بھارتی گیڈر بھبکی
تحریر: کنول زہرا
ہندوستان ہمیشہ ثبوت کے بغیر پاکستان پر الزامات عائد کرتا رہا ہے جبکہ پاکستان کل بھوش یادیو اور ابھی نندن کی صورت میں دنیا کو دہشتگرد بھارت کی اصل شکل دیکھا چکا ہے, یہ ہی نہیں بلکہ پاکستان نے
21 جولائی 2009 کو متعدد دہشت گردی کی کارروائیوں کے جامع ثبوت بھی فراہم کیے ہیں, جس میں بھارت ملوث ہے۔ ان ثبوت کے مواد کا کافی حصہ بلوچستان کی شورش اور باغیوں کے ساتھ ہندوستانی روابط بالخصوص براہمداغ بگٹی، برہان اور شیر خان سے متعلق ہے۔ جس کا اعتراف گجرات کا قصائی بھی کرچکا ہے, جون 2015 میں بھارتی وزیر اعظم مودی نے اپنے دورے کے دوران بنگلہ دیش نے کھلے عام اعتراف کیا کہ بھارت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔
جنوری 2017 میں ملیحہ لودھی نے پاکستان میں بھارت کی مداخلت اور دہشت گردی سے متعلق ایک ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کو ارسال کیا۔ ڈوزیئر کے ساتھ بھیجے گئے لیٹر میں سرتاج عزیز نے باور کرایا کہ صوبہ بلوچستان سے بھارتی را کے ایجنٹ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے بھارتی وزیراعظم کا اعترافی بیان پاکستان کے victim ہونے کی واضح دلیل ہے.
ڈوسیئر میں بھارت کی دہشت گردی کے بارے میں جو تفصیلات مہیا کی گئیں ناقابلِ تردید دستاویزات اور ٹھوس ثبوت کیساتھ اس بات کو بھی واضح کیا گیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ”را” پاکستان کے ہمسایہ ملک کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ دستاویزات کے مطابق بھارت پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث تنظیموں پر مشتمل ایک کنسورشیئم (Consortium)تشکیل دے رہا ہے اور جن تنظیموں کو اس مقصد کے لئے ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا جارہا ہے، ڈوسیئر کے مطابق اُن میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے علاوہ بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) اور بلوچستان ری پبلیکن آرمی اور دو انتہا پسند مذہبی گروہ ‘جماعت الاحرار اور حزب الاحرار بھی شامل ہیں
پاکستان نے متعدد بار پڑوس میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ”را” کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کی مذمت کی ہے اور متعلقہ حکومت سے اُن کانوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے, بھارت متعدد بار پاکستان کے خلاف سازش کرچکا ہے, جس کی ایک مثال کاؤز پلان ہے.
رامیشور ناتھ کاو (آر این کاو) بھارتی ایجنسی را کا افسر تھا جس کے منصوبے کو کاو پلان کہتے ہیں, اس نے تین آپشنز بیان کیے تھے.
پہلا، جسے کاؤ کا بنگلہ پلان کہا جاتا ہے، جس کے تحت مشرقی پاکستان میں شورش اور ملک کو دولخت کرنے کے متعلق تھا۔
دوسرا منصوبہ، جسے کاؤز بلوچستان پلان کہا جاتا ہے, جس کے تحت پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے لئے صوبہ بلوچستان میں بنگلہ دیش جیسی صورتحال پیدا کرنا.
تیسرا, کے پی کے میں ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے علیحدگی کی تحریک کو منظم کرنے کے متعلق تھا
پلان پر عمل درآمد کے لیے ایک نئی انٹیلی جنس ایجنسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا, اس ایجنسی کو ریسرچ اینڈ اینالیسس ونگ کا نام دیا گیا, 1971 کے افسوسناک واقعه کے بعد الله کے فضل سے صوبه بلوچستان کے لیے کاو پلان کامیاب نہیں ہوا لیکن بھارتی گھناولی کوشش جاری ہیں۔ کاوز پلان کے تحت بھارتی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر اجیت ڈووَل کا منصوبہ تھا کہ پاکستان کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کرا کے پاکستان کے اندر سے پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی کرے گا, جس کا اس نے باقاعدہ اعلان کیا.
ہندوستان کھلم کھلا خطے کے امن کو مکمل تباہ کرنے پر تلا ہے, جس کا وہ بارہا اعتراف بھی کرچکا ہے, پاک افواج مادر وطن کے کھلے اور پوشیدہ دشمن سے اچھی طرح واقف ہیں, الله کے فضل سے افواج پاکستان ملک دشمن قوتوں کو گھما گھما کر دے بھی رہیں ہیں اور دھول بھی چٹا رہی ہیں.
پاکستان زندہ باد