MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

قوم کو مہنگائی ،نااہلی نالائقی اور بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو مریم نواز نے عدم اعتماد پر ووٹنگ کا دن ’یوم نجات‘ قرار دے دیا

0 284

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

اسلام آباد (مسائل نیوز) پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے عدم اعتماد پر ووٹنگ کا دن ’یوم نجات‘ قرار دے دیا ۔ تفصیلات کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اپنے ایک پیغام میں انہوں نے کہا کہ قوم کو مہنگائی، نا اہلی، نالائقی اور تاریخ کی ہر لحاظ سے بدترین حکومت سے نجات مبارک ہو ، اب اچھے دن آئیں گے۔

مسلم لیگ ن کی نائب صدر نے وزیراعظم عمران خان کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ پارلیمان پر حملہ کرنا یاد ہے نا؟ آج انشاءاللّہ پارلیمان ہی تمہیں گھر بھیجے گی۔

- Advertisement -

دوسری جانب حزب اختلاف اتحاد کی جماعتوں نے قومی اسمبلی میں اسپیکر اسد قیصر کے خلاف بھی تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی ، اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پر 100 سے زائد ارکانِ قومی اسمبلی کی جانب سے دستخط کیے گئے ، اپوزیشن اتحاد کی طرف سے ایاز صادق ، خورشید شاہ ، نوید قمر اور شاہدہ اختر علی نے اسپیکر کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرائی۔

ادھر وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کے لیے قومی اسمبلی اجلاس سے متعلق اہم دستاویزات پہنچا دی گئی ، قومی اسمبلی میں آج کے اہم اجلاس سے متعلق اہم دستاویزات پہنچائی گئی ہیں ، اس موقع پر سکیورٹی کے بھی سخت انتظامات کیے گئے ، دستاویزات بنڈل کی شکل میں اسمبلی لائی گئیں ، جس میں آج کی کارروائی سے متعلق نکات درج ہیں دوسری طرف وزیراعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کے بعد اسمبلی سے استعفیٰ دینے کے آپشن پر غور شروع کر دیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور تحریک انصاف نے تحریک عدم اعتماد کے بعد دیگر آپشنز پر غور شروع کر دیا ، تحریک عدم اعتماد میں حکومت کو ناکامی حاصل ہونے کے بعد وزیراعظم اسمبلیوں سے استعفے دینے کا کارڈ استعمال کر سکتے ہیں ، وزیراعظم عمران خان کو تجویز دی گئی ہے کہ کرپٹ حکمرانوں کے ساتھ اپوزیشن میں بیٹھنے سے بہتر ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان اور اتحادیوں کی جانب سے اجتماعی استعفے دئیے جائیں ، استعفوں سے نئی حکومت بحران سے دوچار ہو جائے گی کیوں کہ وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر الیکشن میں جانا ان کے لیے سود مند ثابت ہو گا ، کیوں کہ اتنی سیٹوں پر الیکشن کرانا مشکل ہو گا ،اس لیے یہی مشق پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی بیک وقت کی جائے گی ، یہاں واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی تعداد 155 ہے جب کہ قومی اسمبلی 342 نشستوں پر مشتمل ہے۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.