بارش کی تباہ کاریاں
تحریر احمد شاہ صدیقی
- Advertisement -
بارش جہاں اللہ کی رحمت ہے وہی انسان کی اپنی ہی کوتاہیوں اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے زحمت بن جاتی ہے کم وپیش ایک مہینے سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں موسلادھار بارشوں نے جہاں تباہی مچائی ہے وہاں ہمارے مواصلاتی نظام کا بھی حلیہ بگاڑ کے رکھ دیاہے موجودہ بارشوں میں وہ ڈیمز ٹوٹ گئیں ہیں جو موجودہ اور گزشتہ صوبائی حکومتوں کے دور میں بنے ھیں پشتون بیلٹ میں جہاں تباہی ھوئی ھے وہ سارے ان ناقص مٹریل سے کمپنیوں کی ناقص کارکردگی کی وجہ سے ہوئی ہیں بلوچستان کے بڑے بڑے شاہراہیں کوئٹہ ٹو کراچی کوئٹہ ٹو تفتان جس کو پاک ایران شاہراہ بھی کہاجاتاھے ان شاہرہوں پہ ٹریفک معطل رہی کراچی کوئٹہ شاہراہ المعروف قاتل شاہراہ جس کے دو رویہ ھونے کے مطالبات زوروشورسے ہر طرف سے ھورھے تھیں یہی شاہراہ حب کے مقام پر پل کے ٹوٹنےکی وجہ سے کراچی کوئٹہ کا مواصلاتی رابطہ بالکل منقطع ھوگیاہے جہاں تک بات صوبائی دارلحکومت کوئٹہ کی ہے میں سمجھتا ہوں کوئٹہ میں جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں وہ خود بھی اس کے ذمہ دار ہے اس لئے کہ ان لوگوں نے کوئٹہ کے مضافاتی ایریاز میں سستے داموں میں ندیوں اور ڈیم کے کناروں میں زمینیں خرید کر گھر بسائے جو سراسر اپنے ساتھ زیادتی ھے دوسرے نمبر پر پراپرٹی مافیا کا بڑا ہاتھ ہے پراپرٹی مافیانے غریبوں کو لالچ دیکر وہ سب پرانے ندیوں کے کناروں کودائیں بائیں سے تعمیر کرواکر فروخت کرائیں کوئٹہ میں جہاں تناہی ہوئی ہے اس میں مشرقی بائی پاس پشتون آباد پہاڑی کےدامن میں آباد علاقے انتہائی متاثر ہوئے ہیں نواں کلی جو سیاحتی مقام ہنہ اوڑک سے انےوالے سیلابی ریلوں کے زد میں تھا ہنہ اوڑک کو ذرائع کے مطابق 1994کے بعد اس طرح کے سیلابی صورتحال کاسامناہے سیلابی صورتحال میں جہاں بادلوں نے گرجنے کے ساتھ ساتھ برسنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی وہی ہمارے حکمران بھی ایک دوسرے کے خلاف گرجنے کے ساتھ ساتھ خوب برسیں اقتدار کے اس جنگ میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے غفلت کاجو مظاہرہ کیا تاریخ اس کو معاف نہیں کریگی تاریخ یہ لکھےگی کہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں رعایا دریاؤں میں مچھلی ڈھونڈنے کے بجائے اپنے پیاروں کے لاشیں تلاش کرنے میں مصروف تھیں
تاریخ یہ لکھےگی کہ ریاست اپنے دشمن ریاست کی طرف سے آبی دھشتگری کا شکار تھا لیکن یہاں ایک ریاست مدینہ کا جھوٹا دعویدار اپنے ایک ڈاکو کووزارت اعلیٰ کے منصب پر فائز کرنے میں مصروف تھا تاریخ یہ بھی لکھےگی کہ جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان میں ایک شخص دریاکے کنارےایک چلاتارہا کہ میرے بچے کہاں ھے میری بیوی کہاں ہے وہ سب دریا میں ڈوب گئے تھیں اور ڈیرہ کا بزدار اپنے ڈاکودوست کو اپنا منصب عنایت فرمارہاتھااور تاریخ یہ بھی لکھےگی کہ ملک کا وزیراعظم جب سیلاب زدہ علاقوں کے دورے پہ آرھے تھیں تو ہر کوئی کریڈٹ لینے میں مگھن تھا یہ سب وہ عناصر ہیں جو عوام کو ریلیف دینے میں ہمیشہ پیچھے پیچھے رھیں ھے لیکن ایسے مواقع پہ یہ لوگ سب سے سبقت لے جانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں لیکن تاریخ یہ بھی لکھے گی کہ اس ملک ناپرسان میں ایک ایسی شخصیت بھی تھی جس کا نہ کوئی سرکاری عہدہ تھااور نہ ہی کسی صوبے میں حکومت تھی بس اپنے رضاکارون کی تنظیم انصار الاسلام کوحکم دیا کہ عوام کو اپنے مدد آپ کے تحت ریسکیو کیاجائے اور تاریخ ایسے لوگوں کو سنہری الفاظ میں یاد رکھے گی اس ملک خداداد کا اللہ ہی حفاظت فرمائے