موبائل بے راہروی کا سبب
تحریر،ایم فاروق انجم بھٹہ
- Advertisement -
انسانی زندگی کی جد ید ترین سہولتوں میں سب سے نمایاں موبائل فونز، کمپوٹر اورانٹر نیٹ ہیں جنہوں نے دنیا کو ایک گلوبل ولیج میں تبدیلی کر کے رکھ دیا ہے، فاصلے کم اور دوریاں ختم کر دی ہیں۔ 21 ویں صدی کے اس دور میں دیگر سائنسی ایجادات کی طرح موبائل فون بھی زندگی کا حصہ بن چکا ہے۔
لیکن افسوس کا مقام ہے کہ اس ایجاد سے استفادہ کرنے کے بجائے جھوٹ، عریانی، فحاشی و بے راہ روی میں بھی بے انتہا اضافہ ہو رہا ہے موبائل فون کے میسج سسٹم نے محبت ناموں اور عشقیہ خطوط کے نظام کو فرسودہ قرار دے دیا ہے اب ہر لڑکی اور لڑکے کے پاس اپنا موبائل فون ہے جیسے مہینوں میں بھی ان کے باپ یا بھائی چیک نہیں کرتے اور اسکولوں، کوچنگ سینٹروں اور انگلش لینگوئج سنٹرز اور یونیورسٹیز اور کالجوں میں پڑھنے والی لڑکیاں اپنے دوست احباب اور عشاق کے ساتھ باآسانی ہر وقت یہاں تک کہ رات گئے بھی دل کی بات کہہ سکتی ہیں۔ اللہ پاک ہم سب کو اس بری عادت سے بچائے۔ علاوہ ازیں موبائل کمپنیوں کی طر ف سے پیش کئے جانے والے پرکشش پیکیزز (منصوبے پروگرام) اور انکی طرف امادہ کرنے والے بے ہودہ سائن بورڈز معاشرے کو کسی صحت مند تفریح کی طرف نہیں بلکہ ایک بند گلی کی طرف لیے جا رہے ہیں۔اسکے علاوہ مختلف موبائل کمپنیوں کی طرف سے مختلف طریقوں سے ایک پرکشش پیش کش بذریعہ میسج ہی موصول ہوتی ہے اور وہ اس طرح کہ وہ بذریعہ میسج آپکو ایک کوڈ نمبر بتاتے ہیں جس کو ڈائل کرنے پر آپ کو اسی کمپنی کی طرف سے جاری کردہ پانچ مختلف نمبرز مہیا کیے جاتے ہیں آپ ان نمبروں پر بات کیجئے اب یہ آپ کی قسمت ہے کہ وہ نمبر کس کے ہوتے ہیں۔بعض اوقات یہ نمبرز خواتین کے بھی ہوتے ہیں ایک مرتبہ بات ہونے کے بعد ان سے دوستی بھی ہوجاتی ہے اور پھر نوبت کہیں سے کہیں جا پہنچتی ہے۔ یہ موبائل کمپنیاں جو نوجوان نسلوں کو ایک نشے کی طرح ختم کر رہی ہیں یہ بندہ ناچیز تو ان کمپنیز کو منشیات فروشوں سےبھی زیادہ گناہ گار اور سماج دشمن سمجھتا ہے کیونکہ منشیات فروش تو انسان کی زندگی کو موت میں تبدیل کرتے ہیں لیکن یہ موبائل کمپنیز اور ان کے مختلف پیکجز دینے والے تو نوجوان نسلوں کو سماج میں ایک مجرم اور سماج میں بدنام کرنے اور ناکام اور گناہ گار اور جہنمی بنارہے ہیں۔ مثلاً آج کل مختلف کمپنیوں نے ایسے پیکجز دینے شروع کئے ہیں کہ رات کے 12 سے لے کر صبح 7 بجے تک دو روپے فی گھنٹہ سے بات کریں آخر یہاں غور کرنے والی بات تو یہ ہے کہ کیا اس سے کاروباری لوگ فائدہ حاصل کر رہے ہیں یا نوجوان نسل اپنے آپ کو اس خطرناک مرض میں مبتلا کرتے ہوئے اس برائی کو استعمال کرتے ہیں اور ساری ساری رات ایک نوجوان لڑکا کسی نامحرم لڑکی سے پانچ پانچ چار چار گھنٹے بات کرتا ہے جب صبح کی اذان ہوتی ہے تو ان کی رات شروع ہوتی ہے اور صبح کی نماز پڑھے بغیر سو جاتے ہیں نہ اسکول نہ کالج یونیورسٹی اور نہ ہی دوسرے کسی شعبہ زندگی میں کام کاج سب چیزوں سے رہ جاتے ہیں اور اگر کسی کام کاج سے جاتےبھی ہو تو لیٹ ہو کر جاتے ہیں اور نیند پوری نہیں ہوتی تو کچھ ہی عرصے میںمختلف جسمانی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں سماجی برائیاں تو تھی ہیں اب جسمانی بھی شروع ہونے لگیں۔ حالانکہ مختلف تحقیق کرنے والوں نے یہ کہا ہے کہ انسان کےلیے چوبیس گھنٹوں میں سے آٹھ گھنٹے سونا ضروری ہے صحت مند ہونے کے لیے اور یہ تو راتوں کو ایک دوسروں سے باتیں کرنے میں اتنے مگن ہیں کہ سونے کا خیال ہی کہاں۔ ہائے افسوس یہ ہماری قوم کے نوجوان کل کے معمار کہاں اپنے آپ کو کس تباہی کی طرف لے جارہے ہیں۔ بہت افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ جیسا کرو گے ویسا بھروگے جو نوجوان لڑکے دوسروں کی بچیوں کے ساتھ ساری ساری رات باتیں کرتے ہیں وہ یہ بات بھی نہ بھولیں کہ ان کی بہنوں بچیوں کے ساتھ بھی کوئی نہ کوئی ضروربات کر رہا ہوتا ہے۔ یہ نوجوان اگر ان کو پتہ چلے کہ ایک لڑکا ہر روز رات کو انکی بہن یا بیٹی کے ساتھ موبائل پر باتین کرتا ہے تو اس شخص کو قتل کرنے میں کوئی قصر نہیں چھوڑے گا کہ اسنے میری بہن یا بیٹی سے بات کر کے میری گھر کی عزت پر ہاتھ ڈالا ہے مگر اے بندے بے خبر کیا تو دوسروں کی بچیوں کے ساتھ ساری ساری رات بات کرتے وقت یہ سوچا تھا کہ یہ بھی کسی کی بہن ہے بیٹی ہے جیسی کرنی ویسی بھرنی۔
بہت افسوس ہوتا ہے جب ان کمپنیوں کا کوئی پیکج آتا ہے ایک تو یہ پیکج دن کے وقت نہیں ہوتے اور ہوتے بھی ہیں سارے اکثر رات کو اور دن کے وقت اگر کچھ ہیں بھی تو وہ ان رات والے پیکجز کادفاع کرنے کے لیے۔ یہ کمپنیاں عام حالت میں تو نوجوانوں کو تباہ کر ہی رہی ہیں لیکن افسوس کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں وہ راتوں کو ایسے مفت پیکج دیتے ہیں تاکہ بندہ پوری رات اللہ کی عبادت کرنے کے بجائے ایک دوسروں سے باتیں کریں اللہ سے باتیں کرنے کے بجائے نامحرم لڑکا لڑکی ایک دوسرے سے باتیں کریں اور پھر سحری کھا کر سو جائیں اور افطار کے وقت اٹھ کر کہتے ہیں کہ یار آج کل دن تو بہت جھوٹے ہو گئے ہیں۔
آئیے دعاکریں کہ اللہ پاک ہم سب مسلمانوں کو اس برائی سے بچائے اور ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطاء فرمائے اور دیناوی لغویات سے ہماری حفاظت کرئے۔آمین۔