اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈراسٹینڈنگ کیلئے کوشش جاری ہے
اسلام آباد (مسائل نیوز)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ لفظ نیوٹرل پر بات نہیں کرنا چاہتا، فوج کا آئین میں کردار واضح ہے،میری کوشش ہے سب کو بٹھا کر ڈائیلاگ کراؤں ، معیشت اور انتخابات دو معاملات ٹیبل پر ہیں۔ انہوں نے آج نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میری کوشش ہے سب کو بٹھا کر ڈائیلاگ کراؤں ، میری کوششوں کی کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ خاموشی اختیار کروں۔
دہشتگردی کا قانون بنا ہے لیکن ضرورت نہیں کہ اس کو کسی پر فٹ کیا جائے،فوج کا آئین میں کردار واضح ہے، لفظ نیوٹرل پر بات نہیں کرنا چاہتا، یہ متنازع معاملہ ہے،فوج کا خارجہ پالیسی اور امن وامان کے حوالے سے فوج کا آئینی کردار ہونا چاہیے، ملک میں سب سے بڑے اسٹیک ہولڈرز سیاستدان ہیں،کیونکہ عوام میں انہوں نے جانا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ معیشت اور انتخابات دو معاملات ٹیبل پر ہیں ، میں بروکر نہیں ہوں مگر چاہتا ہوں لوگوں کو بٹھا کر بات کراؤں۔
- Advertisement -
کوشش ہے کہ معیشت پر انڈراسٹینڈنگ ہوجائے،اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ انڈراسٹینڈنگ کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان بھلے چوروں کے ساتھ چوری پر بات نہ کرنے بیٹھیں۔جب پی ٹی آئی حکومت ہٹائی گئی تو عمران خان فرسٹریٹ ہوگئے، اسمبلی میں نہ جانے کا فیصلہ عمران خان کا ذاتی تھا مجھ سے پوچھتے تو کوئی اور مشورہ دیتا، اب پانی سر سے گزر گیا،عمران خان اپنی باتوں کا جواب خود دیں گے۔
میری کوشش صرف یہ ہے کہ لوگوں کو بٹھاؤں کہ ڈائیلاگ کرو اورdon’t extremism urself کامیابی یہی ہے کہ میں کوشش کروں اور خاموشی اختیار کروں تاکہ ڈائیلاگ کی راہ ہموار ہو۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کا حکومت اور پی ٹی آئی کو ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی طرز پر ڈائیلاگ کا مشورہ۔ منافرت کو اس حد تک نا لے جائیں کہ قوم بھگتے، اگر 24 گھنٹے صرف مقابلہ ہوتا رہے گا تو ملک کا کیا بنے گا۔