MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

پہلے 30 ہزار ملتے تھے لیکن اب حکومت کتنے پیسے دیگی؟ حاملہ خواتین کیلئے مالی امداد میں اضافہ

0 67

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

کراچی(مسائل نیوز) سندھ حکومت نے مامتا پروگرام کے تحت حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کے لیے مالی امداد میں اضافہ کرتے ہوئے رقم 30 ہزار روپے سے بڑھا کر 41 ہزار روپے کر دی ہے اور ساتھ ہی اس پروگرام کا دائرہ کار مزید سات اضلاع تک بڑھا دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ مدر اینڈ چائلڈ سپورٹ پروگرام کو مزید سات اضلاع میں توسیع دی جائے جس کے بعد اس کی رسائی مجموعی طور پر 22 اضلاع تک ہو جائے گی۔ اس پروگرام کا مقصد حاملہ خواتین اور نومولود بچوں کی صحت بہتر بنانا، طبی سہولتوں تک رسائی دینا اور مالی معاونت فراہم کرنا ہے۔

یہ فیصلہ وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی کے دوسرے بورڈ اجلاس میں کیا گیا جس میں وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، وزیر تعلیم سید سردار شاہ، وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے سماجی تحفظ ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، چیئرمین پی اینڈ ڈی نجف شاہ، سیکریٹری خزانہ فیاض جتوئی، سیکریٹری سماجی تحفظ مزمل حالیپوٹو، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ، سی ای او سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی سمیع اللہ شیخ اور دیگر اراکین شریک ہوئے۔

اجلاس میں سی ای او سمیع اللہ شیخ نے پروگرام کی موجودہ صورتحال اور توسیع پر بریفنگ دی جس کے بعد وزیراعلیٰ نے لاڑکانہ، سکھر، خیرپور، شہید بے نظیر آباد، جامشورو، دادو اور نوشہرو فیروز کو پروگرام میں شامل کرنے کی منظوری دی۔

پہلے یہ پروگرام 15 دیہی اضلاع میں فعال تھاتاہم اب یہ حاملہ اور دودھ پلانے والی ہر خاتون کو تین سال کے دوران 41 ہزار روپے فراہم کرے گاجو اس سے قبل 30 ہزار روپے تھے۔ اس پروگرام کا مقصد متوازن خوراک، باقاعدہ طبی معائنہ اور محفوظ زچگی کو یقینی بنانا ہے۔

- Advertisement -

مامتا پروگرام 48 اعشاریہ 3 ارب روپے کے سماجی تحفظ کے منصوبے کا حصہ ہے، جس میں سے 6 اعشاریہ 3 ارب روپے سندھ حکومت فراہم کر رہی ہے۔ یہ پروگرام جنوری 2023 میں شروع ہوا تھا اور دسمبر 2027 تک جاری رہے گا۔

اب تک صوبے کے 800 صحت مراکز کے ذریعے 7 لاکھ 70 ہزار حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین کو رجسٹر کیا جا چکا ہے، جن میں سے 740 مراکز پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشی ایٹو کے تحت اور 62 محکمہ صحت کے تحت کام کر رہے ہیں۔

اہلیت کے لیے عمر کم از کم 18 سال ہونا، کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ رکھنا اور مقررہ اضلاع میں رہائش لازمی ہے۔

یہ پروگرام کنڈیشنل کیش ٹرانسفر ماڈل پر چلایا جا رہا ہے جس کے تحت امداد ماں کی صحت سے متعلق اہم مراحل جیسے قبل از پیدائش معائنے، ہسپتال میں زچگی اور بعد از پیدائش دیکھ بھال سے مشروط ہے۔

حکومتی اعداد و شمار کے مطابق آئندہ پانچ سال میں ان اضلاع میں 26 لاکھ حاملہ اور دودھ پلانے والی خواتین متوقع ہیں جن میں سے 13 لاکھ خواتین کو پروگرام کے دائرہ کار میں لانے کا ہدف ہے۔

وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ سماجی تحفظ کے دائرے کو بڑھانا ان کی حکومت کی حکمت عملی کا اہم حصہ ہے تاکہ ماں اور بچے کی صحت بہتر بنائی جا سکے، غربت کم ہو اور دیہی خواتین بااختیار بن سکیں۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.