MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

اس گاوں میں ہر شخص کو نام کی بجائے مخصوص گانے سے پہچانا جاتا ہے۔

1 264

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

نئی دھلی(ویب ڈیسک ) بھارتی ریاست مگھلاوا میں واقع کونگ تھونگ ایک عرصے سے عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہاں ہر بچے کا ایک اصل نام رکھا جاتا ہے اور ماں اسے ایک گیت یا گانے کے نام سے پکارتی ہے اور وہ بھی اس کا نام پڑ جاتا ہے۔اپنی مہمان نوازی، خوبصورتی، اور قدرتی مناظر کی وجہ سے اقوامِ متحدہ نے بھی اس گاوں کو بہترین سیاحتی مقام قرار دیا ہے۔ کونگ تھونگ کی کل ابادی 650 سے زائد ہے۔

- Advertisement -

یہاں لوگوں کا ایک باضابطہ اور افیشل نام ہے تو دوسری جانب گنگناہٹ پر مبنی ایک اور نام بھی موجود ہے۔تاہم یہ گیت بھی الفاظ کی بجائے سیٹیوں کی صورت میں ہوتا ہے جو صدیوں پرانی روایت کا ایک حصہ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب گاو¿ں میں لوگ ایک دوسرے کو پکارتے ہیں تو وادی میں سیٹیوں جیسی اواز گونجتی ہے جو کانوں کو بھلی لگتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ یہاں رہنے والے تین قبائلی سینکڑوں سال قبل جنگلات میں شکار کا ہانکا لگانے یا پھر اسیب بھگانے کے لیے سیٹیاں بجاتے تھے جو تبدیل ہوکر انسانوں کے نام رکھنے کی وجہ بھی بنا۔جب کوئی بچہ اس دنیا میں انکھ کھولتا ہے تو والدہ سے کہا جاتا ہے کہ جو بھی گانا اس کے دل میں ارہا ہے وہ گنگنائے۔

اس طرح وہ نغمہ بچے کا نام بھی ہوجاتا ہے۔ گانے کے بول ایک جانب سیٹی کی اواز میں ہوتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس گاو¿ں کو سیٹیوں کا دیہات بھی کہا جاتا ہے۔ لیکن یہ حیرت انگیز عمل ہے کہ والدہ بچے کا گیت خود ہی وضع کرتی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سیٹی نما ناموں کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کو بہت دور سے بھی پکارسکتے ہیں۔ گیت والا ایک نام دس سے بیس سیکنڈ تک طویل ہوسکتا ہے۔ تاہم اب نوجوانوں کی بڑی تعداد روزگار کے لئے دوسرے مقامات تک جارہے ہیں اور یوں گاو¿ں کی ا?بادی کم ہوچکی ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.