MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

الیکشن کو کیسے مؤخر کیا جائے

1 228

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

۔۔۔محمد امانت اللہ

سال 1963 کا تھا جب پاکستان نے مغربی جرمنی کو 25 ملین ڈالر کا قرضہ آسان شرائط پر دیا تھا اور واپسی کی مدت 20 سال تھی۔
اس وقت پاکستان معاشی طور پر مستحکم ملک تھا۔
1965 اور 1971 کی جنگ کا سامنا کرنا ۔ ملک کی معاشی ترقی کم ہوتی چلی گئی ۔
پیپلزپارٹی کی حکومت آئی، پاکستان کا نیا آئین بنایا گیا ، قومی اسمبلی سے منظور ہونے کے چار گھنٹوں کے بعد ہی حکومت نے اسکو معطل کر دیا۔
پیپلزپارٹی ملک میں سرخ معاشی
انقلاب لانا چاہتی تھی اور اسکے نتیجے میں بینکوں اور صنعتی اداروں کو قومی تحویل میں لے لیا۔
جسکے نتیجے میں سرمایہ داروں نے اپنا پیسے نکال کر بیرون ملک روانہ کرنا شروع کر دیا۔
یہاں سے منی لانڈرنگ کا ابتداء ہوئی اسکے بعد آج تک پاکستان معاشی طور پر مستحکم نہ ہو سکا۔
مختلف حکومتیں آئیں اور گئیں۔ کبھی مارشل لاء اور کبھی جمہوریت آتی اور جاتی رہی۔
ان سب میں ایک چیز مشترک تھی عالمی بینک ، آئی ایم ایف اور دیگر مالیاتی اداروں سے دل بھر کر قرضہ وصول کیے گئے۔
قرضے کہاں خرچ ہوتے رہے اور کیوں بےضابطگی ہوتی رہی آنے والی حکومتیں نے کبھی اس راز پر سے پردہ نہیں اٹھایا بلکہ مزید قرضے لینا اپنا حق سمجھتی رہیں۔

آج ملک معاشی طور دیوالیہ ہونے کے قریب ھے۔ حکومت پٹرول اور دیگر اشیاء کی قیمتیں اس لیے بڑھا رہی ھے کہ آئی ایم ایف سے مزید قرضے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے

ہر حکمران نے قرض لینا اپنا اولین
حق سمجھا ھے مگر واپس کون کرے گا اور کیسے کرے گا اسکے بارے میں کوئی لائحہ عمل تیار نہیں کیا۔

- Advertisement -

حکمرانوں کو فکر اپنے اقتدار کی مدت پوری کرنے کی رہی۔
مگر افسوس ایک بھی وزیراعظم نے اپنی مدت پوری نہیں کی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں۔
آج امپورٹڈ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 70 روپے اور بجلی کی فی یونٹ میں 14 روپے اضافہ کر چکی ھے۔
ملک میں افراط زر کی شرح بیس فیصد کے قریب پہنچ چکی ھے۔
جبکہ بیوروکریسی اور دیگر سرکاری افسران کو مفت پیٹرول فراہم کرنے کی روش جاری ھے۔
عوام میں غم و غصہ کی شدید لہر آئی ہوئی ھے ، حکمرانوں کو خطرہ لاحق ہو گیا ھے کہیں ہمارے ساتھ بھی وہی کچھ نہ ہو جو سری لنکا کے عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کے ساتھ کیا ھے۔
حکومت نے فوری اقدامات کرتے ہوئے سرکاری افسران ، کیبنٹ ممبران اور دیگر افراد کی سکیورٹی کو بڑھا دیا ھے۔
سوشل میڈیا پر مہم کا آغاز ہو چکا ھے حکومت تمام سرکاری افسران کو مفت دیے جانا والا پٹرول بند کرے۔

حکومت جلد ہی یہ اعلان کرے گی اور ساتھ ہی مزید پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرے گی۔
قرض عوام کے فلاح و بہبود کے نام پر لیے جاتے ہیں اور عوام ہی اس قرض کو واپس کرنے کی مجاز ھے۔

ملک کے تمام ادارے اس بات کے ذمہ دار ہیں کہ قرض کی رقم کہاں خرچ ہوئی مگر افسوس آج تک کسی حکومت میں جرت نہ ہو سکی کہ اسکا آڈٹ کرائیں اور عوام کے سامنے حقائق کو پیش کریں ۔

ملک قرضوں کے اس دلدل میں پھنس چکا ھے جس میں سے نکلنے کی امید کم ہی نظر آرہی ھے۔
اس سب کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑے گا۔
بجٹ کے بعد مزید معاشی حالات خراب ہونے کی توقع ھے۔
حکومت اور اداروں کو بس ایک ہی فکر لاحق ھے کسی طرح الیکشن کو مؤخر کیا جا سکے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] اسلام آباد(مسائل نیوز) سیلاب زدگان کی امداد اور انفرا اسٹرکچر کی بحالی سے متعلق پاکستان اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے تحت پاکستان کو 132 ملین ڈالرز قرض کی واپسی مؤخرکردی۔ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.