سی پیک سے جڑے گوادر کے عوام
تحریر:کنول زہرا
آٹھ ستمبر، 1958 کو پاکستان نے عمان سے گوادر انکلیو خریدا اور یوں گوادر باضابطہ طور پر پاکستان کا حصہ بنا۔
پاکستان کی حکومت نے یکم جولائی، 1977 کو گوادر کو ایک نو تشکیل شدہ ضلع گوادر کے ضلعی ہیڈ کوارٹر کے طور پر اور 2011 میں بلوچستان کے سرمائی دارالحکومت کے طور پر صوبے میں شامل کیا۔
2002
میں گوادر کی بندر گاہ پر کام شروع ہوا, 2015
میں پاکستان اور چین کے مابین سی پیک معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کے تحت چین نے اب تک پاکستان میں 62 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ہدف طے کیا ہے جو 15 سال میں مکمل کیا جائے گا۔ اس سرمایہ کاری کا بڑا حصہ بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے عمل میں بہتری لانے پر خرچ کیا جانا ہے۔
نئی سڑکوں اور نئے ریلوے ٹریک کی تعمیر کے لیے بھی خاصی رقم مختص کی گئی۔ گوادر پورٹ کی تعمیر و ترقی کو سی پیک کا دل تسلیم کیا جاتا ہے، جس کے تحت چین مشرق وسطیٰ اور افریقہ کی منڈیوں تک کم سفری اخراجات اور کم وقت میں تجارت کر سکے گا, پاکستان کے لئے گیم چینچر منصوبہ بھارت کے لئے بھیانک خواب کی صورت اختیار کرنے لگا
بھارتی بحریہ کے چیف ایڈ مرل مہتا کے مطابق گوادر کی بندرگاہ آبنائے ہرمز کی خارجی گزرگاہ سے محض 180 ناٹیکل میل کے فاصلے پر واقع ہے، ایسی صورت میں پاکستان توانائی کی عالمی شہ رگ کا کنٹرول سنبھال کر بھارتی آئل ٹینکروں کیلئے رکاوٹ کا سبب بن سکتا ہے۔ سریش مہتا نے کہا تھا کہ چین بحر ہند میں اپنی توانائی کی آبی گزرگاہ کو محفوظ بنانے کیلئے اس کی راہ میں اپنے اڈوں کا قیام چاہتا ہے اور یہ گزرگاہ شمال کی جانب گوادر کی گہری بندرگاہ تک آتی ہے۔ ایڈ مرل مہتا کے مطابق گوادر سے کراچی کیلئے سڑک اور اسے قراقرم ہائی وے تک توسیع دینے کا منصوبہ چین کو بحر ہند تک رسائی دے گا۔ بھارت اور بھارتی بحریہ کے سربراہ کو اس وقت ہی گوادر کی اہمیت کا بخوبی انداز ہو گیا تھا۔ پاکستان کی ترقی اور چین کی پوزیشن کو مستحکم ہوتا دیکھ کر دشمن متحرک ہوا اور صوبہ بلوچستان اور وزیرستان میں بم دھماکوں, ریاست اور افواج فوج کے خلاف مہم جوئی کا آغاز ہوا,انشا الله پاکستان سی پیک کی تکمیل کے بعد پاکستان آسان زمینی راستے کے ذریعے سے چین کے علاوہ افغانستان، ایران اور تمام ایشیائی ریاستوں سے منسلک ہوگا۔ گوادر کی بندر گاہ محل وقوع کی وجہ سے بھارت کی پہنچ سے مکمل باہر ہے اس لیے بھارت کے پیٹ میں درد ہوتا ہے, بھارتی نیوی کا جاسوس کل بھوشن یادیو کراچی اور بلوچستان میں افراتفری کرانے میں بھارتی اثرو رسوخ کا اعتراف بھی کرچکا ہے, سی پیک کو متنازعہ بنانے کے لئے بھانت بھانت کی آوازیں بھارتی خوف گھٹی گھٹی چیخیں ہیں.یہ بات درست ہے کہ گوادر کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں, تاہم پاکستان سمیت ان کی خوشحالی بھی سی پیک کی تکمیل سے مشروط ہے, پاکستان اور چین مخالف لابیز سی پیک کے معاہدے کو مکمل ختم کرنے کی خواہاں رہی ہیں, جس میں انہیں کامیابی نہیں ملی ہے تاہم اس منصوبے کو سست کرنے میں سبقت لے گئی ہیں, پھر
کارونا وائرس کی وجہ سے سی پیک تاخیر کا شکار ہوا, اس کے علاوہ سابق وزیراعظم عمران خان کی حکومت کی جانب سے چینی آئی پی پیز سرمایہ کاروں دیر سےواجب الادا رقم دینا بھی اس منصوبے کے مکمل ہونے میں تاخیر کا سبب بنا ہے, آئیں ذرا گوادر کی حق دو تحریک پر بھی ایک نظر ڈال لیتے ہیں
حق دو تحریک‘ گذشتہ سال نومبر میں گوادر سے شروع ہوئی, جسے پھر پورے بلوچستان میں وسعت دے کر ’حق دو تحریک بلوچستان‘ کردیا گیا تھا۔ اس تحریک نے صوبے کے بلدیاتی انتخابات کے دوران اپنے حمایتی امیدوار بھی کھڑے کیے تھے، جن میں سے اکثر نے کامیابی حاصل کی تھی, اس تحریک کا مقصد بلوچستان کے عوام کو حق دلانا ہے, اپنے اس مقصد کے تحت یہ تحریک آئے دن احتجاج کرتی نظر آتی ہے, اس تحریک نے حکومت کے سامنے مندرجہ ذیل معاہدات رکھے ہیں
– حکومت اور دھرنے کے منتظمین کے ساتھ ہونے والے معاہدے میں ٹرالر مافیا کے حوالے سے کہا گیا کہ آئندہ اگر کوئی ٹرالر اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی حدود میں پایا گیا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
– معاہدے کے مطابق مانیٹرنگ اور ٹرالنگ کی روک تھام کے لیے جوائنٹ پیٹرولنگ کی جائے گی، جس میں انتظامیہ اورماہی گیر شامل ہوں گے اور ماہی گیر نمائندگان کو باقاعدہ فشریز کے آفس میں ڈیسک دیا جائےگا۔
– معاہدے میں لکھا گیا تھا کہ 12 ناٹیکل کو 30 ناٹیکل میل میں تبدیل کرنے کی تجویز متعلقہ فورم کو بھیجی جائے گی۔
– ماہی گیروں کوسمندر میں جانےکی آزادی ہوگی اور وی آئی پی موومنٹ کے دوران بلاضرورت عوام الناس کی نقل و حرکت کو محدود نہیں کیا جائے گا۔
– معاہدے کے مطابق ٹریڈ یونیز/ کمیٹی کے خاتمے کا آرڈر کیا جائےگا۔ بارڈر کاروبار ضلعی انتظامیہ کے مرتب کردہ ضابطہ کار کے مطابق بحال کیا جائےگا۔ بارڈر تجارت ایف سی سے ضلعی انتظامیہ کے حوالے کی جائے گی اور انہیں تمام اختیار دیے جائیں گے جبکہ ٹوکن، ای ٹیگ، میسیج اور لسٹنگ وغیرہ کا خاتمہ کیا جائےگا اور ان مطالبات پر ایک مہینے کے اندر عمل درآمد ہوگا۔
– معاہدے میں کہا گیا تھا کہ ضلع گوادر،کیچ اور پنجگور میں غیر ضروری چیک پوسٹوں کے خاتمے کے لیے مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی، جو سروے رپورٹ مرتب کرے گی اور غیر ضروری چیک پوسٹوں/ چوکیوں کے خاتمےکی سفارشات پیش کرے گی۔
– اسی طرح کوسٹ گارڈ اور کسٹم کے پاس جتنی بھی بوٹس، کشتیاں، لانچیں اور گاڑیاں موجود ہیں، انہیں ریلیز کرنے کے لیے صوبائی حکومت ہر قسم کا تعاون کرے گی۔
– یہ بھی طے پایا تھا کہ وزیراعلیٰ ضلع گوادر کے ماہی گیروں کی امداد کے لیے مخصوص پیکج کا اعلان کریں گے اور ایکپسریس وے کے متاثرین کا دوبارہ سروے کرکے جلد معاوضہ ادا کیا جائے گا۔
– اسی طرح سمندری طوفان سے متاثرہ ماہی گیروں کی امداد کے لیے ڈی سی آفس سے کوآرڈینیٹ کرکے لائحہ عمل طے کیا جائےگا۔
– معاہدے کے مطابق وفاقی/ صوبائی محکموں میں معذور کوٹے پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
– حق دو تحریک کے کارکنان کے خلاف درج تمام مقدمات ختم کیے جائیں گے اور تحریک کے قائد کا نام فورتھ شیڈول سے فوری خارج کیا جائے گا۔
– دھرنے کے بعد حق دو تحریک کے کسی بھی کارکن کے خلاف انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔
قوم پرست تنظیموں کی علیحدگی پسند سوچ کی وجہ سے بھی سی پیک تعطل اور تاخیر کا شکار رہا ہے, ملک کی ترقی و کامرانی کے لئے اس قسم کی سوچوں کی حوصلہ شکنی بے حد ضروری ہے, یہ حوصلہ شکنی انہیں بنیاد سہولیات دیکر باآسانی ممکن ہوسکتی ہے, صوبائی حکومت کو اس جانب توجہ دینا ہوگی کیونکہ
بات چیت سے بہت سے مسائل کا حل نکال سکتا ہے لوگوں کو غربت سے نکالنے کی زمے داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔