فوج کے اندر ہماری ایک بڑی سپورٹ موجود ہے
اسلام آباد (مسائل نیوز)سابق وزیر اطلاعات اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے اردو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات ایک پیچیدہ معاملہ ہے،تعلقات میں کوئی اتنی خرابی بھی نہیں آئی اور اتنے اچھے بھی نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے تعلقات کبھی اتنے خراب نہیں ہوئے۔ہمارے تعلقات ن لیگ کی نہج تک نہیں پہنچے۔
چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں، جب ٹھیک ہونی ہوئیں تو ہو جائیں گی کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہ فوج کے اندر ہماری ایک بڑی سپورٹ موجود ہے۔اگر اسٹیبلشمنٹ سے مراد آپ کی فوج ہے تو میں ایک ایسے حلقے سے آتا ہوں جہاں سارا فوجی میرا ووٹر ہے۔سابق وزیر نے آرمی چیف کی تعیناتی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کہا کہ آرمی چیف کی تعیناتی کے موجود قانون میں سقم موجود ہے،ہر ترین سال بعد اس تعیناتی کا مسئلہ پڑ جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کو بیٹھ کر اس کا فریم ورک اور حل نکالنا چاہئیے۔آرمی کی تعیناتی کے قانون میں مسائل ہیں، سپریم کورٹ نے بھی ان مسائل کی نشاندہی کی،ان مسائل کو ختم ہونا چاہئیے۔فواد چوہدری نے کہا کہ بہتر ہے کہ عام انتخابات کے بعد بننے والی حکومت نئے آرمی چیف کو تعینات کرے لیکن اس سے زیادہ مسئلہ یہ ہے کہ جو موجودہ قانون ہے اس میں مسائل ہیں اس کو ختم ہونا چاہئیے۔
جس طرح عدلیہ میں ایک فارمولہ طے کیا ہے اسی طرح سیاسی جماعتوں کو مل کر یہ معاملہ بھی ختم کرنا چاہئیے۔فواد چوہدری نے اسٹیبلشمنٹ کے آئندہ انتخابات کے انعقاد کے لیے راہ ہموار کرنے میں کردار ادا کرنے سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کے انعقاد کے حوالے سے میرے خیال میں سیاسی جماعتوں کو خود ہی بیٹھ کر بات کرنی چاہئیے۔اگر سیاسی جماعتیں خود بیٹھ کر بات کر لیں تو بہتر ہے۔
اسٹیبلشمنٹ کا ماضی میں ایک کردار ریا ہے لیکن سیاسی جماعتوں کو سنجیدگی دکھانا ہو گی۔اگر سیاسی جماعتیں الیکشن فریم ورک طے نہیں کریں گی تو پھر اسٹیبلشمنٹ کر لے لیکن بہتر ہو گا سیاسی جماعتوں کو چاہئیے یہ مسئلہ حل کریں۔فواد چوہدری نے کہا کہ شہباز شریف وزیراعظم ہیں اور انہوں نے قدم بڑھانا ہے اور وہ اعلان کریں کہ حکومت انتخابات کے لیے تیار ہے اور سیاسی جماعتوں کو دعوت دیں تو بات چیت شروع ہوجائے گی۔