اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیر دفاع خواجہ آصف نے سوال اٹھایا ہے کہ عمران خان جیسی باتیں اگر کسی قوم پرست رہنما نے کی ہوتیں تو کیا ہوتا؟۔انہوں نے جیو نیوز کے پروگرام آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کے خلاف غداری کے مقدمات نہیں بنانے چاہئیے، عمران خان کو خود کو تباہ کرنے کے لیے چھوڑ دینا چاہئیے۔
خواجہ آصف نے کہا کہہ وزیراعلیٰ کے پی کے محمود خان نے کہا تھا کہ وہ افغانستان منتقل ہو جائیں گے۔اگر سندھ اور بلوچستان کے وزرائے اعلیٰ کہا ہوتا کہ وہ بھارت منتقل ہو جائیں گے تو پھر کیا ہوتا۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ آج ہو گا۔جنگ اخبار کی رپورٹ کے مطابق عمران خان پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے لگائی جا سکتی ہے۔
- Advertisement -
وزارت داخلہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ 25 مئی کو وفاقی دارالحکومت پر مسلح چڑھائی اور وفاق و صوبوں سے عدم وفاداری کی گئی۔ دفعہ 124 کے تحت کیس میں ملزم کو عمر قید اور جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔عمران خان کے ساتھی ملزمان میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ گلگت بلتستان بھی شامل ہیں۔رپورٹ کے مطابق عمران خان پر غداری کا مقدمہ کرنے یا نہ کرنے پر وزارت داخلہ میں کابینہ کمیٹی کا اجلاس آج ہوگا۔
گذشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے بیانات پر کمیٹی بنا ئی۔ وزیر داخلہ رانا ثناء اللّٰہ کمیٹی کے سربراہ ہونگے جبکہ دیگر ممبران میں قمر زمان، ایاز صادق، اسعد محمود، اور وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ شامل ہیں۔ وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں لانگ مارچ اور دیگر امور کا جائزہ لیا گیا ہے۔
وزیرداخلہ راناثنااللہ نے وفاقی کابینہ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی اہلکار کے پاس اسلحہ نہیں تھا۔ رانا ثنا اللہ نے کہا25مئی کو پی ٹی آئی کی جانب سے لانگ مارچ کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی۔خیبر پختونخوا حکومت کے وسائل کواستعمال کیاگیاان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی نے ایک دن پہلے خیبرپختونخوا ہاوس میں مسلح جتھوں کو جمع کیا۔ گلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ نے بھی پولیس پر حملہ کیا۔کوئی سیاسی سرگرمی نہیں تھی واضح طور پر ریاست پر حملے کی کوشش تھی۔