خود سیلاب سے پریشان لیکن! جانتے ہیں پاکستان نے افغانستان کے زلزلہ زدگان کیلئے کتنی امداد بھیج دی ہے؟
اسلام آباد(مسائل نیوز) وفاقی حکومت نے افغانستان میں حالیہ زلزلے سے متاثرہ عوام کی امداد کے لیے 105 ٹن امدادی سامان روانہ کر دیا ہے۔
یہ اقدام نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد سامنے آیا۔
افغان طالبان حکام کے مطابق اتوار کے روز آنے والے 6 شدت کے زلزلے نے اب تک 1469 افراد کی جان لے لی جبکہ 3700 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ یہ دہائیوں میں آنے والا سب سے ہلاکت خیز زلزلہ قرار دیا جا رہا ہے جس نے مشرقی افغانستان کے صوبوں کو شدید متاثر کیا۔
این ڈی ایم اے کے مطابق امدادی سامان میں اشیائے خوردونوش، ادویات، خیمے، کمبل اور ببل میٹس شامل ہیں، جو زلزلے سے متاثرہ خاندانوں کی فوری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ یہ قافلہ طورخم بارڈر کے ذریعے افغانستان میں داخل ہوا۔
اس موقع پر اسلام آباد میں این ڈی ایم اے کے گودام پر ایک الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا جس کے مہمان خصوصی وزیر مملکت برائے مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی خیال داس کوہستانی تھے۔ تقریب میں وزارت خارجہ اور این ڈی ایم اے کے اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہاکہ ہم متاثرین کے لیے گہرے دکھ اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں، زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔ پاکستان مشکل وقت میں افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
- Advertisement -
افغانستان میں زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں اب بھی جاری ہیں تاہم دشوار گزار راستوں اور مسلسل آفٹر شاکس نے امدادی سرگرمیوں کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
بیشتر ہلاکتیں صوبہ کنڑ میں ہوئیں جبکہ ننگرہار اور لغمان میں بھی جانی نقصان اور سینکڑوں افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
افغان حکومت نے بعض علاقوں میں کمانڈو دستے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فضا سے اتارے تاکہ ملبے تلے دبے افراد کو نکالا جا سکے۔
اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے خبردار کیا ہے کہ متاثرین کے لیے خوراک کے ذخائر صرف چار ہفتے تک باقی ہیں اور فوری فنڈنگ کے بغیر امداد رکنے کا خدشہ ہے۔
ڈبلیو ایف پی افغانستان کے سربراہ نے بتایا کہ اس وقت فنڈز نہایت محدود ہیں۔ 2022 میں افغانستان کے لیے 1.7 ارب ڈالر مختص کیے گئے تھے لیکن رواں سال یہ رقم گھٹ کر صرف 300 ملین ڈالر رہ گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ، غربت اور کم ہوتی عالمی امداد کے باعث 4 کروڑ 20 لاکھ آبادی پر مشتمل یہ ملک شدید مشکلات سے دوچار ہے، اور عالمی برادری کی فوری مدد کے بغیر متاثرین کو مزید کٹھن حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔