معاشرے میں ہر جگہ خواتین کو حراسمنٹ کا سامنا ہے، صابرہ اسلام
جعفرآباد (ویب ڈیسک)صوبائی محتسب بلوچستان صابرہ اسلام نے کہا ہے کہ حقوق نسواں کے تحفظ کے لیے مجوزہ قانون پر سختی سے عملدرآمد کی ضرورت ہے معاشرے میں خواتین کو حقوق کی فراہمی اور حراسمنٹ سے بچاو کے لیے اقدامات اٹھانا ناگزیر ہے معاشرے میں خواتین کو باوقار مقام دلوانے کی بھرپور کوشش جاری رکھیں گے ضلع کونسل ہال ڈیرہ اللہ یار میں خواتین کو حراسمنٹ سے بچاو کے متعلق منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ معاشرے میں ہر جگہ خواتین کو حراسمنٹ کا سامنا ہے
- Advertisement -
چاہے وہ خواتین گھریلو ہوں دفاتر میں کام کرنے والی یا نجی گھریلو کام کے سلسلے میں مارکیٹ میں نکلنے والی ہوں انہیں مختلف حربوں سے حراساں کیا جاتا ہے جس کے باعث خواتین عدم تحفظ کا شکار ہو جاتی ہیں اور انکی صلاحیتیں سلب ہو جاتی ہیں انکا کہنا تھا کہ 2016 میں خواتین کو حراسمنٹ کے خلاف قانون پاس ہونے کے بعد 2019 میں بلوچستان میں خواتین کے حراسمنٹ کی روک تھام کے لیے باضابطہ طور پر ادارے کا قیام عمل میں لایا گیا اب تک صوبہ بھر سے خواتین کو حراسمنٹ کے 64 کیسز سامنے آئے ہیں
جن پر بروقت اور فوری انصاف کے تقاضے پورے کرکے متاثرہ خواتین کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں معاشرے سے حراسمنٹ کے ناسور کے خاتمے کے لیے ہم سب نے کلیدی کردار ادا کرنا ہوگا سیمینار سے ڈپٹی کمشنر جعفرآباد رزاق خان خجک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں خواتین کے ساتھ مرد بھی حراسمنٹ کا شکار ہوتے ہیں