MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پاکستان میں ثقافت وتہوار

1 804

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

تحریر:رخسانہ اسد
کسی بھی خطہ ،علاقہ،صوبہ یا ملک کی پہچان اس کی ثقافت ہوتی ہے ثقافت کسی بھی خطہ کی ہو وہ بہت خوبصورت ہوتی ہے اس دنیا میں بہت ہی کم علاقوں میں ثقافت یا کلچر بہتر نہ ہوگا اورباہر کے لوگ اسے پسند نہ کرتے ہونگے مگر دنیا کی زیادہ ترثقافتیں بہت ہی پیاری ہیں۔پاکستان میں بھی مختلف ثقافتیں ہیں جن میں سب سے اہم بلوچستان ، سندھ،پختون،پنجاب اور سرائیکستان کی ثقافتیں شامل ہیں۔سندھی ثقافت دیکھیں تو اس کے برابر کی ثقافت بہت ہی خوبصورت ہے جس کی مثال شاید نہ ملے۔ بلوچستان کی ثقافت اور حسین ہے اسی طرح پنجاب اور پختون کی ثقافت بھی کسی سے کم نہیں۔ مگر پاکستان میں ایک ایسی ثقافت موجود ہے جو انتہائی دلکش ،حسین ،خوبصورت اور بہترین و اعلیٰ روایات پر مشتمل ہے جس کی ثقافت ،تہذیب وتمدن انتہائی محبت ،خلوص وپیار سے بھری ہوئی ہے۔

اس ثقافت کو پاکستان بننے سے اب تک ہمیشہ نظر انداز کیا گیا اوریہ ثقافت آہستہ آہستہ گم ہونے لگی ہے اوروہ جسے لوگ سرائیکی ثقافت کے نام سے جانتے ہیں۔جب بات ثقافت کی آتی ہے تولوگوں کاپہلاسوال ہوتاہے آپکی ثقافت کیاہے توثقافت ان لوگوں کا اندازے زندگی ہے جو مخصوص جگہ یا مقام پر اکھٹے رہتے ہوں “ ہر معاشرہ اپنی ثقافت کے مطابق ہی اپنے افراد کی تربیت کرتا ہے مثلاًبچوں کی تربیت کے سلسلے میں انہیں کچھ کام کرنے کی تلقین کی جاتی ہے ، جبکہ کچھ کاموں سے روکا جاتا ہے جوہماری ثقافت میں نہ ہواس سے بچے کوروکاجاتاہے جس سے بچہ خودبخود اپنی ثقافت اپنالیتاہے ، معاشرے میں رہتے ہوئے اس پر عمل کرنے والے کو اچھا اور اس کی خلاف ورزی کرنے والے کو برا کہا جاتا ہے

اسطرح اچھائی اور برائی کے تصورات انسانی ذہن میں بچپن سے ہی نقش ہوجاتے ہیں اور وہ لاشعوری طور پر بھی انہی اصولوں کو اپنائے رکھتا ہے جس کا اثر اس کی شخصیت میں نکھارپیداکرتاہے -۔جیسے سندھی ثقافت کادن پورے پاکستان میں دسمبرکے پہلے اتوارکومنایاجاتاہے ۔ اسی طرح بلوچ قوم کے سپوت اپناثقافتی دن دومارچ کومناتے ہیں ۔بلوچ کلچر ڈ ے پران کے رہنماﺅں نے پیغام میں بلوچ بھائیوں کو مبارک باددیتے ہوئے کہاہے

کہ کلچر ڈے پشتون بلوچ کو باہمی اتحاد اتفاق اور بھائی چارے سے وطن کی خدمت کرنے کا پیغام دیتاہے ہے ہم بھائی بھائی ہیںہمارا روایات ایک ہیں اورہم ایک دوسرے کی خوشی اورغم میں ساتھ ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔6مارچ کو سرائیکی اجرک ڈے منایاجاہے سرائیکی وسیب کے لوگ اسے عیدکی طرح مناتے ہیں ایک دورسرے کو سرائیکی اجرک اورٹوپی کے تحائف دیتے ہیں سرائیکی رہنماﺅں ظہوردھریجہ،رانافراز نون،عنایت اللہ مشرقی ،کامران ظفربھٹی، نخبہ لنگاہ، اللہ نواز وینس، شاہ نواز مشوری، نے اپنی ثقافت کے بارے میں بتایاکہ سرائیکی وسیب میں سرائیکی اجرک ڈے عیدکے طورپرمنایاجاتاہے زندہ قومیں کبھی اپنی ثقافت نہیں بھولتیں سرائیکی ثقافت امن بھائی چارے اوراخوت کے پیغام کواجاگرکرتی ہے ثقافت منانے سے نئی نسل کواپنی ثقافت بارے آگاہی ملتی ہے اوراپنی ثقافت سے مزیدمحبت ہوتی ہے۔

پاکستانی ثقافت اپنے اندربہت وسعت رکھتی ہے۔ اِس کی بڑی وجہ پاکستان کے تہوارہیں جس نے لوگوں کوایک دوسرے کے بہت قریب کررکھا ہے۔ ہم انسان چھوٹی خوشی کوبڑابناناچانے ہیں اسی لیے ہمارے ہاں بہت سے تہوار منائے جاتے ہیں جن میں شبِ برات ، عیدالفطر ، عیدالاضحی، عیدمیلاد النبی ،قابل ذکرہیں۔شبِ برات یہ 14 شعبان کومنائی جاتی ہے۔ اِس رات تمام لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوکر اپنے تمام پچھلے گناہوں کی بخشش و مغفرت مانگتے ہیں اس تہوارکوعیدکی طرح منایاجاتاہے اورساری رات عبادت کی جاتی ہے۔عیدالفطر رمضان المبارک کامہینہ ختم ہونے کے اگلے روزمنائی جاتی ہے مگراس کی تیاری 20رمضان سے زوروشورپرہوتی ہے عیدالفطرپرحکومت کی طرف سے پورے ملک میں چھٹیاں دی جاتی ہیں

- Advertisement -

تاکہ لوگ اِس خوشی کو جوش وخروش سے مناسکیں اورلوگوں کے پاس وقت ہوتاکہ وہ یہ خوشی اپنے پیاروں کے ساتھ بانٹ سکیں۔عیدالاضحی اسے بڑی عیداوربقرعید کہاجاتا ہے ۔بڑی عیددس ذی الحج کومنائی جاتی ہے یہ عید حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی کی یاد دِلاتی ہے اس تہوارکی اگربات کی جائے تولوگ ساراسال اس کی پلاننگ کرتے ہیں اورباہرممالک کے رشتہ داراکثراسی عیدپرآتے ہیںا وراس ماہ میں اس تہوارکی وجہ سے چھٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اوررشتے داروں کے پاس وقت بھی ہوتہاے توڈھیروں شادیاںرکھی جاتی ہیں ۔

عیدمیلادالنبی آقادوجہاں سروعالم کی ولادت کادن ہے جو 12ربیع الاول کومذہبی جوش وخروش سے منایاجاتا ہے۔ اس دن ملک کی تمام مساجد میں محافل ومیلاد کے ساتھ جلسے جلوس کاانعقادکیاجاتا ہے تاکہ پوری دنیاں کوپتہ چلے عاشقان رسول اپنے آقا سے کتنی محبت کرتے ہیں۔جشن آزادی چودہ اگست کوپورے پاکستان میں جوش وخروش سے منائی جاتی ہے پاکستانی بارڈرز پرپریڈکاخاص اہتمام کیاجاتاہے اورصدرووزیراعظم ملک وقوم سے خطاب کرتے ہیں تاکہ پاکستان جن قربانیوں سے ملاہے انہیں بھولانہ جائے۔جشن آزادی کیلئے مساجد میں خاص طور پر ملک و قوم کی سلامتی کے لئے دعائیں کی جاتی ہیں ساری دنیا اپنے آزادی کے جشن کوبڑے اہتمام سے ناصرف مناتی ہے بلکہ اِن تہواروں کے ذریعے لوگوں کے ٹیلنٹ کو بھی آگے لایا جاتا ہے۔قارئین پاکستان میں ثقافتی تہوارحکومت کی نظراندازی کاباعث بن رہی ہے۔ لیکن جن تہواروں کو منایاجارہاہے اِنہیں بھی بے حدمحدودپیمانے تک اپنایا جارہاہے اور ان کی جگہ آہستہ آہستہ ا±ن مغربی تہواروں نے لے لی ہے

جیسے کہ ہرسال 14اگست کے روز سرکاری کرم چاری فنڈز تولے لیتے ہیں مگرفنڈکے آدھابھی خرچ کرکے تقاریب کااہتمام نہیں کرتے جویقیناً لمحہ فکریہ ہے۔ ہماری ثقافت کونظرانداز کرکے جدید رحجانات کی طرف بڑھاجارہاہے جو بے فائدہ ہے جوہماری ثقافت کاحصہ بن چکاہے۔ایک وقت تھا جب برصغیر میں مسلمانوں اورہندوو¿ں کاکوئی تنازعہ نہ تھا۔ عید ہویاہولی ،دیوالی ہو یاشبِ برات۔ ہرایک جشن خوب منایاجاتا تھا اور نہ صرف منایاجاتاتھا بلکہ ہرطرف رنگ ہی بکھرجایاکرتے تھے لوگوں کے پاس کھانے کوکچھ ہویا نہیں لیکن تہوار آتے ہی تہواروں کے رواج اور شکن سجنے لگتے تھے پھر نہ جانے کیاہوا کہ عید مسلمانوں کی ہوگئی اورہولی ہندوو¿ں کی ہوکررہ گئی۔ ملک تقسیم ہوئے تودل بھی تقسیم ہوگئے۔ لہراتاجھومتا آسمان بھی نفرتوں میں بٹ گیا۔ لوگ تہذیب رواج سب ہی اپنے اپنے ہو کر رہ گئے۔مسلمان، مسلمان نہ رہا سندھی،سرائیکی، بلوچی پشتون بن کر رہ گیا۔ اب ہرجگہ اپنے رواج ہیں اپنی تہذیبیں ہیں۔ سندھی کاملک سندھ ہے

سندھ کا مسئلہ بھی سندھ کا ہے۔ پنجاب اپنے رونے روتا ہے سرائیکی قوم اپنی شناخت کی جنگ لڑرہی ہے پھر کیسی عید کیساتہوار جہاں ہرسال عید کے چاند پر جھگڑا ہوتاہووہاں کیسی تہذیب کیسی ثقافت۔حکومت کو اِس طرز پردوبارہ سے اہمیت دینی چاہیے تاکہ لوگ اِس طرف متوجہ ہوسکیں اورہم اورآنے والی نسلیں ہماری ثقات کو سمجھ سکیں۔ ایسے کئی علاقے ہیں جہاں مقامی تہوار تومنائے جاتے ہیں لیکن وہاں تہواروں کی بجائے تہواروں کی اہمیت وافادیت کی بجائے توہم پرستی بڑھ رہی ہے حکومت کوچاہیے کہ اپنے علاقوں کے تہواروں کو نہ صرف محدودپیمانے پر کرنے کی اجازت دے ۔اِن کے علاوہ پاکستان میں اوربھی بہت سے تہوارمنائے جاتے ہیں جوکہ پاکستانی ثقافت کی عکاسی کرتے ہیں۔شندورپولوفیسٹیول: اِس تہوارکومنانے کےلئے کوئی قومی چھٹی نہیں دی جاتی لیکن پھر بھی ہزاروں کی تعداد سیاح اس تہوارکومنانے پاکستان اور دوسرے ممالک سے آتے ہیں۔ہارس اینڈکیٹل شو: یہ تہوار مارچ کے آخری ہفتے میں شروع ہوتا ہے

اور اپریل کے اوائل تک جاری رہتا ہے۔ یہ تہوارعموماً ڈیرہ اسماعیل خان اور اِس کے گردونواح میں منایاجاتا ہے۔ جس میں مقامی کھیلوں ، فوک، ڈانسرزموسیقی، ا±ونٹوں کی دوڑ اورمقامی دستکاریوں کی نمائش کی جاتی ہے۔یوم یکجہتی کشمیر5فروری کومنایاجاتااوراس کے منانے کامقسدکشمیرکی آزادی اورہندﺅں کی 74سال سے ظلم وستم کوعالمی برادری کے سامنے رکھناہے اس دن پورے پاکستان میں حکومت کی طرف سے چھٹی دی جاتی ہے مگرسکولوں کالجوں اورسیاسی سماجی ومذہبی جماعتوں کی طرف سے ریلیاں جلسے واحتجاج رکھے جاتے ہیں۔نوروزفیسٹیول: جو محض ہنزہ، گلگت، سکردو، چترال میں منایاجاتا ہے۔ نوروز فنکشن اپنے لحاظ کاایک منفردفنکشن ہے جس میں اِن علاقوں کے لوگ فٹبال، والی بال، پولواورہاکی میچز کے اِنعقاد کے ساتھ فوک اورعلاقائی موسیقی کابھی انتظام کرتے ہیں۔کبڈی: یہ بہت سستاتہوار ہے یہ تہوار زیادہ ترگاو¿ں میں منایاجاتا ہے۔ شہروں میں بھی اِس کا انعقاد ہوتا ہے۔ یہ تہوارشہر، گاوں دونوں میں مشہور ہے مگرحکومتی سرپرستی نہ ہونے کی وجہ سے یہ تہواراپنی آخری کروٹ لے رہاہے۔بسنت کوموسمی تہواروں میں شاہی تہوار کی حیثیت حاصل ہے۔

اِس تہوار کی آمد سے دوہفتے قبل ہی پتنگوں کی دوکانوں کوبناسنوار کر تیار کرلیا جاتا ہے۔ بسنت کے دن سے قبل کی رات کوبھی روشن پتنگوں کو فضا میں اڑانے کاعمل رات رات بھرجاری رہتاہے۔ یہ ایساجشن ہوتا ہے جس کی مثال لاہور کے علاوہ دنیا میں اورکہیں نہیں ملتی۔اندرون شہر سے باہرحقیقت رائے کی سمادھی بھی پتنگ بازی کابڑامرکز ہے جہاں اِردگرد کے دیہات کے رہنے والے دن بھرجمع رہتے اوراِس کھیل سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔مگرکئی ناقص پالیسیوں کے سبب اس تہوارپرپابندی لگ چکی ہے جس کی وجہ سے ایک عرصہ تک بوکاٹاکاشورنہیں سنا اسکے علاوہ یسے کئی تہوارہیں جنہیں اگرحکومت اپنی سرپرستی میں لے اوراِن کے لئے بہترین انتظام کرے تو ناصرف ہم اپنی صحیح ثقافت کو پروموٹ کرپائیں گے بلکہ اِس کے ساتھ ساتھ یہ تہوار سیاحوں کےلئے بھی دلچسپی کاباعث بنیں گے جواَب تک صرف حکومتی غفلت کاشکار بنے بیٹھے ہیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

1 Comment
  1. […] لیے مختلف شہروں سے بلائے گئے پنجاب پولیس کے اہلکاروں کا ناقص کھانے پر احتجاج رنگ لے آیا۔ترجمان راولپنڈی پولیس کا کہنا ہے کہ […]

Leave A Reply

Your email address will not be published.