عدالت نے شہباز گل کی بیرون ملک سے واپسی پر گرفتاری سے روک دیا
اسلام آباد (مسائل نیوز) عدالت نے تحریک انصاف کے رہنماء شہباز گل کی بیرون ملک سے واپسی پر گرفتاری سے روک دیا ، پی ٹی آئی کی درخواست پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ اطہر من اللہ نے احکامات جاری کردیے ۔ تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کی جانب سے فیصل چودھری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تو چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا استفسار کیا کہ شہباز گل کہاں پر ہیں؟ اس پر ان کے وکیل نے بتایا کہ 28اپریل کو امریکا گئے تھے، 4مئی کو ان کی واپسی ہے ، اسلام آباد،فیصل آباد، اٹک، جہلم،کراچی و دیگر شہروں میں مقدمات درج کیے گئے، سیاسی طور پر انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، پٹیشنر عدالت کے سامنے پیش ہونا چاہتے ہیں، شہباز گل سمیت دیگر کیخلاف 11 مختلف مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
- Advertisement -
بتاتے چلین کہ مسجد نبویﷺ میں حکومتی وفد کے ساتھ پیش آئے واقعے کی بناء پر تحریک انصاف قیادت کے خلاف دائر مقدمات کو عدالت میں چیلنج کردیا گیا ، اس حوالے سے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری کی طرف سے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی گئی ہے ، فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کی لیگل ٹیم میں شامل ایڈوکیٹ فیصل فرید اور ایڈوکیٹ علی بخاری کے توسط سے یہ درخواست دائر کی ، اسسٹنٹ رجسٹرار ہائی کورٹ اسد خان نے درخواست وصولی کی تصدیق کردی۔
درخواست میں موقف اپنایا گیا ہے کہ ایف آئی اے یا پولیس کا کوئی بھی ایکشن غیر قانونی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے ، کس بنیاد پر مقدمات دائر کیے گئے وجوہات سے آگاہ کیا جائے ، مقدمات میں نامزد افراد کو ہراساں کرنے سے روکا جائے ، ملک بھر میں درج مقدمات کو ریکارڈ پر لانے کی ہدایت کی جائے ، پٹشنرز اور ان کے ساتھیوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی سے روکا جائے۔
خیال رہے کہ مسجد نبوی ﷺ واقعے کے الزام میں فیصل آباد کے بعد اٹک میں بھی عمران خان اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ، نیا مقدمہ اٹک کے تھانہ ایئرپورٹ میں درج کیا گیا جس میں عمران خان کے ساتھ فواد چوہدری ، قاسم سوری ، مراد سعید ، شیخ رشید اور دیگر کئی افراد کو نامزد کیا گیا ہے ۔ اس سے پہلے مسجد نبویؐ میں پیش آئے واقعے پر فیصل آباد میں بھی تحریک انصاف کے چيئرمین عمران خان، شیخ رشید، فواد چوہدری، شہباز گِل، قاسم سوری ، انیل مسرت اور صاحبزادہ جہانگیر سمیت 150 افراد کے خلاف پرچہ کاٹا گیا ہے ، فیصل آباد میں درج کیے گئے مقدمے میں توہینِ مذہب کی دفعہ سمیت 4 دفعات لگائی گئی ہیں۔