وزیر اعظم شہباز شریف کا عوام کو بجلی کے معاملے میں ریلیف دینے کا فیصلہ
اسلام آباد (مسائل نیوز) وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو بجلی کے معاملے میں ریلیف دینے کا فیصلہ کر لیا۔وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک سے مہنگا تیل منگوا کر بجلی بنانے کے بجائے شمسی توانائی سے پیدا کی جائے۔وزیر اعظم شہباز شریف نے فیصلے پر عملدرآمد کی منظوری دے دی ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کے قیمتی زرمبادلہ کی بچت کے لیے بنیادی قدم اٹھایا ہے۔
منصوبے کے تحت مہنگے درآمدی ایندھن کی جگہ سولر پاور سے 10 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہو گی۔پہلے مرحلے میں سرکاری عمارتوں، بجلی اور ڈیزل سے چلنے والے ٹیوب ویلز کے لیے سولر پاورسے بجلی دی جائے گی۔وزیر اعظم شہبازشریف نے سولر پاور پلانٹس کی جلد تعمیر کی ہدایت کی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے گرمیوں کا آئندہ موسم شروع ہونے تک عوام کو بجلی کی فراہمی میں خاطر خواہ ریلیف فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
- Advertisement -
وزیر اعظم نے متعلقہ اداروں کو منصوبے پر ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔آئندہ ہفتے تمام اسٹیک ہولڈرز کی بولیوں سے پہلے پری بڈ کانفرنس منعقد کرنے کی بھی ہدایت کی۔خیال رہے کہ حکومت نے ستمبر کیلئے پہلا مہنگائی بم گرا دیا گیا، ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی مزید مہنگی کر دی گئی۔نیپرا نے ایک ماہ کیلئے بجلی مزید 4 روپے 34 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی منظوری دیدی۔
نیپرا نے بجلی قیمتوں میں اضافے کی منظوری جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں دی، جبکہ سی پی پی اے نے 4 روپے 70 پیسے فی یونٹ اضافہ مانگا تھا۔ جولائی میں ایف سی اے کی اصل لاگت 10 روپے 98 پیسے تھا، جولائی میں ریفرنس فیول لاگت 4 روپے 69 پیسے بنتا ہے، میرٹ آرڈر کی خلاف ورزی سے 7 ارب 52 کروڑ کا اضافی بوجھ پڑا۔ آر ایل این جی کی قلت کے باعث 6 ارب 93 کروڑ کی نقصان ہوا، سسٹم خرابیوں کے باعث 46 کروڑ سے زائد کا نقصان ہوا۔ نیپرا حکام کے مطابق فیصلے سے بجلی صارفین پر 59 ارب 70 کروڑ روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔