سب سے بڑے اور مشہور شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔اللہ ربُّ العزَّت نے اُنھیں بہت خوبصورت اور سُریلی آوازوں سے نوازا ہے۔ تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی کا تعلّق برِّصغیر پاک و ہند کے مشہور و معروف موسیقی و قوالی کے عظیم گھرانے اَترولی ضلع علی گڑھ یوپی سے ہے، تقریباً ساڑھے سات سو پچاس سال سے ان کے بزرگوں آباؤ اجداد کا تعلّق و نسبت درگاہِ حضرت خواجہ نظامُ الدّین اولیاء محبوبِ الہٰی ؒ و حضرت امیر خسروؒ سے وابستہ رہا ہے۔ رگ رگ میں ہے پیوست نمک آپؒ کے درکا پُشتوں سے نمک خوار ہوں محبوب الہٰی ؒ برِصغیر پاک و ہند کے اس عظیم گھرانے اترولی گھرانہ ضلع علیگڑھ یوپی سےتعلّق رکھنے والے تاج محمد نیازی و شاد محمد نیازی قوال کے جدِّ امجد جناب شہاب خان صاحب برِّصغیر پاک و ہند کے عظیم کلاسیکل گائیک، کلاسیکل گائیکی و موسیقی میں منفرد شناخت رکھتے تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد تاج محمد نیازی و شاد محمد نیازی قوال کے والدِ محترم جناب مُعین نیازی مرحوم اپنے والدِ محترم بزرگوار محمد علی نیازیؒ اور دیگر خاندان کے ہمراہ پاکستان کے شہر لاہور میں منتقل ہوگئے۔

بعد اذاں کراچی میں مستقل سکونت اختیار کی اور مُعین نیازی قوال اور ہمنوا کے نام سے اپنے قوالی گروپ کو متعارف کرایا اور قوالی کے شعبہ میں بڑی خدمات انجام دیں۔ مُعین نیازی قوال مرحوم کو قوالی کے شُعبہ کو فروغ دینے میں نمایاں مقام حاصل تھا۔ انہیں صوفیاء ِکرام، مشائخ عُظّام، خانقاہوں، اولیاءِ کرام کے مقدّس مزارت اور عوامُ الناس میں بھی بڑی مقبولیت حاصل تھی۔ اس بناء پر مُعین نیازی قوال مرحوم کو عوامی راگی کے خطاب سے نوازا گیا۔ نہ صرف یہ کہ اُن کی خوبصورت، سُریلی، لمبی اور جاندار آواز کی وجہ سے جنوبی افریقہ میں ٹائیگر کے خطاب سے نوازا گیا۔ مُعین نیازی مرحوم نے سنہ انیس سو چھیاسی عیسوی میں اجمیر شریف کا دورہ کیا حضرت خواجہ مُعین الدّین چشتی خواجہ غریب نواز ؒ کے عُرس شریف کے موقع پر حاضری دی اور اس عُرس شریف میں مشہور و معروف کلام”جوگن تھاڑی تورے دو آر خواجہ اجمیری سرکار“پیش کیا جس کا آڈیو اور ویڈیو کیسٹ ہندوستان ہی میں ریکارڈ کیا گیا اس کلام پر اُنھیں ہندوستان میں بڑی شہرت و پذیرائی ملی غرض یہ کہ مُعین نیازی قوال مرحوم نے فنِ قوالی میں بین الاقوامی شُہرت حاصل کی۔ تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی اور ان کے بڑے بھائی غوث محمد نیازی نے دورانِ تعلیم اسکول کے زمانے میں اسکول اور دیگر نعت و خوانی، میلاد، سوز خوانی اور قوالی کی محافل ریڈیو پاکستان کراچی و پاکستان ٹیلی ویژن کے پروگراموں میں شرکت کی اور انعامات بھی حاصل کئے۔ انکے بڑھتے ہوئے ذوق اور شوق کو مدِّ نظر رکھتے ہوئے اِنکے والد مُعین نیازی مرحوم نے اِنھیں باقاعدہ موسیقی و قوالی کی ابتدائی بنیادی تعلیم دینا شروع کردی بعداذاں اُنھیں اپنی قوال پارٹی گروپ میں شامل کرلیا اور اپنے ہمراہ مختلف محافل خانقا ہوں، اولیاء کرامؒ کے مقدس مزارات، صوفیانہ محافل، عوامی محافل، ریڈیو پاکستان کراچی، پاکستان ٹیلی ویژن اور کیسٹ ریکارڈنگ میں شرکت کروائی۔ بیس دسمبر سنہ انیس سو اٹھاسی عیسوی کو مُعین نیازی مرحوم اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ حکومتِ سندھ کی جانب سے

- Advertisement -

مُعین نیازی قوال مرحوم کی رہائش گاہ کو سنہ انیس سو تیرانوے عیسوی میں”مُعین نیازی قوال اسٹریٹ“کے نام سے منسوب کردیا گیا یہ اعزاز پاکستان میں پہلی بار کسی قوال کو حاصل ہوا۔ انتقال کے سولہ سال بعد حکومتِ پاکستان کیجانب سے فنِ قوالی کی خدمات کے اعتراف میں مُعین نیازی قوال مرحوم کوسنہ دو ہزار چار عیسوی میں تمغہ حُسنِ کارکردگی سے نوازا گیا۔ معین نیازی قوال مرحوم کے انتقال کے بعد انکے بڑے صاحبزادے غوث محمد نیازی نے اپنے چچا حاجی غلام مُحی الدّین اور حاجی ناصر نیازی کی زیرِ سرپرستی اور اپنے دیگر اساتذہ کے تعاون سے غوث محمد ناصر نیازی قوال کے نام سے اپنے گروپ کی ابتداء کی۔ انتھک محنت لگن اور خوبصورت آواز کے ذریعے اپنے فن کا لوہا منوایا اور فنِ قوالی میں منفرد مقام حاصل کیاان کے انداز ِ گائیکی کو بے انتہاء پسند کیا گیا اور عوام و خواص، شائقینِ قوالی میں قومی اور بین الاقوامی سطح پر بے حد مقبولیت حاصل کی۔ آخرکار دنیائے قوالی کا ایک اور اہم باب بند ہوا، عالمِ اسلام کے بین الاقوامی شہرت یافتہ قوال غوث محمد نیازی انتیس اپریل سنہ دو ہزار بارہ عیسوی کو کراچی میں رضائے الٰہی سے انتقال کرگئے۔ بعد از مرگ بھی غوث محمد نیازی فنِ قوالی کی خدمات اور اپنی خوبصورت آواز کی وجہ سے شائقین قوالی کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں۔ غوث محمد نیازی کے انتقال کے بعد اُن کے چچا حاجی ناصر نیازی نے تاج محمد شاد محمد نیازی کے نام سے قوال پارٹی گروپ کا آغار کیا۔ اپنے والد اور بھائی کے انتقال کے بعد تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی قوال نے اپنے خاندانی ورثہ کو سنبھالا اور اپنی خاندانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اور اپنے والدِگرامی کے مِشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنے چچا اور اساتذہ کرام جن میں اُستاد جناب انتظار احمد عرفانی نیازی، اُستاد غُلام مرتضیٰ نیازی اور اُستاد غُلام خسرو نیازی کے تعاوّن سے اپنے اس قوال گروپ کے لیے محنت اور جدّوجہد شروع کی۔ انتھک محنت اور مسلسل جدّو جہد کے باعث شائقینِ قوالی میں بڑی مقبولیت حاصل کی اور فنِ قوالی میں منفرد انداز پیش کرتے ہوئے مختلف زبانوں میں مثلاً: اُردو، پنجابی، عربی، فارسی، ہندی، پوربی اور دیگر زبانوں میں کلام پیش کیئے اور مختلف عُنوان سے آڈیو سی ڈیز اور ویڈیو سی ڈیز ریکارڈ کیئے جن کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے جو شائقینِ قوالی میں بے حد مقبول ہوئے۔جس میں بزرگانِ دین کے ازخود شاعری کردہ کلام شامل ہیں۔ جن میں حضرت خواجہ عُثمانِ ہارونی ؒ، حضرت خواجہ مُعین الدّین چشتیؒ، حضرت خواجہ قُطب الدّین بختیار کاکیؒ، حضرت بابا فرید الدّین مَسعود گنج شکرؒ، حضرت علی احمد صابر علاؤ الدّین کلیری ؒ، حضرت خواجہ نظامُ الدّین اولیاء محبوب ِالٰہیؒ، حضرت خواجہ نصیرالدّین روشن چراغ دہلوی ؒ، حضرت ابوالحسن یمینُ الدّین حضرت امیر خسروؒ، حضرت مولانا عبدالرّحمن جامیؒ، حضرت مولانا رومؒ، حضرت حافظ شیرازیؒ، حضرت شاہ نیازؒ اور دیگر بزرگانِ دین اور شعراء ِکرام و اساتذہ کرام کے کلام شامل ہیں۔


تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی قوال نے اپنے والد مُعین نیازی قوال مرحوم پرائڈ آف پرفارمنس آف پاکستان کی طرح نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ِممالک میں بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور مشہور و معروف ٹی وی چینلز پر براہ راست فنِ قوالی کو پیش کیا اور آڈیو ویڈیوز ریکارڈنگ بھی کی اور اپنے ملک پاکستان کا نام روشن کیا۔ مزیدیہ کہ فنِ قوالی کے اظہار و نمود کی کوشش کررہے ہیں اور آئندہ بھی اپنی خدمات کو جاری رکھنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اِنکی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ شائقینِ قوالی اور صوفیاءِ کرام و مشائخ عُظّام کو محظوظ کراتے ہوئے بہتر سے بہتر کلام پیش کریں اور اُنھیں ریکارڈ بھی کریں اور مزید قوالی کے شعبہ کو فروغ دیں۔ تاج محمد شاد محمد نیازی قوال نے اپنے اساتذہئ کرام سے مختلف راگوں اور ٹھیکوں میں استھائیاں، بندشیں اور ترانے پیش کرنے کی تعلیم حاصل کی اور اُسے مہارت سے پیش کرنے کی بخوبی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔چند مشہور کلام:۔’قول: مَن کُنتُ مولا فَھٰذا علی ُ مولا، ’رنگ: آج رنگ ہے اے ما رنگ ہے ری،’بخوبی: بخوبی ہمچو مہتا بن داباشی، تنم فرسودہ جاں پارہ، مدینے بُلانا ہمیں یا محمدؐ، جوگن کی جھولی بھردے آقاؐ مدینے والے، ہوجائے مدینے کا سفر کیسا لگے گا، اے دل بگیر دامنِ سُلطانِ اولیاء، پیرانِ پیر لجپال میراں، خواجہئ مَن قبلہئ مَن دینِ مَن ایمانِ مَن، جوگن تھاڑی تورے دوآر، بابا گنجِ شکر ہوکرم کی نظر، مخدوم علی احمد توری کلیر کی نگریا، چھاپ تلک سب چھین لی رے موسے نیناں ملائی کے، لعل موری پت رکھیو بھلا جھولے لعل اور اس کے علاوہ نئے دیگر کلام بھی شامل ہیں۔ تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی قوال کی فنی خدمات کے اعتراف میں سرکاری اور غیر سرکاری و دیگر ثقافتی اداروں اور ٹی وی چینلز نے ان کی حوصلہ افزائی اور پزیرائی کے لئے اسناد(سرٹیفیکٹ) سے بھی نوازاجن میں یہ ادارے شامل ہیں:
(2) Culture Minister (Sindh)
(1) Foreign Affairs (Pakistan),
(4) Radio Pakistan (Karachi)
(3) Pakitsan Television (Karachi)
(6) Pakistan National Council of Arts
(5) Pakistan Broadcasting
(8) Arts Council of Pakistan (Karachi)
(7) Lok Virsa (Islamabad)
(10) Pakistan Film & Journalist
(9) Karachi Press Club
(12) National Academy of
Perfmorming Arts (NAPA) `
(11) Pakistan American Culture
Centre
(14) Geo TV
(13) ARY QTV
(16) T2F
(15) Dream Journey
ہمارا مُلک اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے اور فنِ قوالی ہی اسلامی ثقافت کا اصل حصّہ ہے۔ اسلئے حکومتِ پاکستان اور دیگر ثقافتی اداروں کو چاہیے کہ وہ اس اسلامی ثقافت و شُعبہ کی زیادہ سے زیادہ سرپرستی کریں اور اِس شُعبہ کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کریں تاکہ فنِ قوالی سے وابستہ لوگوں کی حوصلہ افزائی ہوسکے اور فنِ قوالی کو مزید ترقی ملے اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا نام سربُلند ہو۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ ربُّ العزَّت تاج محمد نیازی شاد محمد نیازی کو ان کے نیک مقاصد میں کامیابی عطا فرمائے اور اُنھیں مذید ترقی عطا فرمائے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.