MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

ہم پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں، جسٹس منیب اختر کا فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ

0 222

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد(مسائل نیوز)پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس میں کارروائی کا حصہ بننے کی فاروق ایچ نائیک کی درخواست پر جسٹس منیب اختر نے کہاکہ میڈیا کہہ رہا ہے اعلامیہ کے مطابق سیاسی جماعتیں بنچ پر عدم اعتماد کررہی ہیں،ہم پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں، اگر اعلامیہ واپس لیاہے تو آپ کو سن لیتے ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا التوا کیس کی سماعت ہوئی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بنچ میں شامل تھے،سیکرٹری دفاع، سیکرٹری الیکشن کمیشن، ڈپٹی سیکرٹری داخلہ عدالت میں پیش ہوئے ۔

چیف جسٹس نے فاروق ایچ نائیک سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ کیا آپ کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ جی کارروائی کا حصہ ہیں،ہم نے تو بائیکاٹ کیا ہی نہیں تھا۔

- Advertisement -

چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ اخبار میں تو کچھ اور لکھا تھا،جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ ایک طرف بنچ پر اعتراض کرتے ہیں، دوسری طرف کارروائی کا حصہ بھی بنتے ہیں ، حکومتی اتحاد اجلاس کا اعلامیہ پڑھ کر سنائیں،جو زبان اس میں استعمال کی گئی۔

کامران مرتضیٰ نے کہاکہ ہمارے تحفظات بنچ پر ہیں،فاروق ایچ نائیک نے کہاکہ درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر تحفظات ہیں ، بنچ کے دائرہ اختیار پر بھی تحفظات ہیں ۔

جسٹس منیب اختر نے کہاکہ میڈیا کہہ رہا ہے اعلامیہ کے مطابق سیاسی جماعتیں بنچ پر عدم اعتماد کررہی ہیں،ہم پر اعتماد نہیں ہے تو دلائل کیسے دے سکتے ہیں، اگر اعلامیہ واپس لیاہے تو آپ کو سن لیتے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ اگر بائیکاٹ کرنا ہے تو عدالتی کارروائی کا حصہ نہ بنیں،بائیکاٹ نہیں کیا تو لکھ کردیں،اکرم شیخ وکیل نے کہاکہ وکالت نامہ واپس لینے تک وکیل دلائل دے سکتے ہیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ وکالت نامہ دینے والوں نے ہی عدم اعتماد کیا ہے، اکرم شیخ وکیل نے کہاکہ وکیلوں کا عدالت آنا ہی اعتماد ظاہر کرتا ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.