MNN News
مسائل آپ کے اجاگر ہم کرینگے

کان مہترزئی میں سیلاب متاثرین کو بے یار و مدد چھوڑ دیا گیا ہے،چاندنی کاکڑ

0 665

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

متاثرہ علاقوں میں روڈ سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے، بجلی کا نظام تباہ، علاقے میں پینے کا پانی ختم، متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے،سماجی کارکن
متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے حکومتی و انتظامی مشنری کو حرکت میں لائی جائے ، متاثرین سے گفتگو، پینے کا پانی اور حفاظتی اقدامات کی سخت ضرورت ہے، متاثرین کی گفتگو
مسلم باغ (مسائل نیوز) سماجی کارکن چاندنی کاکڑ نے کہا ہے کہ کان مہترزئی میں سیلاب متاثرین کو بے یار و مدد چھوڑ دیا گیا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں حکومتی و انتظامی مشنری اپنا کام نہیں کررہی ، صرف منظور نذر لوگوں کو نوازا جارہا ہے، ضرورت مندوں کی ضروریات پوری نہیں کی جارہی جس کی وجہ سے متاثرین کو مزید مشکلات درپیش ہیں۔ ان خیالات کا اظہار سماجی کارکن چاندنی کاکڑ نے کان مہترزئی زغلونہ ، مارپال، الکئی زغلونہ، یعقوب کاریز، لالوزئی کاریز، کاریزات ملا جمعہ خان اور دیگر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر کہا کہ سیلاب متاثرین کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ کان مہترزئی کے علاقے میں متاثرین سیلاب کو شدید جانی و مالی نقصان پہنچا ہے سیلابی پانی لوگوں کے گھروں میں داخل ہوکر مکانات تباہ کرچکیں ہیں، متاثرین کھلے آسمان تلے بیٹھے دوسرے بارش یا سیلابی ریلے سے بچاﺅ کیلئے امداد کے منتظر ہیں لیکن حکومت و انتظامیہ کی جانب سے کوئی امدادی اقدام نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کلی زغلونہ ،کلی مارپال اور کلی الکئی زغلونہ میں متعدد افراد سیلابی ریلوں کی نذر ہوگئے ہیں اور متعدد افراد زخمی ہوگئے ہیں جنہیں طبی سہولیات میسر نہیں ہےں۔ علاقے میں کسی قسم کا ہیلتھ سینٹر قائم نہیں کیا گیا ہے جہاں عوام کو بروقت ابتدائی طبی امداد فراہم کی جاسکے۔ چاندنی کاکڑ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کے علاقوں تک رسائی کیلئے بنائے گئے روڈ سیلابی ریلے میں بہہ گئے ہیں اور آمدورفت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہوچکا ہے راستوں میں جگہ جگہ پر بڑے بڑے کڈھے پڑھ گئے ہیں جس کی وجہ سے علاقہ مکینوں کو آمدورفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ انتظامیہ اور نمائندے روڈوں کی خستہ حالی کے باعث شدید متاثرہ علاقوں تک نہ ہی خود پہنچ سکتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کی امداد مذکورہ متاثرین کو فراہم کی جاسکی ہیں۔انہوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ علاقے کے روڈوں کی بحالی کیلئے مشینری فراہم کرے اور متاثرہ روڈوں پر آمدورفت کو یقینی بنائیں تاکہ علاقہ مکینوں کو ایمر جنسی کی صورت میں آمدورفت میں آسانی ہوں۔ سماجی کارکن نے کہا کہ علاقے میں آبنوشی کا ذریعہ کنووں تک محدود ہیں سیلاب کے باعث علاقہ مکینوں کو پینے کے پانی کی شدید قلت کا سامنا کرنا پڑرھا ہے انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فی الفور کان مہترزئی زغلونہ ، مارپال، الکئی زغلونہ، یعقوب کاریز، لالوزئی کاریز، کاریزات ملا جمعہ خان و دیگر متاثرہ علاقوں کے عوام کو پینے کا صاف پانی کی فراہمی کو یقینی بنائیں تاکہ متاثرین کی داد رسی ہوسکیں۔ انہوں نے کہا کہ متاثرہ علاقوں میں روڈوں کی تباہی کے علاوہ مواصلاتی نظام، بجلی کی فراہمی کا نظام تہس نہس ہوگیا ہے متاثرہ علاقوں کے تقریباً تمام بجلی کے تمام کھمبے ٹوٹ گئے ہیں جس کی وجہ سے علاقے میں بجلی کی فراہمی مکمل طور پر منقطع ہوگئی ہیں۔ سماجی کارکن چاندنی کاکڑ سے متاثرین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کیلئے آنیوالا امدادی سامان منظور نذر لوگوں کو فراہم کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے حاجت مند اور ضرورت مند افراد رہہ جاتے ہیں۔ متاثرین کا کہنا تھا کہ علاقے کو اس وقت سب سے زیادہ ایک تو ضرورت پینے کے پانی کی ہے جس کی وجہ سے ہماری ازیتوں میں مزید اضافہ ہورہا ہے اور دوسرا ہمیں حکومتی مشنری کی سخت ضرورت ہے تاکہ ہم مزید سیلابی صورتحال سے خود کو محفوظ کرسکیں۔ اس موقع پر سماجی کارکن نے سیلاب کے باعث جاں بحق ہونیوالے بچوں اور خواتین کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے انہیں ہر قسم کی امداد کی یقین دہانی کروائی ۔

Get real time updates directly on you device, subscribe now.

Leave A Reply

Your email address will not be published.