کیا جنگلی حیات بلوچستان کے پہاڑوں میں محفوظ ہے؟
تحریر: صاحبزادہ عتیق اللہ
جنگلی حیات کتنی اہم ہے اور کیوں ختم ہوتی جارہی ہیں اس کی کیا وجوہات ہے اگر یہ بھی کہے کہ یہ وائلڈ لائف کے طرف سے غفلت ہے تو بھی غلط نہیں .
بلوچستان نہ صرف حسین قدرتی مناظر سے سجی سرزمین ہے بلکہ یہ قدرتی وسائل سے بھی مالا مال ہے یہاں نایاب اور خوبصورت جانور بھی پائے جاتے ہیں جو اس کے حسن کو چار چاند لگاتے ہیں، یہاں پائے جانے والے جنگلی بکرے مارخور کو قومی جانور ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
بلوچستان میں چنکارہ ہرن، گولڈن چیتا،اڑیال،لومڑی، مخصوص بلی یعنی سینڈ کیٹ اور مختلف اقسام کے سانپ، کچھوے،چھپکلی اورکئی اقسام کے پرندے بھی پائے جاتے ہیں،نایاب جانوروں میں کئی ایسے بھی ہیں جن کے ختم ہوجانے کا خدشہ لاحق ہے۔
اس کی بڑی وجہ غیرقانونی شکار اور ان کےلئےضروری مخصوص ماحول اورسہولیات کی کمی ہے،جس کےباعث ان کی تعداد کم سےکم تر ہوتی جارہی ہے۔اس کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتا ہے کہ اب ہزارگنجی نیشنل پارک میں سلیمان مارخور کی تعداد چند سو رہ گئی ہےکیونکہ میرے سامنے ایک مارخور و بندر جو مغربی چکور پارک میں موجود تھا مگر اس کی دیکھ بال نہ ہونے کے وجہ سے وہ اس دنیا میں نہیں رہی اب یہ غفلت کیا عام عوام کی ہے یہاں محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کی اس طرح کافی زیادہ جنگلی حیات جو اب مررہے ہیں یا تو شکار کے لپٹ میں آکے وہ نہیں رہے پاتے ہے کوئٹہ کے اطراف کوہ چلتن ، کوہ تکتو، کوہ زرغون کے پہاڑوں میں اور اس طرح کوئٹہ سے باہر بلوچستان کے مختلف اضلاع کے پہاڑ میں جنگلی حیات موجود ہےجن کی خیال نہیں رکھی جاتی ہے اور باہر سے آنے والے مائگرٹی پرندے جن کا شکار کیا جاتا ہے اس سے حوالے سے ہم نے ایک ایکسپرٹ فوٹوگرافر کوئٹہ کے نوجوان وائلڈ لائف فوٹوگرافر ماین خان، جو بلوچستان کے متعدد علاقوں میں جنگلی جانوروں کا مشاہدہ کر چکے ہیں۔
ان سے انٹرویو کی توانہوں نے انٹرویو کے دوران خاص کر شکار کے حوالے سے یہ کہتے ہوا کہا کہ شکار کا موسم دنیامیں سردیوں کے موسم سے شروع ہوجاتی ہیں اور اکتوبر کے مہینے سے فروری تک چلتا ہےاور اس موسم کو ہنٹینگ موسم کہا جاتا ہے اور جو ماہر شکاری ہو یا لیگل شکاری ہو وہ اس موسم میں شکار کرتے ہیں۔
شکار دو قسم کے ہوتے ہے جس کو نام دیاہے بیگ گیم اور اسمل گیم ۔
بیگ گیم میں بڑی جانور یعنی مارخور، چھیتا، ہاتھی وغیرہ اور اسمل گیم میں تلور، چکور، تیتر، خرگوش وغیرہ شامل ہے ۔
دنیا میں قانونی طور پہ شکار کرنے والے شکاری جو انٹرنیشنل ادارہ cities سائٹسس سے لائیسنس جاری ہونے کے بعد مختلف ممالک میں نایاب جانوروں کے شکار کرتے ہیں ۔
اگر بات کیا جائے بلوچستان صوبے کی جہاں بہت نایاب نسل کے جنگلی حیات موجود ہے اور یہاں غیر قانونی طور پہ شکار ہوتے ہے بلکہ شکار کے موسم سے ہٹ کے گرمیوں کے موسم میں بھی شکار کرتے رہتے ہے اور شکار کے دوران شکارکرنے والا اس چیز کا خیال بھی نہیں رکھ پاتے ہے کہ کس عمر کے جانور کا شکار کرنا چائیے حالانکہ وہ نہ بوڑی جانور کا بلکہ بچے اور جوان جانور کا بھی شکار کرتے ہے اس طرح بھیڑیا جس کو دشمن سمجھ کے اس کی زیادہ سے زیادہ شکار ہوتی ہے جو نایاب جانور میں شمار ہے اور اس کے رکھنے کا فائدہ شکار کرنے والے کو پتا تک نہیں ہوتا اور اس طرح مارخور و تلور جو بہت نایاب جانور ہے انکے بھی شکار ہوتی ہیں جو بلوچستان میں عام ہے۔
بلوچستان میں غیر قانونی شکار کے وجہ سے آج ایسے نایاب جانور جس کی نسل نہ ہونی کے برابر ہے جو ختم ہوئے ہیں ان کو انگلیش میں افغان یوریل اور بلنکو یوریل کہا جاتا ہے جو پہاڑوں کے بکرے ہیں ۔
بلوچستان میں اس وقت قانونی طور پہ دو جگہوں میں شکار ہوتی ہے ایک تور غر اور درجی۔ اور ان دو جگہوں پہ سال میں قانونی ٹورفی اہنٹنگ کیے جاتے ہے اسٹیپ این جو او تورغر قلعہ سیف اللہ اور درجی لسبیلہ میں باہر سے آنے والے شکاری مارخور و اڑیال کی شکار کرتے ہیں ایک مارخور کی شکار کرنے کا لائسنس کی قیمت بتایا جارہا ہے کہ 2 کروڑ اور اڑیال کی لائسنس کی قیمت 50لاکھ سے60 لاکھ ہے مارخور کی شکار کرنے کے بعد شکاری اس کا سنگ اپنے ساتھ لے جاتے ہے ۔
عرب ممالک سے شیخ تلور کے شکار کے لیے بلوچستان کو آتے ہے اور یہاں پشتون و بلوچوں کے علاقے میں شکار کرتے ہے اور ان کے ساتھ تلور کو پکڑ نے کےلیے فالکن بھی ہوتے ہے جیسے باز کہا جاتا ہے ایک رپورٹ کے مطابق تلور کے شکار کرنے کے لیے گورنمنٹ کے جانب سے لائسنس جاری ہونے کے بعد مختص تعداد میں تلور کے شکار کیا جاسکتا ہے یا تو پکڑ سکتے ہےمگر اس کے باوجود لاتعداد تلور کے شکار ہوتی یا تو پکڑ ی جاتی ہیں اور اس چیز کا خیال نہیں رکھتے ہے چونکہ سال کے آخر میں باہر سے آنے والے پرندے اس علاقوں کو مئگیرٹ کرتے ہے جس سے جنگلی حیات کے تعداد میں کمی دیکھنے کو ملا رہا ہیں اور جن جنگلی حیات کے جوڑوں کو نقصان ہورہے ہیں اور اس طرح بازروں میں تلور کو بیچ نے کو باقاعدہ بڑے بڑے ڈیلر بیٹھے ہیں جو اس کو مہنگا گم میں بیچ تھے ہے کیونکہ تلوار میں بھی دو قسم ہے جسکو سیکر تلور اور جہر تلور کہتے ہے جو بہت قیمتی ہے اور اسکو غیر قانونی طریقے سے مارکیٹ میں سودا کیے جاتے ہیں۔
- Advertisement -
اگر دیکھا جائے بلوچستان میں اس وقت دو جہگوں میں 95 % فیصد غیر قانونی طریقے سے شکار ہورہی ہیں جو بہت نقصان دی ہے اگر تکتو پہاڑ کی بات کیا جائے ینگ لڑکوں کے ہاتھ میں ہیرگن جو نایاب پرندوں کے شکار کرتے ہے اور اطراف کے پہاڑوں میں بھی یہی حال ہے ۔
بلوچستان کے وزیراعلٰی جناب عبدالقدوس بزنجوسے التجا ہے کہ اس طرح کے غیر قانونی شکار کرنے والے کے خلاف سخت عملدرآمد لایا جائے اور وائلڈلائف کے صوبائی سیکرٹری جنگلی حیات کو پابند کیا جائے تاکہ جنگلی حیات کے مخصوص ماحول اورسہولیات کی کمی کو دور کرے تاکہ ان نایاب جانوروں و پرندوں کی نسل کو محفوظ رکھے۔