بیجنگ(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر کہا ہے کہ بھارت کا جارحانہ رویہ اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، موجودہ بھارتی رجیم خطے کے دیرپا عدم استحکام کا سبب بن رہی ہے،مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارت کے مسلسل مظالم جاری ہیں، دنیا کو کشمیریوں کے خلاف بھارت کے جاری ظلم پر توجہ دینی چاہیے،
- Advertisement -
سی پیک کا پہلا مرحلہ بنیادی ڈھانچے کی ترقی اور رابطے پر مرکوز تھا، اگلے مرحلے میں صنعت کاری، انفارمیشن ٹیکنالوجی میں تعاون اور زرعی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی،پاکستان اور چین کے درمیان اسٹریٹجک تعاون اور پارٹنرشپ لازوال ہے، کوویڈ کے باوجود، دونوں اطراف کے مشترکہ تعاون کی وجہ سے سی پیک کے تمام منصوبوں پر کام بتدریج آگے بڑھا۔
جمعہ کو وزیر اعظم عمران خان نے چین کے معروف تھنک ٹینکس، یونیورسٹیوں اور پاکستان اسٹڈی سینٹرز کے سربراہان اور نمائندوں سے ملاقات کی، اور پاک چین تعلقات کی اہمیت اور علاقائی استحکام اور خوشحالی کو یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر کے تنازع پر چین کی غیر متزلزل حمایت پر بھی شکریہ ادا کیا۔ عمران خان نے کہا کہ بھارت کے جارحانہ رویے اور ہندوتوا نظریہ علاقائی امن کے لیے خطرہ ہیں،