ہو اوے نے بندرگاہوں کیلئے بغیر ڈرائیور کے، صفر کاربن “وہیکل کلاڈ سینرجی” متعارف کروا دی
اسلام آباد (مسائل نیوز ) ہواوے نے تیانجن پورٹ کے اشتراک سے بندرگاہوں کیلئے بغیر ڈرائیور کے، صفر کاربن “وہیکل کلاڈ سینرجی” متعارف کروا دی ۔عالمی سپلائی چین کے طور پر بندرگاہیں بین الاقوامی تجارت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ روایتی بندرگاہیں کنٹینر کرینوں کو چلانے کیلئے انسانوں پر انحصار کرتی ہیں اور افرادی قوت کی کمی کا شکار ہیں یہ چیلنجز عالمی سمندری نقل و حمل کی تیز رفتار ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ لہذا پورٹ آٹومیشن اور بہترین تعمیر نو کے اہم اہداف کے طور پر ابھرے ہیں۔ ہواوے نے تیانجن پورٹ کے بیجانگ پورٹ ایریا میں سیکشن سی کے ٹرمینل پر بہترین ٹرانسپورٹ سسٹم بنایا ہے۔ پراجیکٹ نے لیول 4 خود مختار ڈرائیونگ حاصل کر لی ہے۔دنیا بھر میں بندرگاہیں 5جی، کلاڈ، اے آئی جیسی جدید ترین ٹیکنالوجیز کے ذریعے کارفرما آٹومیشن کے عمل سے گزر رہی ہیں۔بندرگاہ کی ڈیجیٹلا ئزیشن کے اہم اقدامات میں سے ایک افقی نقل و حمل کو خودکار بنانا ہے جو بندرگاہ کے اندر کارگو کو سنبھالتی ہے۔ ہواوے کے ٹرانسپورٹ سسٹم کے پانچ اہم فوائد ہیں۔ سب سے پہلے عالمی راستے کی منصوبہ بندی پیش کرتا ہے۔ہواوے نے وہیکل کینیمیٹکس پر مبنی ایک عالمی پاتھ پلاننگ الگورتھم ڈیزائن کیا ہے جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ انفرادی گاڑیاں اپنے راستے پر رہیں۔ الگورتھم متعدد IGVs کو آسانی سے موڑ نے کے قابل بناتا ہے، چاہے وہ ایک یا دونوں سمتوں میں سفر کر رہے ہوں۔ دوسرا فائدہ پوزیشننگ ہے۔ ہواوے بیڈو، 5جی، ایچ ڈی نقشہ جات،سینسنگ مدد کا استعمال کرتا ہے تاکہ اعلی لین لیول پوزیشننگ کو یقینی بنایا جا سکے۔ تیسر افائدہ ایم ڈی سی ڈرائیونگ پلیٹ فارم تیار کر نا ہے ۔چو تھا فائدہ بنیادی نظام کا انضمام ہے ٹی او ایس جیسے بنیادی سروس سسٹمز کے علاوہ ہو اوے کا ٹرانسپورٹ سسٹم دوسرے پیریفرل سروس سسٹمز کے ساتھ تیزی سے جڑ سکتا ہے۔پانچواں فائدہ کلاڈ وہیکل ڈیکپلنگ ہے۔ہو اوے ایک کھلے ماحولیاتی نظام کے ذریعے گاڑیوں سے بادل کو الگ کرتا ہے۔ آئی جی وی کی خرابی کی صورت میں ایک آپریٹر دور سے آپریشن سنبھال سکتا ہے باقاعدہ خود مختار ڈرائیونگ حل کیلئے سروس ٹیک اوور کی شرح تقریبا 5فیصدسے 6فیصدہے۔