پنجاب اور کے پی میں انتخابات ، حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر کیا حکمت عملی اپنائے گی ؟ حامد میر نے بڑا دعویٰ کر دیا
اسلام آباد (مسائل نیوز)سینئر صحافی حامد میر کا کہناتھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق حکومت پاکستان اور الیکشن کمیشن کو 90 روز میں الیکشن کروانا ہے لیکن وہ اس پر عملدرآمد نہیں کروائیں گے ، اپریل 2023 میں آئین پاکستان کو پچاس سال پورے ہورہے ہیں ، اگلے ہی مہینے 90 روز پورے ہونے ہیں، 9 اپریل کو الیکشن کی تاریخ دی گئی ہے ،اگر الیکشن ہوتاہے تو سپریم کورٹ کے بارے میں یہ بات سامنے آ گئی کہ آئین پر عملداری کروائی ہے ہے لیکن صاف نظر آ رہاہے کہ حکومت اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں کروائے گی ۔
سینئر صحافی حامد میر نے سپریم کورٹ کے پنجاب اور خیبر پختون خوا میں 90 روز میں الیکشن کے حکم پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ میں اسی فیصلے کی توقع کر رہا تھا ، یہ واضح تھا کہ دو ججز ایک طر ف اور تین ایک طرف ہیں، کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ عدالت خود تاریخ دینے کا فیصلہ نہیں کرے گی بلکہ یہی کہے گی کہ 90 روز میں الیکشن کروائیں، صدر پہلے ہی تاریخ دے چکے ہیں، سینئر ججز نے کہا کہ 90 رو ز میں الیکشن کروایا جائے ، پنجاب میں الیکشن کی تاریخ دینا صدر کا اختیار ہے لیکن کے پی کے میں صدر کا اختیار نہیں ہے ، وہا اسمبلی گورنر نے توڑی ہے تو سارا بوجھ گورنر کے پی کے کے کندھوں پر آئے گا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تمام فیصلوں پر عملدرآمد کرنا ریاستی اداروں کی ذمہ داری ہے ، ہر کوئی یہی کہے گا ، وکلاءصاحبا جو کہہ رہے تھے کہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں ہے ، اس کے بعد جو فیصلہ آیاہے ، اب وہ بھی یہی کہیں گے کہ اس پر عملدرآمد ہونا چاہیے ۔
- Advertisement -
حامد میر کا کہناتھا کہ مجھے لگتاہے کہ اب عملدرآمد نہ کرنے کے حیلے بہانے تلاش کیئے جائیں گے ، الیکشن کمیشن کہے گی کہ ہم تو عملدرآمد کیلئے تیار ہیں، اس لیے ہمیں فنڈ اور سیکیورٹی چاہیے ، وزارت خزانہ اور داخلہ کا موقف بھی آ چکاہے ، ایک بحران سے نکلے ہیں اور دوسرا شروع ہو جائے گا ،پھر نئی پٹیشن دائر کی جائیں گی، سب کو پتا تھا کہ یہ فیصلہ آئے گا، اس کے بعد سب کہہ رہے تھے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہو گا، حکومت الیکشن کمیشن کی مدد نہیں کرے گی ، الیکشن کمیشن بھی عملدرآمد نہیں کرنا چاہتا ،اس کے بعد سٹیک ہولڈرز کی جانب سے نئی پٹیشن آئے گی جس چیف الیکشن کمشنر ، وزیراعظم پاکستان ، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ پر توہین عدالت لگائی جائے ، یہ معاملہ اس طرح چلتا رہے گا ۔
سینئر صحافی کا کہناتھا کہ جو عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے انہیں اس فیصلے میں ایک فائدہ یہ ہے کہ دو ججز نے اختلاف کیاہے ، تین نے حق میں دیا ہے ، مجھے لگتاہے کہ بحران ختم نہیں ہو گا، اس میں ایک پہلو یہ بھی ہے کہ پیپلز پارٹی ، ن لیگ اور جے یو آئی کے وکلاءآپس میں گفتگو کررہے تھے کہ صدر نے جو نو اپریل کو انتخابات کا حکم نامہ جاری کیا ہے وہ پنجاب کی حد تک تو ٹھیک ہے لیکن کے پی کے میں اس صدر کے وکیل نے بھی اعتراف کیاہے کہ درست نہیں ہے ، کے پی کے میں اسمبلی گورنر نے تحلیل کی ہے ، ، اب صدر تنقید کی زد میں آئیں گے ، کہ ان کی طرف سے بڑی غلطی ہوئی ہے ، جسے آئینی بلنڈر قرار دیا جارہاہے ، صدر پاکستان کو اس پر وضاحت کرنی چاہیے کہ وہ اس طرح کے بلنڈر کیوں کرتے ہیں، پچھلے سال جب عمران خان نے اسمبلی توڑی ، تو سپریم کورٹ نے بھی کہا کہ غلط توڑی گئی ہے ، وہاں پر بھی غلط ثابت ہوئے ۔