MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

سیلاب متاثرین پر رحم کیجئے !

0 218

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

عبد الغنی شہزاد

- Advertisement -

مون سون کی بارشوں نے پاکستان خصوصاً سندھ بلوچستان کو بے حد متاثر تھا کیا، اس سلسلے میں نقصانات کے مختلف اندازے لگائے گئے، اور حکومتوں نے بھی مختلف پیکیجز اعلان کرکے سیلاب متاثرین کو مطمئن کرنے کی کوشش کی، اب کوئٹہ کے سیلاب متاثرین کی بے بسی اور مایوسی سے اندازہ ہورہا ہے کہ پورے بلوچستان میں بھی صحیح معنوں میں بحالی کا کام نہیں ہورہا ہوگا، حتی کہ تمام متاثرین کو تاحال راشن خیمہ ترپال بنیادی ضروریات بھی نصیب نہیں ہوئیں، انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کھلے آسمان تلے بے یار و مددگار سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تاحال شروع نہ ہونا بدترین بے حسی ہے، سردی کے موسم میں بارشوں کے آغاز ہی میں پہلے سے متاثرہ بچے کچھے مکانات کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے، اس حوالے سے حکومت بلوچستان کی غفلت اور سستی ناقابل برداشت ہوچکی ہے، مکانات کی تعمیر اور انسانی جانوں کی تلافی کیلئے سروے کے باوجود تاحال ریلیف کی فراہمی میں غفلت اور سستی سمجھ سے بالاتر ہے، حالانکہ جس وقت سروے کیا جارہا تھا عوامی حلقوں کی جانب سے مختلف قسم کی شکایات اور تحفظات سامنے آئیں، خصوصاً تختانی بائی پاس، سریاب، نواں کلی، چشمہ، نواں کلی، ہنہ اوڑک، کچلاک، اغبرگ ودیگر علاقوں میں ہونےوالے نقصانات کے بعد ضلعی انتظامےہ کی سطح پر انفرا اسٹرکچر کی تباہی اور انسانی جانوں کے ضیاع و زخمی ہونے، مال مویشوں کی ہلاکتیں وپانی میں بہہ جانے، مکانات کی تباہی، باغات کے پانی میں بہہ جانے کے متعلق سروے ٹیم چند ایک گھر کے افراد سے معلومات حاصل کرکے سرسری جائزہ لیتی رہی، پھر اس کے درمیان کئی متاثرہ مکانات وافراد کو چھوڑ کر اپنی مرضی کے گھروں سے معلومات حاصل کرتے ہیں اور غیر تسلی بخش کام کرتے ہوئے متاثرین کو مختلف حیلے وبہانوں کے ذریعے ٹال مٹول سے کام لیا جاتا رہا ، جس کے متعلق جمعیت علماء اسلام اور پختونخواہ میپ کے اخباری بیانات ریکارڈ پر ہیں۔ اس وقت سیلاب کے حوالے سے بلوچستان حکومت نے وفاقی حکومت کو بتایا تھا کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے ازالے اور متاثرین کی بحالی کیلئے کم از کم 35 ارب روپے کی ضرورت ہے۔
سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ بات وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سیلاب سے متعلق اجلاس میں کہی جس میں انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو نے کہا کہ بلوچستان میں سیلاب سے ہونےوالے نقصانات کے ازالے کیلئے 15 ارب روپے اور بحالی کے مرحلے کیلئے 20 ارب روپے درکار ہیں۔ وزیراعلیٰ نے بلوچستان کی جانب سے وفاقی اداروں کی شراکت سے نقصانات کے مشترکہ سروے پر آمادگی کا اظہار کیا۔
وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایک اور اجلاس میں نوجوان سرکاری افسران پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ کیا گیا ۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق یہ خصوصی ٹیمیں نقصانات کے سروے میں متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کی مدد کرے گی تاکہ سروے کا کام جلد مکمل ہوسکے۔ماہ اگست میں وزیر اعظم شہباز شریف نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بحالی کے لیے 10 ارب روپے کی گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے میں نے اپنی زندگی میں ایسا تباہ کن سیلاب نہیں دیکھا۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو بھی ان کے ہمراہ تھے، چیف سیکریٹری بلوچستان اور ڈی جی پی ڈی ایم اے نے وزیر اعظم کو سیلاب متاثرین کی امداد اور تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لیے کی گئی کوششوں پر بریفنگ دی۔ لہذا اس جانب فوری طور پر سیلاب متاثرین کی امداد اور ان کے مکانات کی تعمیر کے لیے خصوصی طور پر تیز رفتاری کے ساتھ کام کی ضرورت ہے، اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ صوبائی حکومت کو مجبور کریں ۔ دوسری جانب سریاب روڈ سبزل روڈ توسیعی منصوبے میں تاخیر اور سست روی نے عوام کی زندگی کو اجیرن کرکے رکھا ہے، اس کا بھی نوٹس لینا چاہئیے ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.