حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان معاہدے میں اہم پیش رفت
اسلام آباد (مسائل نیوز)حکومت اور مذہبی جماعت کے درمیان معاہدے میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
ذرائع محکمہ داخلہ کے مطابق پنجاب میں مذہبی جماعت کے 800 سے زائد کارکنوں کی رہائی کافیصلہ کیا گیا ہے۔
اسٹیرنگ کمیٹی کے دوسرے اجلاس کے بعد کارکنوں کی رہائی کافیصلہ کیاگیا، پہلے مرحلے میں ان کارکنوں کورہا کیا جائے گا جو براہ راست تشدد میں شامل نہیں۔
ذرائع محکمہ داخلہ کا کہنا ہےکہ رہائی پانےوالے کارکنوں کو نقص امن کے پیش نظر حراست میں لیا گیا تھا۔
دوسری جانب شیخوپورہ میں مذہبی جماعت کے کارکنان کی رہائی کا عمل جاری ہے،50 کے قریب کارکنوں کو رہا کردیا گیا۔
ذرائع کے مطابق قتل کے مقدمے میں نامزد کارکنان رہا ہونے والوں میں شامل نہیں۔
- Advertisement -
اس سے قبل ترجمان مذہبی جماعت کا کہنا تھا کہ مذاکرات کامیاب یا ناکام کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہوگا، امید کرتے ہیں جو بھی اعلان ہوگا وہ اسلام اور پاکستان کے مفاد میں ہو۔
واضح رہےکہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان سے علمائے کرام کے وفد نے بھی ملاقات کی۔
ملاقات میں علماء کرام نے وزیراعظم سے سعد رضوی کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ اگر عدالتیں سعد رضوی کو رہا کرتی ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے سعد رضوی کی رہائی کا فیصلہ عدلیہ پر چھوڑ دیا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ فرانس کے سفیر کو نکالنا مسئلے کا حل نہیں ، دنیا کو توہین رسالت سے متعلق سمجھانا ہوگا ، ماضی میں کسی وزیراعظم کو اس موضوع پر بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، دنیا کو بتانا ہوگا کہ یہ کرنے سے اربوں مسلمانوں کے دل دکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عشق رسولﷺ صرف مذہبی جماعت میں نہیں سارے مسلمانوں میں موجود ہے ، حکومت لانگ مارچ پر تشدد نہیں کرنا چاہتی ، فائرنگ مظاہرین کی جانب سے کی گئی ، پولیس نے تشدد کا راستہ نہیں اپنایا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ علماء کرام نے وفاقی وزیر فواد چوہدری کے بیانات پر اعتراضات کیے اور ان کے بیانات کا حوالہ بھی دیا۔